لاہور ہائیکورٹ نے رہائشی علاقے میں قائم پلاسٹک فیکٹری کے خلاف پیرا کی کارروائی کو درست قرار دے دیا، فیکٹری ختم کرنے کا حکم برقرار، پیر کے روز فورس کی موجودگی میں آپریشن کرنے کی ہدایت

کاشف عباسی ,june 19,2026

لاہور (قانونی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم ترین فیصلے میں رہائشی علاقے میں قائم غیر قانونی پلاسٹک فیکٹری کے خلاف پنجاب انوائرمنٹل ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی کارروائی کو سو فیصد درست اور قانونی قرار دیتے ہوئے فیکٹری کو فی الفور ختم کرنے کا حکم برقرار رکھا ہے، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس جاوید اقبال وینس نے نجی پلاسٹک فیکٹری کے مالک کی جانب سے دائر کردہ اپیل پر تفصیلی سماعت کی، کارروائی کے دوران چیف پراسیکیوٹر پیرا بیرسٹر مدثر اسحاق اپنے قانونی معاونین کے ہمراہ عدالتِ عالیہ میں پیش ہوئے۔

دورانِ سماعت پیرا کے مقتدر وکیل بیرسٹر مدثر اسحاق نے ٹھوس شواہد پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ رہائشی علاقے میں زہریلا دھواں اور ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والی فیکٹری کے خلاف عوامی شکایات موصول ہوئی تھیں، جن کی بنیاد پر کی جانے والی یہ کارروائی پیرا کے قانونی دائرہ اختیار اور ایکٹ کے تحت بالکل آئینی ہے، دوسری جانب فیکٹری کے وکیل نے دفاعی استدلال پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فیکٹری کو مستقل بند کرانا یا اس کا وجود ختم کرانا پیرا فورس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا بلکہ یہ مخصوص معاملہ خالصتاً محکمہ ماحولیات کا ہے اس لیے اتھارٹی کی کارروائی کو کالعدم قرار دیا جائے۔

عدالتِ عالیہ نے فریقین کے مقتدر دلائل اور سٹرٹیجک قوانین کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیکٹری انتظامیہ کی درخواست کو یکسر مسترد کر دیا، لاہور ہائیکورٹ نے پیرا فورس کے ایکشن کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے کڑا حکم جاری کیا کہ پیر کے روز پیرا فورس کی بھاری نفری کی موجودگی میں رہائشی علاقے سے اس پلاسٹک فیکٹری کو مکمل طور پر ختم کر کے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔