پنجاب حکومت نے نئے بجٹ میں تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں پر چھری پھیر دی، مجموعی طور پر ۲۳۲ ارب روپے کی ہوش رُبا کٹوتی، تعلیم کے شعبے میں ترقیاتی فنڈز کو ۵۸ فیصد تک کم کر دیا گیا، تعلیمی و طبی ترقیاتی بجٹ ۱۸۱ ارب سے گھٹ کر صرف ۷۶ ارب ۳۰ کروڑ روپے پر آگیا، اتنی بڑی کٹوتیوں کے باوجود لاہور میں ۱۶۹ ارب روپے کی خطیر لاگت سے نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ سمیت ڈی جی خان، بہاولپور اور ملتان کے ہسپتالوں کے لیے اربوں روپے کے نئے منصوبوں کا اعلان

کاشف عباسی ,june 17,2026

لاہور (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

پنجاب کے نئے مالی سال 2026/2027ء کے سالانہ بجٹ میں صوبائی حکومت نے عوام کو بڑا معاشی جھٹکا دیتے ہوئے صحت اور تعلیم جیسے بنیادی و اہم ترین شعبوں کے بجٹ میں اضافے کے بجائے نمایاں کمی کر دی ہے، روزنامہ دنیا اخبار میں سجاد کاظمی اور بلال چودھری کی شائع کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے نئے بجٹ میں صوبے کے دو سب سے اہم شعبوں کو شدید مالی دھچکا پہنچایا ہے، جہاں ایک طرف محکمہ صحت کے لیے ۵۰۰ ارب ۶۲ کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے جو صوبے کے مجموعی بجٹ کا ۱۰ فیصد سے زائد بنتا ہے، لیکن اس کے باوجود پچھلے مالی سال کے تقابل میں ایجوکیشن اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے بجٹ میں مجموعی طور پر ۲۳۲ ارب روپے کی بھاری کٹوتی کر دی گئی ہے، بجٹ دستاویزات کے اعداد و شمار کے مطابق تعلیم کے شعبے میں ترقیاتی فنڈز کو ۵۸ فیصد تک کم کر کے صرف ۶۳ ارب ۳۰ کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے، جو تعلیمی ترقیاتی بجٹ پہلے ۱۸۱ ارب روپے تھا اسے اب بے دردی سے کم کر کے صرف ۷۶ ارب ۳۰ کروڑ روپے تک محدود کر دیا گیا ہے یعنی اس مد میں ۱۰۴ ارب ۷۰ کروڑ روپے کی بہت بڑی کٹوتی کی گئی ہے، اس کے علاوہ تعلیم اور صحت کے غیر ترقیاتی بجٹ کو بھی نہیں بخشا گیا اور اسے ۴۵۰ ارب سے کم کر کے ۴۲۴ ارب ۳۲ کروڑ روپے مختص کیا گیا ہے جس میں تقریباً ۲۶ ارب روپے کی بڑی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

بجٹ میں اتنی بڑی کٹوتیوں اور معاشی جھٹکوں کے باوجود حکومت نے صوبے بھر کے لیے کئی نئے ہیلتھ منصوبوں کا اعلان بھی کیا ہے جن کے تحت صوبائی دارالحکومت لاہور میں ۱۶۹ ارب روپے کی خطیر لاگت سے اسٹیٹ آف دی آرٹ ”نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ“ شروع کیا جائے گا جس کے اندر چلڈرن ہسپتال، آرتھوپیڈک، برن اور سرجیکل یونٹس قائم کیے جائیں گے، اس کے ساتھ ہی کلثوم نواز کینسر ہسپتال ڈیرہ غازی خان کے لیے ۱۵ ارب ۲۱ کروڑ روپے، بہاولپور چلڈرن ہسپتال کے لیے ۲۳ ارب ۳۷ کروڑ روپے اور انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ کے لیے ۲۰ ارب روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، مزید برآں لاہور اور سرگودھا کے کارڈیالوجی منصوبوں کے لیے ۲۸ ارب ۹۴ کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ صوبے بھر میں ۱۵ نئے کارڈیایک سرجری یونٹس کے قیام پر ۹ ارب ۳۰ کروڑ روپے خرچ ہوں گے، وزیراعلیٰ ہارٹ سرجری پروگرام کے لیے ۲۱ ارب ۳ کروڑ روپے اور ٹیچنگ ہسپتالوں میں جدید ترین ایم آر آئی مشینوں کی فراہمی کے لیے ۸ ارب ۳۱ کروڑ روپے اور نیورو کیتھ لیبز کے لیے ۱ ارب ۷۵ کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس بجٹ پر مکسڈ ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے کیونکہ ایک طرف فنڈز کاٹے گئے ہیں تو دوسری طرف اس نئے ہیلتھ فریم ورک کے تحت ۴۳۴ بنیادی مراکزِ صحت (بی ایچ یو) کی مکمل بحالی اور اپ گریڈیشن کے لیے ۹ ارب ۶۰ کروڑ روپے، جبکہ غریب مریضوں کو معیاری ادویات کی مفت فراہمی کے لیے ۱۵ ارب ۲۱ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، گردوں کے مریضوں کے لیے ڈائیلسز پروگرام کی مد میں ۶۶ ارب ۳ کروڑ روپے اور شوگر کے مریضوں کے لیے انسولین اور ضروری ادویات پر ۵ ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، حکومت نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کی بحالی کے لیے ۲ ارب ۴۵ کروڑ روپے، نشتر ہسپتال ملتان کی اپ گریڈیشن کے لیے ۵ ارب ۱۴ کروڑ روپے اور ایمرجنسی سروسز (Rescue 1122) کی توسیع و استعداد کار بڑھانے کے لیے تقریباً ۵ ارب روپے تجویز کیے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ سینیٹ اور صوبائی اسمبلی میں اس کٹوتی پر اپوزیشن کا ردعمل کیا سامنے آتا ہے۔