تربیلا ڈیم کے حفاظتی سپل ویز کھول دیے گئے؛ دریائے سندھ کے نشیبی علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں شدید اضافے کا الرٹ

منصور احمد, JULY 17,2026

تربیلا (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

ملک کے بالائی علاقوں میں گرمی کی شدت بڑھنے کے باعث گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور حالیہ بارشوں کے نتیجے میں تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد میں غیر معمولی اضافہ درج کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیم انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کے تحت سپل ویز کو باقاعدہ طور پر کھول دیا ہے۔ سپل ویز کھولے جانے کے باعث دریائے سندھ کے نشیبی علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس کے پیشِ نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ہنگامی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے دریائے سندھ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ہر قسم کی سیاحتی سرگرمیوں سے فوری اور مکمل گریز کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔

تربیلا ڈیم انتظامیہ نے اس حوالے سے باقاعدہ الرٹ جاری کرتے ہوئے مقامی آبادی اور سیاحوں پر زور دیا ہے کہ وہ تیز بہاؤ کے دوران آبی گزرگاہوں اور دریا کے کناروں سے دور رہیں۔ انتظامیہ کے مطابق بالخصوص لیہ، بھکر اور میانوالی کے نشیبی علاقوں میں پانی کا انتہائی تیز بہاؤ متوقع ہے جس سے دریا کے قریبی علاقوں اور کچے کی آبادیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس نازک صورتحال کے پیشِ نظر این ڈی ایم اے ممکنہ خطرات کی مسلسل مانیٹرنگ اور پیشگی تشخیص کر رہا ہے تاکہ متعلقہ ضلعی انتظامی اداروں، ریسکیو ٹیموں اور عام عوام کو بروقت ضروری معلومات فراہم کر کے کسی بھی ممکنہ جانی و مالی نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔

تربیلا، منگلا اور چشمہ میں پانی کے ذخائر مستحکم؛ واپڈا نے ملک کے بڑے دریاؤں اور بیراجوں کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے

روزینہ اسماعیل, JULY 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 جولائی 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک بھر کے بڑے دریاؤں اور اہم آبی ذخائر میں پانی کی آمد اور اخراج کے تازہ ترین تزویراتی اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ جمعرات کے روز جاری ہونے والی باقاعدہ رپورٹ کے مطابق، ملک کے سب سے بڑے پانی کے ذخیرے تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد اور اخراج میں توازن دیکھا گیا ہے، جبکہ دیگر دریاؤں میں بھی بہاؤ معمول کے مطابق ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ملک کے اہم آبی مقامات پر پانی کی صورتحال کی تفصیلات بتاتے ہوئے رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 1 لاکھ 88 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 60 ہزار 300 کیوسک رہا، جبکہ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج یکساں طور پر 33 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح، خیرآباد پل کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج 1 لاکھ 92 ہزار 200 کیوسک رہا، دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 24 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 17 ہزار کیوسک درج کیا گیا، اور دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 50 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 21 ہزار 100 کیوسک ریکارڈ ہوا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جناح بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 14 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 6 ہزار 600 کیوسک، چشمہ بیراج میں آمد 2 لاکھ 10 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 25 ہزار کیوسک، جبکہ تونسہ بیراج میں آمد 2 لاکھ 1 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 79 ہزار 800 کیوسک درج کیا گیا۔ زیریں سندھ میں گدو بیراج کے مقام پر آمد 1 لاکھ 65 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 31 ہزار 300 کیوسک، سکھر بیراج میں آمد 1 لاکھ 23 ہزار کیوسک اور اخراج 66 ہزار 300 کیوسک، جبکہ کوٹری بیراج میں آمد 41 ہزار 200 کیوسک اور اخراج صفر کیوسک ریکارڈ ہوا۔ تریموں کے مقام پر پانی کی آمد 22 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 8 ہزار 400 کیوسک، جبکہ پنجند میں آمد 12 ہزار کیوسک اور اخراج صفر رہا۔

آبی ذخائر کی سطح کے حوالے سے بتایا گیا کہ تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1504.31 فٹ ہے اور یہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 3.166 ملین ایکڑ فٹ ہے، منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1173.20 فٹ اور ذخیرہ 2.736 ملین ایکڑ فٹ ہے، جبکہ چشمہ بیراج میں پانی کی موجودہ سطح 646.80 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.204 ملین ایکڑ فٹ دستیاب ہے۔