راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلادھار بارش سے نشیبی علاقے زیرِ آب، بہارہ کہو ڈوب گیا؛ نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند، راولپنڈی میں پری الرٹ نافذ

منصور احمد, August 01,2026

راولپنڈی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلادھار بارشوں کے بعد شدید طغیانی اور ندی نالوں میں ابال آنے سے بیشتر نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔ اسلام آباد کا مضافاتی علاقہ بہارہ کہو بارشی پانی میں مکمل ڈوب گیا ہے، جبکہ راولپنڈی کے متعدد تجارتی و رہائشی علاقوں میں ندی نالوں کا پانی جمع ہونے سے شہریوں اور تاجروں کو شدید مشکلات اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بہارہ کہو میں نکاسیِ آب کا موثر اور بروقت انتظام نہ ہونے کے باعث بارشی پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا جس سے شہریوں کا قیمتی سامان تباہ ہو گیا اور تمام اہم شاہراہیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگی ہیں۔ دوسری جانب راولپنڈی کی مصریال روڈ فرینڈز کالونی میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک بچہ تیز بارشی پانی میں ڈوب گیا۔ اس کے علاوہ راولپنڈی کے مشہور راجہ بازار کے ماڈل بازار میں پانی جمع ہو گیا اور دکانوں کے اندر پانی داخل ہونے سے تاجر برادری کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

نالہ لئی میں پانی کی سطح میں مسلسل اور تیز رفتاری سے اضافہ ہو رہا ہے۔ فلڈ کنٹرول روم کی رپورٹ کے مطابق راولپنڈی کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 10 فٹ جبکہ گوالمنڈی کے مقام پر 9 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث گوالمنڈی کے مقام پر باقاعدہ ‘پری الرٹ’ (Pre-Alert) نافذ کر دیا گیا ہے، واضح رہے کہ کٹاریاں پر پری الرٹ لیول 11.4 فٹ مقرر ہے۔

محکمہ موسمیات اور فلڈ کنٹرول روم کے مطابق نالہ لئی بیسن میں اوسط بارش 54.51 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔ سب سے زیادہ بارش کچہری چکلالہ میں 103 ملی میٹر ریکارڈ ہوئی، جبکہ شمس آباد میں 71، سیدپور ویلیج میں 67، پی ایم ڈی (ایچ ایٹ) میں 63، پیرودھائی میں 60، نیو کٹاریاں میں 58، گولڑہ میں 51 اور بوکھڑا کے مقام پر 41 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ متعلقہ انتظامیہ اور ریسکیو ادارے نالہ لئی اور تمام حساس نشیبی علاقوں میں صورتحال کی 24 گھنٹے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔