وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان میں جرمنی کی سفیر انا لیپل نے اہم ملاقات کی، جس میں انہوں نے بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ‘موڈیز’ کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری پر وزیرِ خزانہ کو مبارکباد پیش کی۔ جرمن سفیر نے علاقائی و تزویراتی چیلنجز کے باوجود پاکستان کے معاشی استحکام اور اصلاحاتی اقدامات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی کاوشوں کو سراہا۔
ملاقات کے دوران وزیرِ خزانہ نے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، مالیاتی نظم و ضبط اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ڈیجیٹلائزیشن پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیکس اصلاحات اور پالیسیوں کے تسلسل سے شفافیت بڑھے گی اور جرمن کثیر القومی کمپنیوں سمیت تمام غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول میسر آئے گا۔
جرمن سفیر نے دوطرفہ تجارتی روابط مزید مضبوط بنانے میں جرمنی کی مکمل دلچسپی کا اعادہ کیا اور وزیرِ خزانہ کو رواں سال جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں منعقد ہونے والی ’19ویں ایشیا پیسیفک کانفرنس آف جرمن بزنس’ میں شرکت کی باضابطہ دعوت بھی دی۔
حکومتِ پاکستان کی جانب سے قدرتی وسائل کی عالمی تشہیر، جغرافیائی شناخت اور ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ کے نتیجے میں مالی سال 2026ء کے دوران پاکستان کے گلابی نمک کی برآمدات 3 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ برآمدی حجم 1 لاکھ 48 ہزار 71 ٹن سے تجاوز کر گیا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال 2025ء میں پنک سالٹ کی برآمدات 3 کروڑ 50 لاکھ ڈالر (1,27,924 ٹن) تھیں، جس میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے مطابق ملک میں چٹانی نمک کے تخمینہ ذخائر 6 کروڑ 50 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد ہیں جن میں 99 فیصد تک خالصیت پائی جاتی ہے۔ حکومت نے اس کی عالمی شناخت مضبوط بنانے کے لیے ‘کھیوڑہ پنک راک سالٹ’ کے نام سے جغرافیائی اشاریہ (GI) رجسٹر کروایا ہے جس کے بین الاقوامی اندارج پر بھی کام جاری ہے۔ برآمدات کی شفافیت کے لیے کسٹمز میں مخصوص ایچ ایس کوڈ (2501.0021) متعارف کروایا گیا ہے جبکہ انڈر انوائسنگ روکنے کے لیے کم از کم برآمدی قیمت 130 ڈالر فی میٹرک ٹن مقرر کی گئی ہے۔
ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) نے ورلڈ ایکسپو 2025ء اوساکا سمیت گلف فوڈ یو اے ای، انوگا جرمنی اور سیال فرانس جیسی بین الاقوامی نمائشوں میں پاکستانی پنک سالٹ کی بھرپور برانڈنگ کی ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کے اس منفرد قدرتی ورثے اور معاشی صلاحیت کو اجاگر کرنا ہے۔
نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر میں بنیادی ڈھانچے، توانائی کی منتقلی اور سماجی و اقتصادی ترقی سے متعلق متعدد اربوں روپے کے قومی منصوبوں کا جامع جائزہ لیا گیا اور کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ نائب وزیراعظم کے آفس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں وفاقی و صوبائی سطح کے جاری اور نظرثانی شدہ منصوبوں کو ملک کی پائیدار اقتصادی ترقی کے ایجنڈے کے مطابق جلد از جلد مکمل کرنے اور فنڈز کے شفاف اور مؤثر استعمال کی حکمتِ عملی پر مفصل غور کیا گیا۔
اجلاس میں منظور اور زیرِ بحث آنے والے نمایاں منصوبوں میں خوازہ خیلہ-بشام ایکسپریس وے کی تعمیر شامل ہے، جو شمالی علاقہ جات میں باہمی ربط اور سیاحت و تجارت کی فروغ کے لیے انتہائی اہم ترین شاہراہ تصور کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، ملک میں بجلی کے ترسیلی نظام کو جدید بنانے کے لیے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں لیسکو ، حیسکو اور پیسکو میں سسٹم کی استعداد کار بڑھانے اور لائن لاسز کو کم کرنے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں قومی اہمیت کے حامل تربیلا ڈیم کے پانچویں توسیعی پن بجلی منصوبے کی پیش رفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا، تاکہ کم لاگت اور ماحول دوست بجلی کی پیداوار کو ملکی گرڈ میں شامل کیا جا سکے۔
ایکنک اجلاس کے دوران عوامی فلاح و بہبود اور تعلیمی میدان سے متعلق جنوبی پنجاب میں غربت میں کمی کے منصوبے سمیت اعلیٰ تعلیم کے لیے فل برائٹ اسکالرشپ سپورٹ پروگرام کی منظوری بھی شامل تھی۔ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تمام متعلقہ وفاقی ڈویژنز اور صوبائی حکام کو واضح ہدایات جاری کیں کہ وہ ان منصوبوں کی وقت پر تکمیل کے لیے آپس میں قریبی رابطہ اور بروقت اقدامات کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کا مقصد اقتصادی استحکام کو مضبوط کرنا اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ اس اہم اجلاس میں وفاقی وزیر برائے خزانہ، وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ اور وفاقی و صوبائی سیکرٹریز سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
پاکستان نے بجٹ شفافیت، مالیاتی معلومات تک عام شہریوں کی رسائی اور جوابدہی کے نظام میں زبردست اور نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔ انٹرنیشنل بجٹ پارٹنرشپ (آئی بی پی) کے جاری کردہ اوپن بجٹ سروے 2025ء کے مطابق پاکستان کا بجٹ شفافیت سکور سال 2023ء کے 30 پوائنٹس سے نمایاں طور پر بڑھ کر سال 2025ء میں 45 پوائنٹس تک جا پہنچا ہے، جو محض دو سال کے مختصر عرصے میں 50 فیصد کی ریکارڈ بہتری کی کھلی عکاسی کرتا ہے۔
مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان کا موجودہ 45 پوائنٹس کا سکور اس وقت عالمی اوسط کے بالکل برابر آ چکا ہے، جبکہ جنوبی ایشیا اور دیگر اہم ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں بھی پاکستان کا گراف کافی بہتر رہا ہے۔ سروے کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت 44، سری لنکا 43، بنگلہ دیش 37، نائجیریا 24 اور چین 19 پوائنٹس کے ساتھ اس عالمی فہرست میں پاکستان سے پیچھے رہ گئے ہیں۔
اوپن بجٹ سروے کے مطابق پاکستان نے مالیاتی و بجٹ سازی کے متعدد اہم اور بنیادی شعبوں میں یہ پیش رفت حاصل کی ہے۔ ایگزیکٹو بجٹ پروپوزل کا سکور 43 سے بڑھ کر 57 پوائنٹس ہو گیا، منظور شدہ بجٹ کا سکور 33 سے بڑھ کر 50 پوائنٹس تک پہنچ گیا، جبکہ بجٹ سازی میں عام شہریوں کی شمولیت کا سکور 15 سے بڑھ کر 22 ہو گیا۔ اس کے علاوہ سالانہ اختتامی رپورٹ کی بروقت آن لائن اشاعت اور جامع معلومات کی فراہمی کا سکور 52 ریکارڈ کیا گیا۔
عوامی شرکت کے شعبے میں پاکستان کا حاصل کردہ 22 پوائنٹس کا سکور عالمی اوسط اور ایشیا پیسیفک خطے کی اوسط دونوں سے کہیں زیادہ ہے، جو بجٹ کے پورے عمل میں عوامی اور پارلیمانی شمولیت کو یقینی بنانے کی حکومتی پالیسی کا ثبوت ہے۔ انٹرنیشنل بجٹ پارٹنرشپ نے پاکستان کی جانب سے بروقت رپورٹس کی آن لائن دستیابی کو خصوصی طور پر سراہا ہے۔
علاوہ ازیں، امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کی جانے والی تازہ ترین مالیاتی شفافیت کی تشخیص میں بھی پاکستانی مالیاتی نظام کی متعدد مثبت خصوصیات کا اعتراف کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں منظور شدہ بجٹ، سالانہ مالیاتی رپورٹس تک عام عوام کی رسائی، آمدن و اخراجات کی تفصیلات، خودمختار دولت فنڈ کے مضبوط قانونی فریم ورک اور سپریم آڈٹ ادارے کے آزادانہ کردار کو خصوصی طور پر سراہا گیا۔
حکومتِ پاکستان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بجٹ شفافیت میں اس مسلسل بہتری کا مقصد صرف اعداد و شمار کی اشاعت نہیں، بلکہ عوام، پارلیمان، کاروباری برادری اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سرکاری وسائل، آمدن اور اخراجات کے بارے میں سچا، شفاف اور بروقت حساب فراہم کرنا ہے۔ شفافیت سے جوابدہی اور جوابدہی سے ادارہ جاتی ساکھ اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے مالیاتی اصلاحات کا یہ سفر آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان بزنس کونسل کے نو منتخب چیئرمین زید بشیر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید قریشی نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ملک میں غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری مسابقت، ریگولیٹری اصلاحات اور قومی معاشی ترقی میں نجی شعبے کے نقش کو مزید فعال بنانے پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔
وزیر خزانہ نے زید بشیر کو نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشی منظر نامے میں نجی شعبے کی قیادت میں ترقی بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی منڈیوں میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے کاروباری اداروں کو ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا پڑے گا۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے پی بی سی پر زور دیا کہ وہ معاشی چیلنجز کے حل اور بہتر پالیسی سازی کے لیے مختصر، شعبہ جاتی اور عملی تحقیق حکومت کے سامنے پیش کرے تاکہ درپیش مسائل پر فوری اقدامات کیے جا سکیں۔
ملاقات میں بین الاقوامی فنانسنگ اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے ذرائع سے فائدہ اٹھانے پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ممکنہ عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے مکمل طور پر تیار اور تجارتی لحاظ سے منافع بخش منصوبے پیش کیے جانے چاہئیں۔ اس کے علاوہ ملک کے درمیانی مدت کے ٹیکس پالیسی فریم ورک اور اصلاحات کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے ایک ایسے پائیدار ٹیکس نظام کی تشکیل پر زور دیا جو مسابقت اور سرمایہ کاری کو تحرک فراہم کرے۔
پاکستان بزنس کونسل کے نو منتخب چیئرمین زید بشیر اور سی ای او جاوید قریشی نے حکومت کی مالیاتی اور معاشی سمت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ وفاقی بجٹ کو حالیہ برسوں کا سب سے امید افزا بجٹ قرار دیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بزنس کونسل نجی شعبے کی ترقی، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور سرمایہ کاری کے سازگار ماحول کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گی۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان میں امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے وزارتِ خزانہ میں اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان معاشی تعلقات، دوطرفہ تجارت، اور مالیاتی تعاون کو وسعت دینے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیر خزانہ نے امریکی ناظم الامور کو اپنے حالیہ دورۂ واشنگٹن کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جہاں انہوں نے امریکی وزیر خزانہ، آئی ایم ایف کی اعلیٰ انتظامیہ، امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن اور ایگزم بینک کے حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اداروں کے ساتھ تعمیری گفتگو ہوئی ہے اور پاکستان تجارتی بنیادوں پر قابلِ عمل منصوبوں کے لیے امریکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے۔
ملاقات میں امریکی تجارتی نمائندہ دفتر کے ساتھ باہمی تجارت کے فریم ورک پر ہونے والی پیش رفت پر بھی گفتگو کی گئی۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ان مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے، جس سے مارکیٹ تک رسائی اور پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت زرمبادلہ کے ذخائر اور کریڈٹ پروفائل کو مستحکم بنانے کے لیے مالی معاونت کے ذرائع کو متنوع بنا رہی ہے۔
گفتگو کے دوران بندرگاہوں، لاجسٹکس، توانائی، ٹیلی کمیونیکیشن، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، اور مصنوعی ذہانت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر غور کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے علاقائی صورتحال کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں سے ہم آہنگی کے لیے یومیہ قیمتوں کی نظرثانی کے نظام کا بھی ذکر کیا۔
امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے مشکل عالمی معاشی حالات اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کو سراہا۔ انہوں نے امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت اور خصوصی شعبوں میں امریکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک بھر کے تمام اہم دریاؤں، بیراجوں اور ڈیموں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ پیر کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق تربیلا ڈیم اپنی انتہائی گنجائش تک بھر چکا ہے جبکہ دیگر اہم آبی ذخائر میں بھی پانی کا ذخیرہ تسلی بخش سطح پر موجود ہے۔
واپڈا رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 99 ہزار 100 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 69 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج 36 ہزار 200 کیوسک رہا، جبکہ خیرآباد پل پر آمد و اخراج 2 لاکھ 15 ہزار 300 کیوسک درج کیا گیا۔ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر آمد 38 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 7 ہزار کیوسک رہا، جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 70 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 56 ہزار 200 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
بیراجوں کی صورتحال بیان کرتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا کہ جناح بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 72 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 65 ہزار 200 کیوسک رہا۔ چشمہ بیراج میں آمد 2 لاکھ 53 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 44 ہزار 800 کیوسک جبکہ تونسہ بیراج میں آمد 3 لاکھ 30 ہزار کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 9 ہزار کیوسک درج کیا گیا۔ سندھ کے بیراجوں میں گدو بیراج پر آمد 2 لاکھ 73 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 33 ہزار 300 کیوسک، سکھر بیراج پر آمد 1 لاکھ 81 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 28 ہزار 100 کیوسک جبکہ کوٹری بیراج پر آمد 1 لاکھ 71 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 30 ہزار 100 کیوسک ریکارڈ ہوا۔ علاوہ ازیں تریموں کے مقام پر آمد 46 ہزار 400 کیوسک اور پنجند بیراج پر آمد 52 ہزار 200 کیوسک درج کی گئی۔
آبی ذخائر اور ڈیموں کی صورتحال کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح اپنی انتہائی گنجائش 1550 فٹ تک پہنچ چکی ہے اور ڈیم مکمل بھر گیا ہے، جہاں آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.580 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1206.90 فٹ ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی انتہائی گنجائش 1242 فٹ ہے، اور یہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 4.683 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔ اسی طرح چشمہ ریزروائر میں پانی کی سطح 648.50 فٹ ہے اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.285 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اسلام آباد / لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد آج 8 اگست سے ملک گیر غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کے اس فیصلے کے ساتھ ہی ملک بھر میں مال بردار گاڑیوں کی روانگی روک دی گئی ہے اور گڈز ٹرانسپورٹ اڈوں تک محدود ہو گئی ہے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ کمشنر آفس میں حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں، جس کے بعد وہ اپنے فیصلے پر سختی سے قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف پہلے سے لوڈ گاڑیوں کو سامان اتارنے کے لیے 2 دن کی محدود مہلت دی جائے گی، جس کے بعد نوٹیفکیشن جاری ہونے تک پرامن ہڑتال جاری رہے گی۔ انہوں نے وزیر پیٹرولیم سمیت صوبائی وزراء مریم اورنگزیب اور بلال اکبر خان کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا۔
ٹرانسپورٹرز کی جانب سے ہڑتال کی بنیادی وجوہات پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ، پیٹرولیم مصنوعات کے یومیہ بنیادوں پر تعین کی پالیسی، ٹرانزٹ و ٹرانسپورٹ سیکٹر پر 7 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ، اور ٹول ٹیکس میں بے تحاشا اضافہ بتائی گئی ہیں۔
دوسری جانب آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹر اونرز ایسوسی ایشن کے صدر اویس چوہدری نے اپنے مطالبات میں کہا کہ 10 ویلر گاڑیوں کو 35 ٹن وزن لے جانے کی قانونی اجازت دی جائے، نادرا و ٹریفک پولیس کی جانب سے ناجائز چالان، بھاری جرمانوں اور گاڑیاں ضبط کرنے کے سخت قوانین ختم کیے جائیں اور ڈرائیورز کو ہیوی لائسنس کے اجراء کا طریقہ کار آسان بنایا جائے۔
ہڑتال کے پہلے ہی روز لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت دیگر اہم صنعتی شہروں میں منی مزدا اور بھاری گڈز ٹرانسپورٹ کی سروسز مکمل طور پر معطل ہو گئی ہیں، جس سے ملک گیر سپلائی چین متاثر ہونے اور اشیائے ضروریہ کی قِلّت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ٹرانسپورٹ اتحاد نے واضح کیا ہے کہ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں سڑکیں مکمل طور پر بلاک کر دی جائیں گی۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ملکی برآمدات کو فروغ دینے اور صنعتی سیکٹر میں سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے لیے ٹیکسٹائل، ملبوسات اور دیگر اہم برآمدی شعبوں کے لیے 10 ارب روپے (10,000 ملین روپے) کی مالی معاونت کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
وزارت تجارت کے مطابق یہ خطیر رقم ڈیوٹی ڈرا بیک اور ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن اسکیموں کے تحت جاری کی جائے گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد برآمدی انڈسٹری کو لیکویڈیٹی (مالی روانی) کا ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ صنعتکار اور برآمد کنندگان بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی پیداواری صلاحیت اور مسابقت کو بہتر بنا سکیں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے وفاقی وزیر جام کمال خان نے کہا کہ وزارت تجارت کا یہ فیصلہ ٹیکسٹائل انڈسٹری سمیت دیگر ایکسپورٹ سیکٹرز کو درپیش مالی مشکلات سے نکالنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فنڈز کی اس فوری فراہمی سے صنعتوں کی لیکویڈیٹی میں خاطر خواہ بہتری آئے گی اور وہ اپنی برآمدی حجم میں اضافہ کر سکیں گے۔
مالیاتی و صنعتی ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن کے لیے ملنے والی اس رقم سے پاکستانی برآمد کنندگان کو جدید مشینری اور ٹیکنالوجی اپنانے میں سہولت ملے گی، جس سے نہ صرف مصنوعات کی معیار میں بہتری آئے گی بلکہ عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی موجودگی بھی مزید مستحکم ہوگی۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ یہ فنڈنگ پاکستان کے برآمدی شعبوں کو خودکفیل بنانے، مقامی انڈسٹری کو ہر ممکن سہولت کی فراہمی اور ملک میں پائیدار معاشی و برآمدی ترقی کے لیے حکومتِ پاکستان کی ترجیحی پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔
وفاقی ادارۂ شماریات نے نئے مالی سال کے پہلے ماہ یعنی جولائی 2026ء کے لیے مہنگائی سے متعلق سالانہ و ماہانہ اعداد و شمار کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح کم ہو کر سنگل ڈیجٹ یعنی 9.2 فیصد تک آ گئی ہے۔
وفاقی ادارۂ شماریات کے ترجمان اور جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، جون 2026ء میں مہنگائی کی سالانہ شرح 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ اس کے برعکس گزشتہ مالی سال کے اسی پہلے مہینے یعنی جولائی 2025ء میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی 4.1 فیصد کی سطح پر تھی۔ تمام تر سالانہ کمی کے باوجود، اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ماہانہ بنیادوں پر جولائی کے دوران جون کے مقابلے میں مہنگائی میں 1.19 فیصد کا مزید اضافہ درج کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں شہری اور دیہی معیشت کے علاحدہ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شدت نسبتاً زیادہ رہی۔ جولائی 2026ء کے دوران دیہی علاقوں میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 9.93 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 8.72 فیصد رہی۔
ماہانہ بنیادوں کے تقابل کے لحاظ سے دیکھا جائے تو جولائی میں دیہی علاقوں کے اندر اشیائے ضروریہ اور سروسز کی قیمتوں میں 1.23 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دوسری جانب شہری علاقوں میں ماہانہ بنیادوں پر یہ اضافہ 1.16 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے وزارتِ منصوبہ بندی کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ برائے جولائی 2026ء کے باضابطہ اجرا اور نئے مالی سال 2026-27 کے لیے اہداف و حکمتِ عملی کے آغاز پر میڈیا سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ غیر یقینی عالمی حالات، جغرافیائی کشیدگی، توانائی کی عالمی رسد میں رکاوٹوں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستان معاشی استحکام کے سفر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح مشکل فیصلوں سے حاصل ہونے والے معاشی استحکام کو ہر قیمت پر برقرار رکھتے ہوئے اسے پائیدار ترقی، سرمایہ کاری، روزگار اور عوامی خوشحالی میں تبدیل کرنا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ معاشی استحکام عوام کی قربانیوں، بہتر مالی نظم و ضبط اور مؤثر معاشی فیصلوں کا نتیجہ ہے، اور “اڑان پاکستان” کے تحت اس معاشی استحکام کو مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کرنے کی رفتار مزید تیز کی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے معاشی حقائق پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معیشت نے مضبوط بحالی کا مظاہرہ کیا اور شرحِ نمو 3.2 فیصد سے بڑھ کر 3.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس دوران زرعی شعبے کی شرحِ نمو 2.9 فیصد، صنعتی شعبے کی 3.5 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے کی شرحِ نمو 4.1 فیصد رہی، جس سے مجموعی معاشی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری آئی۔ جولائی تا مئی لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 5.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 22 میں سے 16 بڑے صنعتی شعبوں نے مثبت ترقی دکھائی اور گاڑیوں کی صنعت میں 58.8 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی قیمتوں کے دباؤ کے باوجود مہنگائی کی شرح مقررہ ہدف سے کم رہی، جبکہ ترسیلاتِ زر 8.6 فیصد اضافے کے ساتھ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اشیا و خدمات کی مجموعی برآمدات 40.9 ارب ڈالر رہیں اور جاری کھاتوں کا خسارہ صرف 139 ملین ڈالر تک محدود رہا۔ بین الاقوامی اداروں نے بھی پاکستان کی معاشی اصلاحات اور زرمبادلہ ذخائر میں بہتری کا اعتراف کیا ہے۔ مالی سال 2026-27 کے لیے شرحِ نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ آئندہ معاشی ترقی کا انحصار پیداواری صلاحیت، برآمدات، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور نجی شعبے کے فعال کردار پر ہوگا۔ حکومت قوتِ خرید کے تحفظ، غربت میں کمی، کمزور طبقات کی معاونت اور نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی کو اولیت دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اوگرا کی مقررہ قیمتوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور ناجائز منافع خوری و ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ مالیاتی محاذ پر ایف بی آر کی محصولات 11.7 کھرب روپے سے بڑھ کر 13 کھرب روپے ہو گئیں، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 15.2 کھرب روپے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران سی ڈی ڈبلیو پی کے 21 اجلاسوں میں 192 منصوبوں کی منظوری دی گئی جبکہ 96 ایکنک کو بھیجے گئے، جن سے تقریباً 2 لاکھ 89 ہزار براہِ راست اور 4 لاکھ 24 ہزار بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور جائزہ کاری سے قومی خزانے کو 12.6 ارب روپے کی بچت ہوئی۔
تعلیم، نوجوانوں اور بین الاقوامی تعاون پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کو صنعتی انقلابات 4.0 اور 5.0 کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے نصاب کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور “یو ایس-پاکستان نالج کوریڈور” کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔ حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران یونیورسٹی آف الینوائے نے پاکستان میں اپنا کیمپس قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اڑان پاکستان” کے تحت 2029ء تک قومی برآمدات کو 63 ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف پر کام جاری ہے، جبکہ پاکستان نے ترکیہ، ازبکستان اور ڈنمارک کے ساتھ زراعت، تعلیم، تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے اختتام پر کہا کہ جو معیشت چند برس قبل دیوالیہ پن کے دہانے پر تھی، وہ آج پائیدار بحالی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔