سی ڈی اے کا بڑا اقدام: دارالحکومت میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے 23 کمرشل بلڈنگ پلانز کی منظوری، بائی لاز میں آسانیاں لانے کی تیاری

منصور احمد, August 23,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی کے گزشتہ چار اجلاسوں میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے سلسلے میں کمرشل بلڈنگ پلانز کے مجموعی طور پر 23 کیسز کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے۔ سی ڈی اے حکام کے مطابق، وزیراعظم، وزیرِ داخلہ اور چیئرمین سی ڈی اے کی خصوصی ہدایات پر کاروبار اور تعمیراتی عمل میں حائل رکاوٹوں کو ختم کیا جا رہا ہے تاکہ وفاقی دارالحکومت میں تجارتی و معاشی مواقع میں اضافہ ممکن ہو سکے۔

سی ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق، 4 جون، 16 جون، 30 جولائی اور 20 اگست 2026ء کو منعقد ہونے والے ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی کے گزشتہ چاروں اجلاسوں میں مجموعی طور پر 40 کمرشل بلڈنگ پلانز کے مختلف کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ان 40 کیسز میں سے 8 کیسز ضروری دستاویزات اور تکنیکی تقاضے پورے نہ ہونے کے باعث متعلقہ آرکیٹیکٹس اور سپانسرز نے اجلاس سے قبل ازخود واپس لے لیے تھے۔ بعد ازاں کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے 32 کیسز میں سے تمام ریگولیٹری تقاضے پورے کرنے والے 23 کیسز کی منظوری دی گئی، جبکہ بنیادی پارکنگ، ڈیزائننگ اور دیگر ضروری پیرامیٹرز کی کمی کے سبب باقی کیسز کو وقت طور پر ملتوی کر دیا گیا، جنہیں ضروری اصلاحات کے بعد دوبارہ پیش کیا جائے گا۔

تعمیراتی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سی ڈی اے نے آرکیٹیکٹس، کنسلٹنٹس اور عمارتوں کے مالکان کے لیے نئی اور سخت ذمہ داریاں بھی عائد کر دی ہیں۔ اب ڈی وی سی کی حتمی منظوری کے خط پر مالک اور آرکیٹیکٹ کا نام درج ہونے کے ساتھ ساتھ زیرِ تعمیر سائٹس پر بھی تمام ذمہ داران کے نام بورڈز پر آویزاں کرنا لازمی ہوگا۔ منظور شدہ ڈیزائن میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی تبدیلی یا بائی لاز کی خلاف ورزی کی صورت میں مالکان اور کنسلٹنٹس دونوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ بائی لاز میں موجود پیچیدگیوں کو ختم کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے تاکہ پارکنگ اور کمرشل قوانین کا جائزہ لے کر مزید آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔ شہری اور سرمایہ کار اپنے کیسز کا جائزہ آن لائن پورٹل کے ذریعے بھی لے سکتے ہیں۔