بجٹ شفافیت اور مالیاتی معلومات تک عوامی رسائی میں پاکستان کی بڑی پیش رفت، عالمی سکور 45 تک پہنچ گیا

محمود احمد, August 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

پاکستان نے بجٹ شفافیت، مالیاتی معلومات تک عام شہریوں کی رسائی اور جوابدہی کے نظام میں زبردست اور نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔ انٹرنیشنل بجٹ پارٹنرشپ (آئی بی پی) کے جاری کردہ اوپن بجٹ سروے 2025ء کے مطابق پاکستان کا بجٹ شفافیت سکور سال 2023ء کے 30 پوائنٹس سے نمایاں طور پر بڑھ کر سال 2025ء میں 45 پوائنٹس تک جا پہنچا ہے، جو محض دو سال کے مختصر عرصے میں 50 فیصد کی ریکارڈ بہتری کی کھلی عکاسی کرتا ہے۔

مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان کا موجودہ 45 پوائنٹس کا سکور اس وقت عالمی اوسط کے بالکل برابر آ چکا ہے، جبکہ جنوبی ایشیا اور دیگر اہم ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں بھی پاکستان کا گراف کافی بہتر رہا ہے۔ سروے کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت 44، سری لنکا 43، بنگلہ دیش 37، نائجیریا 24 اور چین 19 پوائنٹس کے ساتھ اس عالمی فہرست میں پاکستان سے پیچھے رہ گئے ہیں۔

اوپن بجٹ سروے کے مطابق پاکستان نے مالیاتی و بجٹ سازی کے متعدد اہم اور بنیادی شعبوں میں یہ پیش رفت حاصل کی ہے۔ ایگزیکٹو بجٹ پروپوزل کا سکور 43 سے بڑھ کر 57 پوائنٹس ہو گیا، منظور شدہ بجٹ کا سکور 33 سے بڑھ کر 50 پوائنٹس تک پہنچ گیا، جبکہ بجٹ سازی میں عام شہریوں کی شمولیت کا سکور 15 سے بڑھ کر 22 ہو گیا۔ اس کے علاوہ سالانہ اختتامی رپورٹ کی بروقت آن لائن اشاعت اور جامع معلومات کی فراہمی کا سکور 52 ریکارڈ کیا گیا۔

عوامی شرکت کے شعبے میں پاکستان کا حاصل کردہ 22 پوائنٹس کا سکور عالمی اوسط اور ایشیا پیسیفک خطے کی اوسط دونوں سے کہیں زیادہ ہے، جو بجٹ کے پورے عمل میں عوامی اور پارلیمانی شمولیت کو یقینی بنانے کی حکومتی پالیسی کا ثبوت ہے۔ انٹرنیشنل بجٹ پارٹنرشپ نے پاکستان کی جانب سے بروقت رپورٹس کی آن لائن دستیابی کو خصوصی طور پر سراہا ہے۔

علاوہ ازیں، امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کی جانے والی تازہ ترین مالیاتی شفافیت کی تشخیص میں بھی پاکستانی مالیاتی نظام کی متعدد مثبت خصوصیات کا اعتراف کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں منظور شدہ بجٹ، سالانہ مالیاتی رپورٹس تک عام عوام کی رسائی، آمدن و اخراجات کی تفصیلات، خودمختار دولت فنڈ کے مضبوط قانونی فریم ورک اور سپریم آڈٹ ادارے کے آزادانہ کردار کو خصوصی طور پر سراہا گیا۔

حکومتِ پاکستان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بجٹ شفافیت میں اس مسلسل بہتری کا مقصد صرف اعداد و شمار کی اشاعت نہیں، بلکہ عوام، پارلیمان، کاروباری برادری اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سرکاری وسائل، آمدن اور اخراجات کے بارے میں سچا، شفاف اور بروقت حساب فراہم کرنا ہے۔ شفافیت سے جوابدہی اور جوابدہی سے ادارہ جاتی ساکھ اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے مالیاتی اصلاحات کا یہ سفر آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔