او آئی سی خواتین کانفرنس: مسلم امہ اور پاکستان کی پائیدار ترقی خواتین کو بااختیار بنانے سے مشروط ہے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا خطاب

منصور احمد, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واضح کیا ہے کہ مسلم امہ اور پاکستان کی پائیدار ترقی خواتین کو ہر سطح پر بااختیار بنانے اور انہیں زندگی کے تمام شعبوں میں مساوی مواقع فراہم کرنے سے مشروط ہے، کیونکہ دینِ اسلام خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا ضامن ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے ’اپنا روزگار پروگرام‘ ان کا ایک دیرینہ خواب ہے جس کی تکمیل سے ملک میں حقیقی معاشی انقلاب آئے گا۔ وہ پیر کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی نویں وزارتی کانفرنس برائے خواتین کے اہم سیشن سے خصوصی خطاب کر رہی تھیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کانفرنس میں شریک 57 ممالک کے معزز مندوبین اور عالمی رہنماؤں کو پاکستان آمد پر والہانہ خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک اور مہمان نواز قوم کی دھرتی ہے، اور او آئی سی کے اس مقتدر پلیٹ فارم سے خواتین کے حقوق پر آواز اٹھانا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔

اپنے تزویراتی خطاب میں مریم نواز نے حکومت کی جانب سے خواتین کی مالی شمولیت، اعلیٰ تعلیم اور کاروبار کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے پختہ عزم کو دہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت طالبات کے لیے اسکالرشپس اور لیپ ٹاپس کی شفاف فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے تاکہ ہماری بیٹیاں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہو کر ڈیجیٹل معیشت میں اپنا مؤثر اور مقتدر کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے صوبے میں جاری فلاحی اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ’اپنی چھت، اپنا گھر‘ اسکیم سے غریب شہری تیزی سے مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے ’اپنا روزگار پروگرام‘ پر ترجیحی بنیادوں پر کام جاری ہے جو کہ خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مسلم دنیا میں خواتین کی سیاسی و سماجی قیادت کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو مسلم اُمہ کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں جنہوں نے مسلم دنیا میں خواتین کی سیاسی اور سماجی نمائندگی کے فروغ اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس مقتدر عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان خواتین کے لیے محفوظ، سازگار اور مساوی ماحول کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھے ہوئے ہے کیونکہ خواتین کی ترقی کے بغیر کوئی بھی مہذب معاشرہ اور ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔

او آئی سی خواتین کانفرنس: اسلامی دنیا کی خوشحالی کے لیے خواتین کی ترقی اور معاشی شمولیت کو تزویراتی ضرورت قرار دے دیا گیا

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جاری نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی معزز مندوبین نے مسلم ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مضبوط بنانے اور تعلیم، اقتصادی ترقی اور قیادت میں خواتین کی شرکت کو بڑھانے کے لیے جامع پالیسیوں کو فروغ دینے کی اشد ضرورت پر زور دیا ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے واضح کیا کہ خواتین کی مقتدر ترقی اسلامی دنیا میں پائیدار، جامع ترقی اور طویل مدتی معاشی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔

موقر تفصیلات کے مطابق، نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کے اہم سیشن سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کی ترقی کی تنظیم (ڈبلیو ڈی او) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارہ الشورا نے رکن ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون کو مضبوط بنانے اور تعلیم، اقتصادی ترقی اور فیصلہ سازی کی قیادت میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے تنظیم کی جانب سے کی جانے والی مسلسل کوششوں اور فریم ورک پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اسی طرح، آٹھویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کی خواتین کی مشاورتی کونسل کی صدر، سفیر نائلہ گبر نے گزشتہ وزارتی کانفرنس کے بعد ہونے والی تزویراتی پیشرفت کا احاطہ کیا اور او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان مضبوط ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے اس رفتار کو مستقل برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مسلم امہ میں خواتین کی تعلیم، معاشی بااختیار سازی اور قیادت میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی ترقی کے بغیر اسلامی دنیا میں طویل مدتی خوشحالی کا خواب ادھورا ہے۔

کانفرنس سے مصر کی قومی کونسل برائے خواتین کی صدر امل عمار نے بھی مقتدر خطاب کیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں قوموں کی حقیقی خوشحالی انسانوں، بالخصوص خواتین میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے ہی شروع ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ مسلم دنیا میں پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور سماجی انصاف کے اہداف کے حصول کے لیے خواتین کو ہر سطح پر بااختیار بنانا اب محض ایک آپشن نہیں بلکہ ایک ناگزیر سٹریٹجک ضرورت بن چکی ہے جس پر تمام رکن ممالک کو مل کر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔