

منصور احمد june 19,2026
ممبئی (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء
بھارتی کرکٹ کے نئے ابھرتے ہوئے ۱۵ سالہ سنسنی خیز بیٹر ویبھو سوریاونشی کے ہمراہ غیر ملکی دورے پر ان کے والدین کے بھی ساتھ سفر کرنے کے انوکھے فیصلے پر پائے جانے والے تجسس کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے باقاعدہ طور پر اپنی سٹرٹیجک وضاحت پیش کر دی ہے، اسپورٹس رپورٹس کے مطابق بی سی سی آئی نے جون اور جولائی ۲۰۲۶ء میں شیڈول بھارتی کرکٹ ٹیم کے دورۂ آئرلینڈ اور دورۂ انگلینڈ کے لیے خصوصی طور پر ۱۵ سالہ کم عمر کھلاڑی ویبھو سوریاونشی کے ساتھ ان کے والدین کو بھی سرکاری خرچے پر ٹیم کے ساتھ سفر کرنے اور ہوٹل میں قیام کرنے کی باضابطہ اجازت دے رکھی ہے، اس غیر معمولی اور اپنی نوعیت کے پہلے اقدام پر دنیا بھر کے کرکٹ حلقوں میں ہونی والی بحث کے بعد بی سی سی آئی کے جوائنٹ سیکرٹری دیواجیت سائیکیا نے میڈیا کے سامنے آ کر اس معاملے کی اصل سچائی اور وجوہات واضح کی ہیں۔
بی سی سی آئی کے اعلیٰ عہدیدار دیواجیت سائیکیا نے بورڈ کی پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ موجودہ جدید دور میں سینئر لیول پر دنیا کی کسی بھی انٹرنیشنل یا نیشنل کرکٹ ٹیم میں کوئی بھی ۱۴ یا ۱۵ سال کا کم عمر بچہ شامل نہیں ہوتا کیونکہ یہ انتہائی سخت اور دباؤ کا ماحول ہوتا ہے، لیکن کئی دہائیوں کے طویل انتظار کے بعد ہمیں ویبھو سوریاونشی جیسا غیر معمولی اور گوڈ گفٹڈ ٹیلنٹ ملا ہے، انہوں نے ماضی کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کی تاریخ میں ایک ایسا وقت تھا جب بالکل اسی چھوٹی عمر میں عظیم سچن ٹینڈولکر نے انڈین نیشنل ٹیم میں جگہ بنائی تھی اور اب ویبھو سوریاونشی اسی نقشِ قدم پر چل رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا انتہائی چھوٹا بچہ جب اچانک انٹرنیشنل لیول پر سینئر نیشنل ٹیم کے ڈریسنگ روم کا حصہ بنتا ہے تو اس کی ذہنی نشوونما اور روزمرہ کی روٹین کے حوالے سے کئی پیچیدہ مسائل اور چیلنجز سامنے آ سکتے ہیں۔
دیواجیت سائیکیا نے مزید وضاحت کی کہ بی سی سی آئی نے یہ تاریخی فیصلہ صرف اور صرف سوریاونشی کو غیر ملکی دوروں کے دوران ہوم سکنس سے بچانے، ڈریسنگ روم میں خود کو مکمل طور پر پرسکون و آرام دہ محسوس کرانے اور سینئر بین الاقوامی کھلاڑیوں کے سخت عسکری و پیشہ ورانہ ماحول سے ہم آہنگ کرنے میں مدد دینے کے لیے کیا ہے تاکہ والدین کی موجودگی میں وہ کسی بھی قسم کے ذہنی دباؤ کا شکار نہ ہوں، بورڈ کا پختہ ماننا ہے کہ اس اچھوتے اور مخلصانہ اقدام کی بدولت کم عمر ویبھو سوریاونشی کے بین الاقوامی کیریئر کے آغاز میں سامنے آنے والے سیکیورٹی، نظم و ضبط اور نفسیاتی مسائل کو بڑی حد تک کم کرنے میں مدد ملے گی اور وہ پوری یکسوئی کے ساتھ آئرلینڈ اور انگلینڈ کی پچوں پر بھارت کے لیے بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کر سکیں گے۔