نیویارک کے سرکاری سکولوں میں کم عمر طلبہ کے لیے جنریٹو اے آئی پر ایک سال کی پابندی کا اعلان

محمود احمد, September 05,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی نے شہر کے تمام سرکاری سکولوں میں کم عمر اور چھوٹی جماعتوں کے طلبہ کے لیے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال پر ایک سال کی عارضی پابندی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

حکومت کی اس نئی اور جامع تعلیمی پالیسی کے تحت 2-K سے لے کر آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے کلاس رومز اور تعلیمی تدریس کے دوران استعمال ہونے والے تمام جنریٹو اے آئی ٹولز کے استعمال کو روک دیا گیا ہے۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے حکام کے مطابق اس فیصلے سے نیویارک سٹی کے تقریباً 6 لاکھ طالب علم براہِ راست متاثر ہوں گے۔

میئر زوہران ممدانی نے پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے بچوں کو سیکھنے، تربیت حاصل کرنے اور اپنی تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھانے کے لیے مصنوعی انٹیلی جنس کی بجائے اپنے اساتذہ، زبانی گفتگو اور براہِ راست انسانی تعلق کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیکنالوجی کے ہر جگہ موجود ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسے تعلیمی سفر کے ابتدائی اور حساس مرحلے میں بھی استعمال کیا جائے۔

نئی پالیسی کے تحت تمام جماعتوں کے طلبہ کے لیے ایسے اے آئی چیٹ بوٹس پر بھی سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے جو دوست، ساتھی یا ذہنی معاونت کے طور پر کام کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں تیسری سے پانچویں جماعت کے لیے روزانہ زیادہ سے زیادہ 30 منٹ اور چھٹی سے آٹھویں جماعت کے لیے 45 منٹ اسکرین ٹائم کی حد مقرر کی گئی ہے۔

دوسری جانب ہائی سکول کے طلبہ کو اے آئی سے مکمل طور پر الگ نہیں رکھا جائے گا۔ انہیں سال میں دو مرتبہ ‘اے آئی لٹریسی’ کی تربیت دی جائے گی جس میں اس کے فوائد، تعصب اور غلط معلومات کے خطرات شامل ہوں گے۔ ہائی سکول سطح پر صرف پانچ منظور شدہ اے آئی پروگراموں کو استاد کی نگرانی میں ہفتے میں زیادہ سے زیادہ 45 منٹ کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ معیار پر پورا نہ اترنے والے 38 پروگراموں کے اے آئی فیچرز کو فوری بند کر دیا گیا ہے۔