ڈاکٹر نگہت شاہ کی ریٹائرمنٹ سے ایک روز قبل 3 سالہ تقرری کا فیصلہ: صوبائی کابینہ کی ہدایت پر قانونی اور انتظامی سوالات اٹھ گئے

روزینہ اسماعیل, August 12,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی صاحبزادی اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی (جے ایس ایم یو) کی پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ کو ریٹائرمنٹ سے محض ایک روز قبل صوبائی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں مزید 3 سال کے لیے بطور پروفیسر مقرر کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ اس تقرری کے سامنے آنے پر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کے قواعد و ضوابط اور صوبائی حکومت کی ہدایت کے درمیان واضح فرق پر سنگین انتظامی و قانونی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

سیکریٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ نوٹیفکیشن میں صوبائی کابینہ کے 5 اگست کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے وائس چانسلر جے ایس ایم یو کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ڈاکٹر نگہت شاہ کی 3 سال کے لیے بطور پروفیسر تقرری پر غور کریں۔ نوٹیفکیشن میں وائس چانسلر کو مزید کارروائی بلا تاخیر اور من و عن مکمل کر کے ترجیحی بنیادوں پر رپورٹ محکمہ بورڈز و جامعات کو فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔

اس تقرری کے لیے پی ایم اینڈ ڈی سی کے جس نوٹیفکیشن کا سہارا لیا گیا ہے، اس میں واضح لکھا گیا ہے کہ ریٹائرڈ فیکلٹی کو کنٹریکٹ پر رکھنے کا فیصلہ محض ایک سہولت کے طور پر ہے اور کوئی ادارہ اس کا پابند نہیں، بلکہ متعلقہ یونیورسٹی اپنی ضرورت اور قواعد کے مطابق فیصلہ کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ پی ایم اینڈ ڈی سی پالیسی کے مطابق ریٹائرڈ فیکلٹی کی تعیناتی سے جونیئر فیکلٹی کی سنیارٹی یا ترقیاں متاثر نہیں ہونی چاہئیں۔

اس تمام صورتحال میں یہ سوالات شد و مد سے اٹھ رہے ہیں کہ جب اختلافی اختیارات یونیورسٹی کے پاس تھے تو ایک مخصوص فرد کا کیس صوبائی کابینہ کے سامنے کیوں لایا گیا اور اس پر ہنگامی بنیادوں پر عمل درآمد کا حکم کیوں دیا گیا۔ دوسری جانب جے ایس ایم یو کی سینئر ایسوسی ایٹ پروفیسرز ڈاکٹر شازیہ نصیب، ڈاکٹر نسرین فاطمہ، ڈاکٹر صبا خان، ڈاکٹر ارم ماجد اور ڈاکٹر میمونہ رحمان کی سنیارٹی اور ترقی کے امکانات متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جس سے یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔