گل پلازہ کراچی آتشزدگی: 72 افراد کی ہلاکت، انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں بدانتظامی اور اداروں کی غفلت کی نشاندہی

روزینہ اسماعیل, August 29,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

کراچی کے گنجان اور تجارتی مرکز ایم اے جناح روڈ پر واقع مشہور تجارتی مرکز ‘گل پلازہ’ میں رواں سال 17 جنوری 2026ء کو لگنے والی ہولناک اور قیامت خیز آگ محض ایک اتفاقی حادثہ نہیں تھی، بلکہ اس دلخراش سانحے کے پسِ پشت برسوں کی مجرمانہ بدانتظامی، عمارت میں کی جانے والی مبینہ غیر قانونی ساخت کاری و تبدیلیاں، حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد میں مکمل ناکامی اور متعدد متعلقہ سرکاری و انتظامی اداروں کی جانب سے اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریوں سے مجرمانہ گریز جیسے سنگین عوامل کارفرما تھے۔

واقعے کے تقریباً آٹھ ماہ بعد سندھ ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم ایک رکنی ‘کمیشن آف انکوائری’ نے اپنی 78 صفحات پر مشتمل جامع تفتیشی رپورٹ باضابطہ طور پر جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں اس تلخ اور دردناک حقیقت کی تصدیق کی گئی ہے کہ اس ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم 72 معصوم افراد دم گھٹنے، جھلسنے اور ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوئے جبکہ درجنوں افراد عمر بھر کی معذوری کا شکار ہوئے۔

انکوائری کمیشن نے واقعے کے دوران سندھ حکومت، بلدیہ عظمیٰ کراچی ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور ريسکیو اداروں کے کردار اور ردِعمل کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہوئے یہ بنیادی اور اہم سوال اٹھایا ہے کہ جس وقت سو سے زائد شہری عمارت کے اندر زہریلے دھوئیں، آگ کے شعلوں اور اندھیرے میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے، اس وقت انہیں بحفاظت باہر نکالنے اور بچانے کی بنیادی قانونی ذمہ داری آخر کس ادارے پر عائد ہوتی تھی؟ کمیشن کے سامنے پیش ہوتے ہوئے کراچی کے معروف شہری منصوبہ ساز عارف حسن نے اس وقت کے ڈزاسٹر ردِعمل اور فائر فائٹنگ کی صورتحال کو “انتظامی افراتفری اور فکری مفلوجیت” کا نام دیا۔

سندھ ہائی کورٹ کے کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے متأثرین کے بیانات نے سماعت کے دوران دل دہلا دیے؛ ایک جاں بحق ہونے والے نوجوان کی عمر رسیدہ اور غمزدہ والدہ نے کمیشن کے سامنے روتے ہوئے بیان دیا کہ “سانحے کے وقت خاندان اور سرکاری انتظامیہ دونوں اس بھیانک منظر کے محض تماشائی بنے رہے، فرق صرف اتنا تھا کہ اندر جل کر مرنے والے ہمارے اپنے جگر کے ٹکڑے تھے”۔

کمیشن کے تفصیلی مندرجات کے مطابق، آگ ہفتہ 17 جنوری 2026ء کی دوپہر کو شارٹ سرکٹ اور عمارت میں غیر قانونی طور پر بنائے گئے کپڑے اور پلاسٹک کے گوداموں سے شروع ہوئی، جس نے سیڑھیوں کے راستوں پر تجاوزات ہونے کے باعث پوری ملٹی سٹوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر سفارش کی ہے کہ تمام قصوروار افسران، عمارت کے مالکان اور غفلت کے مرتکب ملازمین پر مجرمانہ غفلت کے مقدمات درج کیے جائیں اور شہر کی تمام تجارتی عمارات کا فوری سیفٹی آڈٹ کروایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

حکومت ایکسپلوریشن اور ریفائننگ سیکٹر میں تاریخی اصلاحات، بانڈڈ اسٹوریج اور اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے: علی پرویز ملک کا کاروباری برادری سے خطاب

منصور احمد, August 29,2026

اسلام آباد/کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کراچی کے اپنے اہم ترین دورے کے دوران اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قیادت اور پاکستان کے سب سے بڑے قومی ایندھن فراہم کنندہ ادارے پاکستان اسٹیٹ آئل کی اعلیٰ انتظامیہ سے الگ الگ اور تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں۔ ان اہم اجلاسوں کے دوران ملک کی مجموعی توانائی سلامتی پیٹرولیم کے شعبے میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے اور منافع بخش مواقع، ایندھن کی سپلائی چین کے استحکام، بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور حکومت کی جانب سے کی جانے والی جاری تزویراتی اصلاحات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دفتر کے دورے کے موقع پر وفاقی وزیر پیٹرولیم نے چیمبر کی سینئر قیادت، مختلف ملٹی نیشنل انڈسٹریز سے وابستہ نمایاں شخصیات، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے نمائندگان اور میڈیا کے نمائندوں سے تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے شرکا کو وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں تیل و گیس کی تلاش ریفائنری کے بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری اور پیٹرولیم شعبے میں سرمایہ کاری دوست ماحولیات کے قیام کے لیے کیے جانے والے ہمہ گیر اقدامات اور پالیسی ترامیم سے تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ملک کو درپیش توانائی کے چیلنجز کا تدارک کرنے کے لیے بانڈڈ اسٹوریج اور اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کے قیام کی اہمیت اور ان پر پیش رفت کو خصوصی طور پر اجاگر کیا۔

وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے اجلاس کے تمام شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان کا بنیادی مقصد ایک ایسا جدید اور متحرک پیٹرولیم شعبہ تشکیل دینا ہے جو عالمی سطح پر زیادہ مسابقتی، سرمائے کی فراہمی کے لیے انتہائی سازگار اور ملک کی طویل المدتی و پائیدار توانائی ضروریات سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اپ اسٹریم (ایکسپلوریشن)، مڈ اسٹریم (ریفائننگ) اور ڈاؤن اسٹریم مارکیٹس میں دور رس اصلاحات نافذ کر رہی ہے، جبکہ انڈسٹری سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل اور پائیدار رابطے کے ذریعے عملی نوعیت کے درپیش مسائل حل کیے جا رہے ہیں تاکہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال اور مستحکم بنایا جا سکے۔

اجلاس کے دورانکے ارکان اور سینئر قیادت نے صنعت کے نقطہ نظر کو پیش کرتے ہوئے زور دیا کہ پالیسی، قوانین اور ٹیکس کے نظام میں مسلسل اور طویل المدتی تسلسل، مکمل شفافیت اور سرمایہ کاروں کو مناسب سیکیورٹی کی فراہمی وہ بنیادی عوامل ہیں جو عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط بنا سکتے ہیں۔ کے صدر یوسف حسین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم کا شعبہ پاکستان کی معاشی سرگرمیوں، اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے ڈھانچے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر کی جانب سے کاروباری برادری کے ساتھ اس مثبت اور مسلسل رابطے کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جاری مذاکرات صنعتی مسائل کے حل اور حکومت کے اصلاحاتی اہداف کے حصول میں اہم ثابت ہوں گے۔

اسی اجلاس میں کے چیف ایگزیکٹو اور سیکرٹری جنرل محمد عبدالعلیم نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پیش گوئی کے قابل اور مستحکم ریگولیٹری ماحول کی اہمیت پر خصوصی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور انڈسٹری کے درمیان مسلسل دوطرفہ رابطوں اور زیر التوا معاشی و قانونی معاملات کے بروقت اور شفاف حل سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد مزید بڑھے گا جس سے پیٹرولیم انڈسٹری میں اربوں ڈالر کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ کی جانب سے حکومت کے ساتھ توانائی کی سلامتی اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے اس مثبت مکالمے کو آئندہ بھی جاری رکھنے کے مکمل عزم کا اعادہ کیا گیا۔

بعد ازاں، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کراچی میں واقع پی ایس او ہاؤس کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پاکستان اسٹیٹ آئل کی اعلیٰ انتظامیہ سے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران قومی توانائی سلامتی کے تحفظ، پیٹرولیم پروڈکٹس کی سپلائی چین کے مسلسل استحکام، اسٹریٹجک اسٹوریج کی گنجائش میں توسیعی منصوبوں، اور ادارے کی جدید ترین ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سمیت متعدد بنیادی امور پر باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ ملک میں ایندھن کی سپلائی کے لاجسٹک انفراسٹرکچر کو جدید بنانے اور ایندھن کی کارکردگی و پائیداری کو عالمی معیار پر لانے کے لیے بھی تجاویز زیرِ غور آئیں۔

وزیر داخلہ و پیٹرولیم کے اس دورے کے دوران علی پرویز ملک نے عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود ملک بھر میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل اور ہموار فراہمی کو یقینی بنانے پر پی ایس او کی پیشہ ورانہ کارکردگی کی بھرپور تعریف کی اور قومی پیٹرولیم سپلائی چین کے استحکام میں کمپنی کے کلیدی کردار کو سراہا۔ وفاقی وزیر نے اعادہ کیا کہ حکومت پیٹرولیم شعبے کو ری سائیکل کرنے، اسے جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے اور انفراسٹرکچر کو وسعت دینے کے لیے ادارے کو اپنی مکمل اور بلا مشروط حمایت فراہم کرتی رہے گی۔ انہوں نے پی ایس او کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ اسٹریٹجک ذخائر کی گنجائش بڑھانے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، جدید مانیٹرنگ اور آٹومیشن سے بھرپور استفادہ کریں تاکہ ایندھن کی ترسیل کے وقت اور آپریشنل اخراجات میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔

نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کے دو پولیس اہلکاروں، ایدھی ڈرائیور اور ڈاکٹر اسامہ کو نوٹسز، سماعت 1 ستمبر تک ملتوی

محمود احمد, August 28,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

کراچی میں وافلکس کے 25 سالہ شریک مالک میر رضا علی کی پراسرار ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال پر مشتمل ون مین جوڈیشل کمیشن نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے جائے وقوعہ پر پہنچنے والے دو پولیس اہلکاروں، لاش جناح ہسپتال منتقل کرنے والے ایدھی کے ڈرائیور اور ابتدائی پوسٹ مارٹم کرنے والے ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ کو باضابطہ نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ جمعے کے روز جوڈیشل کمیشن کے آغاز پر میر رضا کے والد، والدہ اور ہمشیرہ پیش ہوئے جبکہ قانون دان جبران ناصر بھی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔ یاد رہے کہ نوجوان تاجر میر رضا 28 جولائی کو گھر سے نکلے تھے اور بعد ازاں ان کی لاش گلستانِ جوہر بلاک 1 میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ملی تھی، جس کے ابتدائی پوسٹ مارٹم پر سنگین سوالات اٹھنے کے بعد قبر کشائی کر کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا۔ کمیشن نے کیس کی مزید سماعت یکم ستمبر 2026ء تک ملتوی کر دی ہے۔

سماعت کے دوران وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ سابقہ انویسٹیگیشن ٹیم نے کیس میں مجرمانہ غفلت برتی، جبکہ 29 جولائی کو بااثر افراد یا پولیس افسران کے پہنچنے سے قبل دوپہر سوا 12 بجے نرسری کے ایک ملازم کی اطلاع پر محض دو پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر آئے تھے، جس کے بعد لاش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے جناح ہسپتال منتقل کی گئی جہاں ڈاکٹر اسامہ نے متنازعہ پوسٹ مارٹم کیا۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے حکم دیا کہ سندھ حکومت اردو، انگریزی اور سندھی اخبارات میں اشتہار شائع کرائے جس میں میر رضا کیس سے متعلق معلومات دینے والے شخص کے لیے ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا جائے، نیز سندھ حکومت کو متعلقہ پولیس افسران، ڈاکٹرز کی فہرست، گواہوں کے بیانات اور تمام اصل میڈیکل ریکارڈز جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔

کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے فیروز آباد پولیس کی جانب سے انصاف کے لیے احتجاج کرنے والے پرامن شہریوں اور نوجوانوں پر مقدمات درج کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ 29 دن گزرنے کے باوجود اصل قاتلوں کا تعاقب نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے بتایا کہ جسٹس عمر سیال نے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی مکمل شفافیت کے لیے عوام کے لیے کھلی رکھی ہے اور واضح کیا ہے کہ کمیشن کا کام حقائق تلاش کرنا ہے جبکہ ملزمان کی گرفتاری اور چالان عدالت میں پیش کرنا تفتیشی پولیس کی ذمہ داری ہے۔

گڈز ٹرانسپورٹرز کے مسائل کے حل اور ایکسل لوڈ پالیسی پر وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کا اہم بیان

منصور احمد, August 17,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے گڈز ٹرانسپورٹرز کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے ساتھ کیے گئے تمام وعدے ہر صورت میں پورے کیے جائیں گے اور موٹروے پولیس کی جانب سے کسی بھی گاڑی کا ناجائز چالان نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں گڈز ٹرانسپورٹرز اتحاد کی جانب سے مذاکرات کی کامیابی کی خوشی میں اپنے اعزاز میں دیے گئے ایک پروقار استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر کا ٹرانسپورٹرز کیمپ پہنچنے پر والہانہ استقبال کیا گیا، نعرے بازی کی گئی اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ اس موقع پر گڈز ٹرانسپورٹرز اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے وفاقی وزیر کو روایتی سندھی اجرک پہنائی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عبدالعلیم خان نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز ایکسل لوڈ پالیسی کی خلاف ورزی نہ کریں کیونکہ یہ ان کے اپنے مفاد میں ہے، مقررہ حد سے زیادہ وزن لادنے سے گاڑیوں اور سڑکوں دونوں کا نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں اس معاملے کے حل کے لیے قائم کمیٹی کا چیئرمین بنایا تھا، اور مسلسل نو روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد مسائل کو باہمی رضامندی سے حل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاہراہوں پر واقع “ویٹ سٹیشنز” کے حوالے سے ٹرانسپورٹرز کی شکایات کا فوری خاتمہ کیا جائے گا، جبکہ موٹروے پولیس کے ذریعے ڈرائیورز کے لائسنس کے اجرا کا بھی مناسب بندوبست کیا جا رہا ہے۔ سیکرٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے اور آئی جی موٹرویز کو شاہراہوں کا باقاعدگی سے دورہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ قومی شاہراہوں اور موٹرویز کو عوام اور ٹرانسپورٹرز کے لیے زیادہ دوستانہ بنایا جا سکے۔

تقریب کے اختتام پر گڈز ٹرانسپورٹرز اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے مطالبات کی منظوری پر وفاقی حکومت اور عبدالعلیم خان کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر اویس چوہدری ایڈووکیٹ، امداد حسین نقوی، چوہدری قمر الزمان گل، اظہر سراج، رؤف خان بالا، ملک شیر خان اور ملک حاجی فرید سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

اینٹی کرپشن عدالتوں کو منتقل مقدمات کی نیب میں واپسی: احتساب عدالت کا 15 ریفرنسز کی بحالی پر صوبائی وزیر علی حسن بروہی سمیت دیگر کو نوٹس

محمود احمد, August 13,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 13 اگست 2026ء

سندھ ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں اینٹی کرپشن عدالتوں کو منتقل کیے گئے کرپشن کے متعدد مقدمات کی احتساب عدالتوں میں باقاعدہ واپسی شروع ہو گئی ہے۔ نیب پراسیکیوٹر کی استدعا پر احتساب عدالت نے 15 مختلف ریفرنسز کی بحالی کا عمل شروع کرتے ہوئے نامزد اہم شخصیات کو نوٹس جاری کر کے طلب کر لیا ہے۔

سندھ ہائیکورٹ نے پہلے سے اینٹی کرپشن منتقل کیے گئے نیب کیسز کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے تمام مقدمات دوبارہ نیب عدالتوں میں بھیجنے کی ہدایت کی تھی۔ عدالت کی جانب سے اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور مالی بدعنوانی کے کیسز میں بلوچستان کے صوبائی وزیر علی حسن بروہی، سندھ کے سابق چیف سیکرٹری و ممبر لینڈ یوٹیلائزیشن صدیق میمن سمیت کئی اہم انتظامی افسران اور بلڈرز کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔

طلب کیے گئے دیگر افراد میں ملیر کے سابق ڈپٹی کمشنر قاضی جان محمد، سابق ڈسٹرکٹ آفیسر ریونیو اعجاز حسین، سابق ایڈیشنل سیکرٹری عبدالقادر میمن، سابق سیکشن آفیسر غلام مصطفیٰ، ٹریژری آفیسر محمد موسیٰ کاظمی اور اسسٹنٹ ٹریژری آفیسر عبداللطیف کھوسو شامل ہیں۔ اس کے علاوہ میرپور ساکرو کے تپیدار نثار احمد وگن، علی اصغر میندھرو، سابق مختیارکار اقبال اعوان، محمد حنیف اور معروف بلڈرز جاوید اقبال اور وسیم احمد شیخ کو بھی احتساب عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

ڈاکٹر نگہت شاہ کی ریٹائرمنٹ سے ایک روز قبل 3 سالہ تقرری کا فیصلہ: صوبائی کابینہ کی ہدایت پر قانونی اور انتظامی سوالات اٹھ گئے

روزینہ اسماعیل, August 12,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی صاحبزادی اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی (جے ایس ایم یو) کی پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ کو ریٹائرمنٹ سے محض ایک روز قبل صوبائی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں مزید 3 سال کے لیے بطور پروفیسر مقرر کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ اس تقرری کے سامنے آنے پر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کے قواعد و ضوابط اور صوبائی حکومت کی ہدایت کے درمیان واضح فرق پر سنگین انتظامی و قانونی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

سیکریٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ نوٹیفکیشن میں صوبائی کابینہ کے 5 اگست کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے وائس چانسلر جے ایس ایم یو کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ڈاکٹر نگہت شاہ کی 3 سال کے لیے بطور پروفیسر تقرری پر غور کریں۔ نوٹیفکیشن میں وائس چانسلر کو مزید کارروائی بلا تاخیر اور من و عن مکمل کر کے ترجیحی بنیادوں پر رپورٹ محکمہ بورڈز و جامعات کو فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔

اس تقرری کے لیے پی ایم اینڈ ڈی سی کے جس نوٹیفکیشن کا سہارا لیا گیا ہے، اس میں واضح لکھا گیا ہے کہ ریٹائرڈ فیکلٹی کو کنٹریکٹ پر رکھنے کا فیصلہ محض ایک سہولت کے طور پر ہے اور کوئی ادارہ اس کا پابند نہیں، بلکہ متعلقہ یونیورسٹی اپنی ضرورت اور قواعد کے مطابق فیصلہ کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ پی ایم اینڈ ڈی سی پالیسی کے مطابق ریٹائرڈ فیکلٹی کی تعیناتی سے جونیئر فیکلٹی کی سنیارٹی یا ترقیاں متاثر نہیں ہونی چاہئیں۔

اس تمام صورتحال میں یہ سوالات شد و مد سے اٹھ رہے ہیں کہ جب اختلافی اختیارات یونیورسٹی کے پاس تھے تو ایک مخصوص فرد کا کیس صوبائی کابینہ کے سامنے کیوں لایا گیا اور اس پر ہنگامی بنیادوں پر عمل درآمد کا حکم کیوں دیا گیا۔ دوسری جانب جے ایس ایم یو کی سینئر ایسوسی ایٹ پروفیسرز ڈاکٹر شازیہ نصیب، ڈاکٹر نسرین فاطمہ، ڈاکٹر صبا خان، ڈاکٹر ارم ماجد اور ڈاکٹر میمونہ رحمان کی سنیارٹی اور ترقی کے امکانات متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جس سے یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

میر رضا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری: شدید تشدد اور کمر میں گولی لگنے کے شواہد، پولیس ٹیم کی تبدیلی کا مطالبہ

محمود احمد, August 08,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

کراچی میں پراسرار حالات میں جان بحق ہونے والے مقتول میر رضا کی کیمسٹری و پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں ان کے جسم، سر اور چہرے پر شدید تشدد اور فائر آرم (گولی) کے واضح شواہد ملے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے انکشافات کے بعد مقتول کے والد اور ان کے وکیل جبران ناصر نے پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اعلیٰ پولیس حکام کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کے سر، چہرے، گردن، سینے اور جسم کے متعدد حصوں پر چوٹوں اور تشدد کے گہرے نشانات پائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقتول کو قتل سے قبل جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس میں تھوڑی اور ماتھے پر سخت چوٹیں شامل ہیں۔

میڈیکل رپورٹ میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ میر رضا کے دائیں جانب اوپری کمر پر گولی لگنے کا انٹری وؤنڈ موجود ہے۔ فائر آرم کی اس انجری کے باعث مقتول کی چھٹی پسلی فریکچر ہوئی جبکہ گولی کے اثرات پانچویں پسلی تک پہنچے، جس کے نتیجے میں اندرونی خون بہا اور پھیپھڑوں میں خون جمع ہو گیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معروف وکیل اور انسانی حقوق کے رہنما جبران ناصر نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ نے پولیس کے خودکشی کے دعوؤں کو مکمل طور پر باطل ثابت کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس شفاف تفتیش کرنے کے بجائے میر رضا کے لواحقین کو ہراساں کر رہی ہے اور اے آئی جی کراچی خاندان پر واقعے کو خودکشی تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

جبران ناصر نے مزید کہا کہ “ہمیں اے آئی جی اور ایس ایس پی کراچی کی موجودہ تحقیقاتی ٹیم پر بالکل بھروسہ نہیں رہا، اسی لیے ہم پوری تفتیشی ٹیم کی تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں اور اس کے لیے عدالت سے بھی رجوع کریں گے۔” مقتول کے والد نے بھی میڈیا کے سامنے روتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے بیٹے کو بے دردی سے قتل کیا گیا ہے، لہذا قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے سچ سامنے لایا جائے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا گلستانِ جوہر میں خراب سڑکوں اور سیوریج کے مسائل کا سخت نوٹس؛ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو فوری بحالی کی ہدایت

محمود احمد, JULY 27,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کے اہم علاقے گلستانِ جوہر میں سڑکوں کی خستہ حالی اور سیوریج کے ابتر مسائل کا شدید نوٹس لیتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کو ہنگامی بنیادوں پر مسائل حل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ پیر کو وزیر اعلیٰ ہاؤس سے جاری ہونے والے باضابطہ اعلامیے کے مطابق، وزیر اعلیٰ سندھ نے علاقے کی تمام مرکزی شاہراہوں اور اندرونی سڑکوں کی فوری مرمت و بحالی کا حکم دیتے ہوئے میئر کراچی کو ہدایت کی ہے کہ وہ جاری ترقیاتی کاموں کی خود موقع پر جا کر نگرانی کریں۔ انہوں نے میئر کراچی سے سڑکوں کی پیش رفت، نکاسیِ آب کے انتظامات اور سیوریج لائنوں کی صفائی کے حوالے سے فوری اور جامع رپورٹ طلب کی ہے۔ مراد علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ تعمیراتی کاموں کے دوران شہریوں اور مسافروں کی آمدورفت میں کوئی خلل نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ عوام کو صاف ستھرا ماحول اور جدید سفری سہولیات فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ترجیح ہے۔ انہوں نے گلستانِ جوہر کے رہائشیوں کو یقین دلایا کہ ان کے درپیش تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے اور کسی بھی محکمے کی جانب سے سستی یا غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

غیر ملکی کرنسی اسمگلنگ کیس: کراچی کی کسٹمز عدالت نے کینیڈین شہری راحیل دھنانی کو 8 سال قید کی سزا سنا دی

منصور احمد, JULY 25,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

کسٹمز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی اسملنگ کراچی کی خصوصی عدالت نے اپنے اہلخانہ کے ساتھ غیر ملکی سفر کے دوران مقررہ حد سے زائد غیر ملکی کرنسی ساتھ رکھنے اور اسے ظاہر نہ کرنے کے جرم میں کینیڈین پاسپورٹ کے حامل ملزم راحیل دھنانی کو مجموعی طور پر 8 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ خصوصی جج ڈاکٹر شعبان وحید نے کسٹمز ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت ملزم کو بالترتیب 5 سال اور 3 سال قید کی سزائیں سنائیں۔ استغاثہ کے سرکاری وکیل نعمت اللہ سومرو کے مطابق ملزم 24 جنوری 2023ء کو کراچی سے بنکاک کے راستے کینیڈا جا رہا تھا اور کسٹمز حکام کے پوچھنے پر غیر ملکی کرنسی کی موجودگی سے مکمل انکار کیا، تاہم تلاشی کے دوران اس کے سامان سے 1 لاکھ 11 ہزار 400 امریکی ڈالرز اور 31 ہزار 425 کینیڈین ڈالرز برآمد ہوئے۔ عدالت نے وکیلِ دفاع کے تمام دلائل اور نادانستہ غلطی کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ملزم ایک تجربہ کار بین الاقوامی مسافر تھا اور اسٹیٹ بینک کی مقررہ حد سے زیادہ رقم بین الاقوامی لاؤنج میں لے جا کر اسے چھپانا کسٹمز ایکٹ 1969ء کے تحت دانستہ طور پر اسمگلنگ کی کوشش کے زمرے میں آتا ہے جو بغیر کسی شک و شبہ کے ثابت ہو چکا ہے۔