
محمود احمد, September 02,2026
میکسیکو سٹی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء
میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شین بام نے اپنی قوم کی خودمختاری، قومی وقار اور آزادی کے تحفظ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دنیا بھر کو واضح پیغام دیا ہے کہ ان کا ملک تمام ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعاون، مذاکرات اور مفاہمت کا خواش مند ہے، تاہم تعاون کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میکسیکو کسی کے سامنے جھکے اور نہ ہی دوستی کا مقصد اپنے بنیادی اصولوں سے دستبردار ہونا ہے۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، صدر کلاؤڈیا شین بام نے تاریخی ‘نیشنل پیلس’ میں اپنی حکومت کی دوسری باضابطہ سٹیٹ آف دی یونین تقریر کے دوران عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک انہیں میکسیکو کی صدر کے طور پر عوام کی خدمت کرنے کا اعزاز حاصل ہے، وہ ملک کی جغرافیائی و سیاسی خودمختاری، وقار اور حریت کا ثابت قدمی سے دفاع کرتی رہیں گی۔
اپنے اس اہم خطاب میں انہوں نے میکسیکو اور ہمسایہ ملک امریکہ کے سٹریٹجک تعلقات میں حائل شدو مد اور مشکلات، خصوصاً امریکہ کے اندر میکسیکن تارکینِ وطن کے ساتھ روا رکھے جانے والے نا روا سلوک کا کھلے عام اعتراف اور سخت الفاظ میں احاطہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی امیگریشن حراستی مراکز کی خراب صورتحال اور ناروا رویے کے باعث اب تک 17 میکسیکن شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ امریکہ بھر میں امیگریشن کارروائیوں اور چھاپوں کے دوران ہزاروں بے گناہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میکسیکو کی حکومت نے ان المناک واقعات پر واشنگٹن انتظامیہ کے سامنے رسمی شکایات درج کرائی ہیں اور تارکینِ وطن کے عالمی و انسانی حقوق کا مکمل احترام کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے میکسیکن شہریوں کی بڑے پیمانے پر جبری ملک بدری کے جواب میں صدر نے بتایا کہ ان کی حکومت نے (میکسیکو آپ کو گلے لگاتا ہے) کے نام سے ایک خاص ہنگامی پروگرام شروع کر رکھا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اب تک 2 لاکھ 81 ہزار سے زائد ملک بدر یا واپس بھیجے گئے میکسیکن باشندوں کی بحالی کے لیے مدد فراہم کی جا چکی ہے، جنہیں فوری گرم کھانا، آبائی علاقوں تک محفوظ نقل و حمل، بہترین طبی و نفسیاتی نگہداشت اور شناختی دستاویزات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔
امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تجارت اور سرحد پر سیکیورٹی کے حساس معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے صدر کلاؤڈیا شین بام نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور گفت و شنید کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور انہیں امید ہے کہ جلد ہی باہمی مفاہمت پر مبنی پائیدار معاہدے طے پا جائیں گے۔ سیکیورٹی تعاون کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ان کے ملک نے امریکہ کے ساتھ ایسے تمام تر معاہدے مشترکہ ذمہ داری، خودمختاری کے احترام اور بغیر کسی ماتحتی کے باہمی اعتماد کی بنیاد پر کیے ہیں۔