جنوبی لبنان میں اسرائیلی ایئر فورس کی شدید بمباری: 4 افراد جاں بحق، خواتین اور بچوں سمیت 20 زخمی

محمود احمد, September 06,2026

بیروت (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فضائیہ کے بمبار طیاروں نے ہولناک بمباری کی ہے، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 4 افراد ہلاک جبکہ 20 سے زائد شہری شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

لبنانی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں کا بنیادی نشانہ جنوبی لبنان کے تاریخی شہر نباتیہ اور عرب سلیم کے رہائشی علاقے بنے۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق نباتیہ الفوقہ میں فضائی بمباری کے نتیجے میں دو افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوئے جبکہ عرب سلیم کے قریب ایک مکان پر حملے سے دو خواتین ہلاک ہو گئیں۔ زخمی ہونے والے 20 سے زائد افراد میں تین کمسن بچے اور کئی خواتین شامل ہیں جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

دوسری جانب، اسرائیلی فوج کے ترجمان نے فضائی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ کارروائی حزب اللہ کی جانب سے سرحد پار اسرائیلی عسکری اہلکاروں اور سیکیورٹی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے دو ہتھیار بردار ڈرون حملوں کا براہِ راست جواب ہے۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جنوبی لبنان میں بنیادی طور پر حزب اللہ کے عسکری مراکز اور زیرِ زمین ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

تاہم، لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے کارروائی سے قبل عرب سلیم کی ایک مخصوص عمارت کے آس پاس کے رہائشیوں کو ہنگامی بنیادوں پر علاقہ خالی کرنے کی تنبیہ جاری کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ حزب اللہ اس عمارت کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی جنگی طیاروں نے انتباہی نوٹس میں بتائی گئی عمارت کے بجائے اس کے متصل واقع ایک اور رہائشی گھر کو بم سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہاں موجود دو بے گناہ خواتین جاں بحق ہو گئیں، جبکہ بعد ازاں وارننگ والی عمارت کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

لبنانی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ اس بربرانہ بمباری کے دوران نباتیہ شہر میں واقع تاریخی ‘غنڈور ہسپتال’ کے ایک بڑے حصے کو بھی شدید نقصان پہنچا، اگرچہ یہ ہسپتال گزشتہ کئی برسوں سے غیر فعال تھا۔ علاوہ ازیں، نباتیہ میں ہونے والے فضائی حملوں کے باعث متعدد قدیم اور تاریخی عمارتوں سمیت سرکاری مالیاتی، ریونیو اور زرعی دفاتر کی عمارتیں تباہ ہو گئیں اور شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان یہ تازہ ترین اور خطرناک فوجی تصادم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرحد کے دونوں اطراف کشیدگی عروج پر ہے اور فریقین کی جانب سے سابقہ سرحد پار سیکیورٹی معاہدوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات مسلسل عائد کیے جا رہے ہیں۔

جنوبی لبنان پر اسرائیلی جیٹس کی بمباری، علی طاہر کی پہاڑیوں اور نبطیہ کے علاقوں میں شدید دھماکے

محمود احمد, August 27,2026

بیروت (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

جنوبی لبنان میں جاری سنگین کشیدگی کے دوران اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایک بار پھر مختلف علاقوں پر شدید بمباری کی ہے، جس سے پورے خطے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی جیٹس نے جنوبی لبنان کے اہم اور حساس علاقے نبطیہ کے مشرقی نواح میں واقع علی طاہر کی پہاڑیوں کو دو مرحلوں میں ہدف بناتے ہوئے فضائی حملے کیے ہیں۔ بمباری کے نتیجے میں منٹوں میں علاقے میں مسلسل اور شدید ترین دھماکے ہوئے، جن کی گونج دور دور تک سنی گئی جبکہ نشانہ بننے والی پہاڑیوں اور آبادیوں سے دھوئیں کے سیاہ اور گہرے بادل فضا میں بلند ہوتے دیکھے گئے۔

سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے رات کی تاریکی میں بھی کارروائیاں جاری رکھیں اور مشرقی زوتار اور مفدون کے درمیان واقع علاقوں میں شدید شیلنگ اور بمباری کی۔ واضح رہے کہ علی طاہر کی پہاڑیاں جنوبی لبنان اور نبطیہ شہر کے قریب دفاعی و جیو سٹریٹجک لحاظ سے اہم علاقہ تصور کی جاتی ہیں، جہاں حالیہ عرصے میں اسرائیلی عسکری کارروائیوں اور حزب اللہ کی دفاعی سرگرمیوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خطے میں جاری صورتحال انتہائی کشیدہ اور تشویشناک ہے، جبکہ تازہ فضائی حملوں سے مزید ہلاکتوں اور تباہی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔