

روزینہ اسماعیل, August 31,2026
بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء
چین نے تبت کے سرحدی علاقوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد معلومات کی شفافیت سے متعلق اٹھنے والے بین الاقوامی سوالات کے جواب میں کہا ہے کہ حکومت آفت کی صورتحال سے متعلق تمام تر معلومات ’کھلے، شفاف اور بروقت انداز میں‘ عوام اور میڈیا کو جاری کر رہی ہے۔
اس سے قبل گزشتہ سنیچر کے روز برطانوی خبر رساں ادارے (بی بی سی) نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ نیپال اور تبت کے درمیان اہم ترین مرکزی سرحدی گزرگاہوں میں سے ایک ‘گییرونگ پورٹ’ میں پانی کے تیز اور تباہ کن بہاؤ سے ہونے والی تباہی کی ڈرامائی اور خوفناک ویڈیو کلپس کو چین کے اندر سوشل میڈیا سے ہٹایا اور سینسر کیا جا رہا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اب تک چین کے مرکزی سرکاری ٹیلی ویژن کے اہم نیوز بلیٹن میں اس ہولناک واقعے کی صرف ایک ہی تصویر نشر کی گئی ہے۔
پیر کے روز بیجنگ میں ایک پریس بریفنگ کے دوران جب صحافیوں نے ویڈیو کی مبینہ سینسرشپ اور خبریں چھپانے کے حوالے سے سوال کیا تو چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ‘گو جیاکون’ نے سينسرشپ پر براہِ راست تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ’آفت سے نمٹنے اور امدادی کارروائیاں ہنگامی بنیادوں پر لیکن انتہائی منظم انداز میں جاری ہیں۔‘
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے عالمی میڈیا اور ناقدین پر سخت تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’چین کو بدنام کرنے یا قدرتی آفت کو بنیاد بنا کر صورتحال کو سنسنی خیز بنانے کی کسی بھی کوشش کو عوامی سطح پر کوئی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔‘ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔