صنفی ڈیجیٹل فرق کے خاتمے میں پاکستان دنیا کا تیز ترین ملک بن گیا، وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کا او آئی سی کانفرنس سے مقتدر خطاب

منصور احمد, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے واضح کیا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی)، سائبر سکیورٹی، پبلک ڈیٹا سسٹمز اور ڈیجیٹل ریگولیشن کی ترقی میں خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل میں بامعنی مقام ملنا چاہیے۔ وزارتِ انسانی حقوق کے زیرِ اہتمام وفاقی دارالحکومت میں جاری خواتین سے متعلق نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کے اہم سیشن سے تزویراتی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان نے موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی ڈیجیٹل فرق (مردوں اور عورتوں کے درمیان فرق) کو کم کرنے میں دنیا بھر میں تیز ترین ترقی ریکارڈ کی ہے۔ جی ایس ایم اے کی مقتدر رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے ڈیجیٹل شمولیت، خاص طور پر موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں دنیا کی سب سے بڑی اور تاریخی بہتری ریکارڈ کی ہے۔

وفاقی وزیر نے تزویراتی اعداد و شمار کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ جب انہوں نے عہدہ سنبھالا تو پاکستان میں صنفی ڈیجیٹل فرق 35 فیصد تھا، جو 2025ء میں کم ہو کر 25 فیصد رہ گیا اور اب 2026ء کی حالیہ مقتدر رپورٹ میں مزید گر کر صرف 8 فیصد پر آ گیا ہے۔ اس غیر معمولی پیشرفت نے پاکستان کو موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق کو ختم کرنے والا دنیا کا تیز ترین ملک بنا دیا ہے، جہاں گزشتہ دو سالوں کے دوران خواتین میں موبائل انٹرنیٹ اپنانے کی شرح 33 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد ہو گئی ہے۔ شزا فاطمہ خواجہ نے زور دے کر کہا کہ صرف انٹرنیٹ تک رسائی (کنیکٹیویٹی) ہی کافی نہیں ہے، بلکہ کامیابی کا اصل معیار یہ ہے کہ آیا دور دراز اور دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین ٹیکنالوجی کا استعمال سیکھنے، کمانے، ڈیجیٹل ادائیگیاں حاصل کرنے اور کامیاب کاروباری شخصیت (انٹرپرینیور) بننے کے لیے کر رہی ہیں یا نہیں۔

وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ حکومت کے ڈیجیٹل تبدیلی کے اقدامات نے کم آمدنی والے خاندانوں کی خواتین کو ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کے ذریعے باعزت طریقے سے مالی امداد فراہم کر کے بااختیار بنایا ہے۔ رمضان سبسڈی پروگرام کو وزیر اعظم کی ہدایت پر ڈیجیٹل ادائیگیوں پر منتقل کیا گیا، جس کے تحت سب سے کم آمدنی والی آبادی میں ایک ماہ کے اندر 8 لاکھ ڈیجیٹل والٹس بنائے گئے اور اس سال مزید 9 لاکھ خواتین ڈیجیٹل مالیاتی نظام کا حصہ بنی ہیں۔ حکومت نے نجی شعبے کے تعاون سے ملک بھر میں خواتین کو 10 ملین (ایک کروڑ) مفت سم کارڈز بھی تقسیم کیے ہیں تاکہ وہ ڈیجیٹل معیشت میں سرگرم حصہ دار بن سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خواتین کے پاس سستا انٹرنیٹ، ڈیجیٹل مہارت یا آن لائن ہراساں کیے جانے سے تحفظ نہ ہو تو ٹیکنالوجی عدم مساوات کو گہرا بھی کر سکتی ہے، اس لیے مشین لرننگ ماڈلز اور اے آئی الگورتھم میں خواتین کے تجربات کی عکاسی ہونی چاہیے تاکہ ان کی محرومی کو روکا جا سکے۔

پاکستانی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر آئی ٹی نے محترمہ فاطمہ جناح، سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید، بیگم کلثوم نواز اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ان کی جرات اور ترقیاتی قیادت پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے او آئی سی کے برادر ممالک پر زور دیا کہ وہ ان خواتین کی حوصلہ افزائی کریں جو ٹیکنالوجی میں رکاوٹوں کو توڑ رہی ہیں، اور عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے تجربات کا تبادلہ کرنے اور خواتین کو ڈیجیٹل بااختیار بنانے کے لیے عملی شراکت داری قائم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

او آئی سی خواتین کانفرنس: مسلم امہ اور پاکستان کی پائیدار ترقی خواتین کو بااختیار بنانے سے مشروط ہے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا خطاب

منصور احمد, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واضح کیا ہے کہ مسلم امہ اور پاکستان کی پائیدار ترقی خواتین کو ہر سطح پر بااختیار بنانے اور انہیں زندگی کے تمام شعبوں میں مساوی مواقع فراہم کرنے سے مشروط ہے، کیونکہ دینِ اسلام خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا ضامن ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے ’اپنا روزگار پروگرام‘ ان کا ایک دیرینہ خواب ہے جس کی تکمیل سے ملک میں حقیقی معاشی انقلاب آئے گا۔ وہ پیر کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی نویں وزارتی کانفرنس برائے خواتین کے اہم سیشن سے خصوصی خطاب کر رہی تھیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کانفرنس میں شریک 57 ممالک کے معزز مندوبین اور عالمی رہنماؤں کو پاکستان آمد پر والہانہ خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک اور مہمان نواز قوم کی دھرتی ہے، اور او آئی سی کے اس مقتدر پلیٹ فارم سے خواتین کے حقوق پر آواز اٹھانا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔

اپنے تزویراتی خطاب میں مریم نواز نے حکومت کی جانب سے خواتین کی مالی شمولیت، اعلیٰ تعلیم اور کاروبار کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے پختہ عزم کو دہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت طالبات کے لیے اسکالرشپس اور لیپ ٹاپس کی شفاف فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے تاکہ ہماری بیٹیاں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہو کر ڈیجیٹل معیشت میں اپنا مؤثر اور مقتدر کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے صوبے میں جاری فلاحی اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ’اپنی چھت، اپنا گھر‘ اسکیم سے غریب شہری تیزی سے مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے ’اپنا روزگار پروگرام‘ پر ترجیحی بنیادوں پر کام جاری ہے جو کہ خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مسلم دنیا میں خواتین کی سیاسی و سماجی قیادت کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو مسلم اُمہ کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں جنہوں نے مسلم دنیا میں خواتین کی سیاسی اور سماجی نمائندگی کے فروغ اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس مقتدر عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان خواتین کے لیے محفوظ، سازگار اور مساوی ماحول کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھے ہوئے ہے کیونکہ خواتین کی ترقی کے بغیر کوئی بھی مہذب معاشرہ اور ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔

او آئی سی خواتین کانفرنس: اسلامی دنیا کی خوشحالی کے لیے خواتین کی ترقی اور معاشی شمولیت کو تزویراتی ضرورت قرار دے دیا گیا

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جاری نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی معزز مندوبین نے مسلم ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مضبوط بنانے اور تعلیم، اقتصادی ترقی اور قیادت میں خواتین کی شرکت کو بڑھانے کے لیے جامع پالیسیوں کو فروغ دینے کی اشد ضرورت پر زور دیا ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے واضح کیا کہ خواتین کی مقتدر ترقی اسلامی دنیا میں پائیدار، جامع ترقی اور طویل مدتی معاشی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔

موقر تفصیلات کے مطابق، نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کے اہم سیشن سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کی ترقی کی تنظیم (ڈبلیو ڈی او) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارہ الشورا نے رکن ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون کو مضبوط بنانے اور تعلیم، اقتصادی ترقی اور فیصلہ سازی کی قیادت میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے تنظیم کی جانب سے کی جانے والی مسلسل کوششوں اور فریم ورک پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اسی طرح، آٹھویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کی خواتین کی مشاورتی کونسل کی صدر، سفیر نائلہ گبر نے گزشتہ وزارتی کانفرنس کے بعد ہونے والی تزویراتی پیشرفت کا احاطہ کیا اور او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان مضبوط ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے اس رفتار کو مستقل برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مسلم امہ میں خواتین کی تعلیم، معاشی بااختیار سازی اور قیادت میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی ترقی کے بغیر اسلامی دنیا میں طویل مدتی خوشحالی کا خواب ادھورا ہے۔

کانفرنس سے مصر کی قومی کونسل برائے خواتین کی صدر امل عمار نے بھی مقتدر خطاب کیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں قوموں کی حقیقی خوشحالی انسانوں، بالخصوص خواتین میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے ہی شروع ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ مسلم دنیا میں پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور سماجی انصاف کے اہداف کے حصول کے لیے خواتین کو ہر سطح پر بااختیار بنانا اب محض ایک آپشن نہیں بلکہ ایک ناگزیر سٹریٹجک ضرورت بن چکی ہے جس پر تمام رکن ممالک کو مل کر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔

او آئی سی خواتین وزارتی کانفرنس: وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت (فوسپاہ) کی بھرپور شرکت اور اہم عالمی ملاقاتیں

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

سیکرٹریٹ برائے وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت (فوسپاہ) نے جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین میں بھرپور اور تزویراتی شرکت کی ہے۔ کانفرنس کے موقر موقع پر وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت فوزیہ وقار نے او آئی سی وومن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ڈبلیو ڈی او) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، قونصلر سارہ اسماعیل الشورا سے ایک مقتدر ملاقات کی، جس میں مسلم ممالک میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ہراسیت کے خاتمے کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ فوزیہ وقار نے کانفرنس میں شریک نامور پارلیمانی رہنماؤں اور حقوقِ نسواں کی نمایاں شخصیات سے بھی اہم ملاقاتیں کیں، جن میں شائستہ پرویز ملک، صائرہ ترار، نزہت صادق، صبا صادق، ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور مہناز عزیز شامل ہیں۔ ان مقتدر ملاقاتوں نے ادارہ جاتی تعاون، پالیسی مکالمے اور خواتین کے حقوق و تحفظِ کار کے حوالے سے علاقائی رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کے لیے فوسپاہ کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کی ہے۔

کانفرنس کے دوران فوسپاہ کی ٹیم نے مارکیٹ پلیس میں ایک مخصوص انفارمیشن ڈیسک بھی قائم رکھا، جہاں مقامی و بین الاقوامی وفود، معززین اور شرکا سے اہم ملاقاتیں کی گئیں۔ اس معلوماتی ڈیسک پر ٹیم نے فوسپاہ کے دائرہ اختیار اور مینڈیٹ سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کیں اور رکن ممالک میں صنفی انصاف اور تحفظِ کار کے فروغ کے لیے پیشہ ورانہ مکالمے کو کامیابی سے آگے بڑھایا۔ مزید برآں، فوسپاہ کے اعلیٰ حکام نے او آئی سی سیکرٹریٹ کی خواتین ٹیم، مختلف او آئی سی اداروں کے نمائندوں اور رکن ممالک کے سرکاری وفود سے وسیع پیمانے پر تزویراتی بات چیت کی۔ ان مربوط کاوشوں نے اہم ادارہ جاتی روابط کو مزید مستحکم کیا ہے اور عالمِ اسلام میں خواتین کے سماجی، اقتصادی اور سیاسی حقوق کے فروغ سے متعلق اجتماعی عزم اور مکالمے کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔