
محمود احمد, August 25,2026
واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء
امریکی ریاست نیواڈا نے دریائے کولوراڈو کے پانی کی تقسیم سے متعلق وفاقی حکومت کے کٹوتی کے منصوبے کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف باضابطہ قانونی مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ امریکی جنوب مغرب کی 7 ریاستوں اور 4 کروڑ سے زائد عوام کو سیراب کرنے والے اس اہم ترین دریا پر جاری شدید خشک سالی اور پانی کی تقسیم پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد یہ بڑا قانونی قدم اٹھایا گیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق وفاقی حکومت نے حال ہی میں زیریں طاس کی ریاستوں—نیواڈا، ایریزونا اور کیلیفورنیا—کے لیے پانی کی فراہمی میں 2036ء تک سالانہ 3.7 ارب مکعب میٹر تک کٹوتی کا فیصلہ سنایا ہے، جبکہ بالائی طاس کی ریاستوں کو اس کٹوتی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ نیواڈا حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے ان کے حصے کا 2 تہائی پانی کم ہو جائے گا، جس سے صحرائی شہر ‘لاس ویگاس’ کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے جو اپنی 90 فیصد پانی کی ضروریات کے لیے اسی دریا پر انحصار کرتا ہے۔ نیواڈا کے ریپبلکن گورنر جو لومبارڈو نے واضح کیا کہ یہ کوئی سیاسی ڈرامہ نہیں بلکہ نیواڈا کے شہریوں اور معیشت کی بقا کا جنگ ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکام کا موقع ہے کہ تمام 7 ریاستوں کے درمیان پانی کے استعمال پر عدم اتفاق کے باعث یہ کارروائی ناگزیر تھی، تاکہ لیک پاول اور لیک میڈ جیسے تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ جانے والے ڈیموں میں پن بجلی کی پیداوار اور پانی کا بنیادی نظام مکمل طور پر مفلوج ہونے سے بچایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق نیواڈا کے بعد ایریزونا ریاست کی جانب سے بھی ٹرمپ انتظامیہ کے اس منصوبے کے خلاف داد رسی کے لیے وفاقی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے جانے کا شدید امکان ہے۔