توانائی کے شعبے میں سنگین معاشی بحران: گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ 3 ہزار 600 ارب روپے کی بلندی کو چھو گیا

منصور احمد,September 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

پاکستان کا توانائی کا شعبہ شدید معاشی بحران کی لپیٹ میں آ گیا ہے جہاں گیس سیکٹر کا مجموعی گردشی قرضہ بڑھ کر 3 ہزار 600 ارب روپے کی تاریخی اور سنگین ترین سطح تک جا پہنچا ہے۔

وزارتِ خزانہ کے دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۳۶۰۰ ارب روپے کے اس مجموعی گردشی قرضے میں 2 ہزار 100 ارب روپے کی بھاری رقم محض تاخیری ادائیگیوں اور سود (مارک اپ) پر مشتمل ہے، جبکہ اصل قرضہ جات کا حجم 1 ہزار 500 ارب روپے ہے۔

ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ پاکستان کے اہم ورچوئل اقتصادی جائزہ مذاکرات ستمبر کے آخری ہفتے میں طے پا چکے ہیں، جس کے دوران وزارتِ خزانہ اور پیٹرولیم ڈویژن کے حکام گیس سیکٹر کے اس خطیر گردشی قرضے کی مرحلہ وار تسویے (سیٹلمنٹ پلان) کی مکمل خاکہ بندی عالمی مالیاتی ادارے کے سامنے رکھیں گے۔

گیس سیکٹر کے ۳۶۰۰ ارب روپے کے گردشی قرض کو آئندہ 3 برسوں کے دوران تدریجاً ختم کرنے کا حتمی پلان تیار کر لیا گیا ہے۔ مجوزہ خاکہ عمل کے تحت پہلے سال گردشی قرضے کے حجم میں 528 ارب روپے، دوسرے سال 473 ارب روپے جبکہ تیسرے سال 433 ارب روپے کی نمایاں کمی لانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

پلان کی تکنیکی تفصیلا ت کے مطابق سرکاری گیس کمپنیوں کے 840 ارب روپے کے ڈیویڈنڈ کو گردشی قرضے کی رقم کم کرنے کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔ علاوہ ازیں، پیٹرولیم لیوی کی مد سے 270 ارب روپے، جبکہ قطر سے درآمد شدہ ایل این جی کے اضافی کارگوز کی منسوخی و التوا سے 310 ارب روپے بچا کر قرضے کے حجم میں کمی لائی جائے گی۔

پلان میں پاور سیکٹر کے ‘ٹیک اینڈ پے’ میکانزم سے 15 ارب روپے اور ایل این جی کی صارفین سے مکمل لاگت وصولی سے 60 ارب روپے کا گردشی قرضہ صاف کرنے کا ہدف شامل کیا گیا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سیٹلمنٹ پلان کے تحت گیس سیکٹر کے بقایاجات پر سالانہ عائد ہونے والے بھاری مارک اپ اور سود کے پیچیدہ معاملے کو بھی مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ تاہم، اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایل این جی کی مکمل پیداواری و برآمدی لاگت براہِ راست صارفین سے وصول کرنے کے اس منصوبے کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں ملک کے اندر گیس کی قیمتوں میں شدید اضافے کا خدشہ ہے۔

وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے اسلامی چیمبر کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات: اسلامی فنانس اور حلال معیشت میں تعاون کے فروغ پر اتفاق

کاشف عباسی , August 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے اسلامی چیمبر آف کامرس اینڈ ڈویلپمنٹ (آئی سی سی ڈی) کے سیکرٹری جنرل شیخ یوسف حسن خلوّی نے اہم ملاقات کی ہے، جس میں اسلامی فنانس، حلال معیشت، اقتصادی تعاون اور نجی شعبے کے بین الاقوامی روابط پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق ملاقات میں پاکستانی کاروباری برادری کو عالمی بزنس نیٹ ورکس سے منسلک کرنے اور حلال فوڈ، حلال سیاحت، فیشن اور سروسز کی بین الاقوامی مارکیٹوں میں پاکستانی مصنوعات کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے پر گفتگو کی گئی۔ وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ پاکستان کو حلال معیشت کی مخصوص مصنوعات اور عالمی منڈیوں کی نشاندہی کرنی چاہیے تاکہ ملکی کاروبار ابھرتے ہوئے عالمی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔

آئی سی سی ڈی کے سیکرٹری جنرل نے مسلم کاروباری برادریوں کو نجی اور ادارہ جاتی شراکت داروں سے جوڑنے کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں پاکستان کے اسلامی مالیاتی نظام کو مزید مستحکم کرنے اور تجارتی طور پر قابلِ عمل مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی کانفرنسوں اور بزنس فورمز کے ذریعے پاکستانی تاجروں کو عالمی نیٹ ورکس سے جوڑنے پر اتفاق کیا گیا۔

بجٹ شفافیت اور مالیاتی معلومات تک عوامی رسائی میں پاکستان کی بڑی پیش رفت، عالمی سکور 45 تک پہنچ گیا

محمود احمد, August 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

پاکستان نے بجٹ شفافیت، مالیاتی معلومات تک عام شہریوں کی رسائی اور جوابدہی کے نظام میں زبردست اور نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔ انٹرنیشنل بجٹ پارٹنرشپ (آئی بی پی) کے جاری کردہ اوپن بجٹ سروے 2025ء کے مطابق پاکستان کا بجٹ شفافیت سکور سال 2023ء کے 30 پوائنٹس سے نمایاں طور پر بڑھ کر سال 2025ء میں 45 پوائنٹس تک جا پہنچا ہے، جو محض دو سال کے مختصر عرصے میں 50 فیصد کی ریکارڈ بہتری کی کھلی عکاسی کرتا ہے۔

مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان کا موجودہ 45 پوائنٹس کا سکور اس وقت عالمی اوسط کے بالکل برابر آ چکا ہے، جبکہ جنوبی ایشیا اور دیگر اہم ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں بھی پاکستان کا گراف کافی بہتر رہا ہے۔ سروے کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت 44، سری لنکا 43، بنگلہ دیش 37، نائجیریا 24 اور چین 19 پوائنٹس کے ساتھ اس عالمی فہرست میں پاکستان سے پیچھے رہ گئے ہیں۔

اوپن بجٹ سروے کے مطابق پاکستان نے مالیاتی و بجٹ سازی کے متعدد اہم اور بنیادی شعبوں میں یہ پیش رفت حاصل کی ہے۔ ایگزیکٹو بجٹ پروپوزل کا سکور 43 سے بڑھ کر 57 پوائنٹس ہو گیا، منظور شدہ بجٹ کا سکور 33 سے بڑھ کر 50 پوائنٹس تک پہنچ گیا، جبکہ بجٹ سازی میں عام شہریوں کی شمولیت کا سکور 15 سے بڑھ کر 22 ہو گیا۔ اس کے علاوہ سالانہ اختتامی رپورٹ کی بروقت آن لائن اشاعت اور جامع معلومات کی فراہمی کا سکور 52 ریکارڈ کیا گیا۔

عوامی شرکت کے شعبے میں پاکستان کا حاصل کردہ 22 پوائنٹس کا سکور عالمی اوسط اور ایشیا پیسیفک خطے کی اوسط دونوں سے کہیں زیادہ ہے، جو بجٹ کے پورے عمل میں عوامی اور پارلیمانی شمولیت کو یقینی بنانے کی حکومتی پالیسی کا ثبوت ہے۔ انٹرنیشنل بجٹ پارٹنرشپ نے پاکستان کی جانب سے بروقت رپورٹس کی آن لائن دستیابی کو خصوصی طور پر سراہا ہے۔

علاوہ ازیں، امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کی جانے والی تازہ ترین مالیاتی شفافیت کی تشخیص میں بھی پاکستانی مالیاتی نظام کی متعدد مثبت خصوصیات کا اعتراف کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں منظور شدہ بجٹ، سالانہ مالیاتی رپورٹس تک عام عوام کی رسائی، آمدن و اخراجات کی تفصیلات، خودمختار دولت فنڈ کے مضبوط قانونی فریم ورک اور سپریم آڈٹ ادارے کے آزادانہ کردار کو خصوصی طور پر سراہا گیا۔

حکومتِ پاکستان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بجٹ شفافیت میں اس مسلسل بہتری کا مقصد صرف اعداد و شمار کی اشاعت نہیں، بلکہ عوام، پارلیمان، کاروباری برادری اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سرکاری وسائل، آمدن اور اخراجات کے بارے میں سچا، شفاف اور بروقت حساب فراہم کرنا ہے۔ شفافیت سے جوابدہی اور جوابدہی سے ادارہ جاتی ساکھ اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے مالیاتی اصلاحات کا یہ سفر آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات: باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال

کاشف عباسی , August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان میں امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے وزارتِ خزانہ میں اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان معاشی تعلقات، دوطرفہ تجارت، اور مالیاتی تعاون کو وسعت دینے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر خزانہ نے امریکی ناظم الامور کو اپنے حالیہ دورۂ واشنگٹن کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جہاں انہوں نے امریکی وزیر خزانہ، آئی ایم ایف کی اعلیٰ انتظامیہ، امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن اور ایگزم بینک کے حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اداروں کے ساتھ تعمیری گفتگو ہوئی ہے اور پاکستان تجارتی بنیادوں پر قابلِ عمل منصوبوں کے لیے امریکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے۔

ملاقات میں امریکی تجارتی نمائندہ دفتر کے ساتھ باہمی تجارت کے فریم ورک پر ہونے والی پیش رفت پر بھی گفتگو کی گئی۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ان مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے، جس سے مارکیٹ تک رسائی اور پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت زرمبادلہ کے ذخائر اور کریڈٹ پروفائل کو مستحکم بنانے کے لیے مالی معاونت کے ذرائع کو متنوع بنا رہی ہے۔

گفتگو کے دوران بندرگاہوں، لاجسٹکس، توانائی، ٹیلی کمیونیکیشن، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، اور مصنوعی ذہانت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر غور کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے علاقائی صورتحال کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں سے ہم آہنگی کے لیے یومیہ قیمتوں کی نظرثانی کے نظام کا بھی ذکر کیا۔

امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے مشکل عالمی معاشی حالات اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کو سراہا۔ انہوں نے امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت اور خصوصی شعبوں میں امریکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔