سعودی عرب کے سفارتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی: ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان وزیرِ خارجہ کی مشیر اور خصوصی ایلچی مقرر

روزینہ اسماعیل, September 02,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی سفارتی فیصلہ کرتے ہوئے سینئر ڈپلومیٹ ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان کو مذاکرات اور بین الاقوامی امن کوششوں کے لیے وزیرِ خارجہ کی خاص مشیر اور خصوصی ایلچی مقرر کر دیا ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق یہ اہم تقرری مملکت کی خارجہ پالیسی کے تحت عالمی سفارتی امور کو مزید مضبوط بنانے، مختلف خطوں میں باہمی مذاکرات کو فروغ دینے اور عالمی امن عمل کی حمایت کی مسلسل کوششوں کے حصے کے طور پر کی گئی ہے۔

خصوصی ایلچی مقرر کیے جانے کے بعد ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان کے دائرہ اختیار میں بین الاقوامی مذاکرات، تنازعات کی تسویہ کاری، عالمی امن کی کوششوں میں معاونت اور بین الاقوامی برادری میں سعودی عرب کی موثر سفارتی موجودگی و اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرنا شامل ہو گا۔

ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان کو عالمی سفارت کاری، بین الاقوامی مذاکراتی عمل، پیچیدہ تنازعات کے حل اور کثیر الجہتی امور کا کثیر اور طویل تجربہ حاصل ہے۔ وہ اس سے قبل بھی سعودی وزارتِ خارجہ میں متعدد اعلیٰ اور ذمہ دارانہ عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں اور اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر سعودی عرب کی نمائندگی کا اعزاز رکھتی ہیں۔

حالیہ نئی تقرری سے قبل وہ وزارتِ خارجہ میں بطور وزیر کام کر رہی تھیں۔ انہوں نے سال 2017 سے وزارتِ خارجہ میں اعلیٰ مشیر اور بعد ازاں افریقی امور کے وزیرِ مملکت کے دفتر میں بطور مشیر خدمات انجام دیں۔ اس سے قبل سال 2012 میں بھی وہ وزیرِ خارجہ کے دفتر میں بطور مشیر اہم فرائض سرانجام دے چکی ہیں۔

ان کے شاندار سفارتی کیریئر میں سال 2012 سے 2017 کے درمیان نیویارک میں اقوامِ متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مشن کے ساتھ کام کرنے کا پانچ سالہ اہم تجربہ شامل ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب لیگ کے لیے سعودی مشن اور واشنگٹن ڈی سی میں سعودی سفارت خانے میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں، جہاں ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں امریکی کانگریس سے روابط اور سیاسی امور شامل تھے۔ انہوں نے مظلوم فلسطینیوں کے حقوق اور مسئلہ فلسطین کے پائیدار حل کے لیے سعودی عرب کی سفارتی پیش رفت میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

سعودی عرب میں بازوں (فالکنز) کی نیلامی کے نئے اور جدید قواعد کا باقاعدہ اعلان: صرف نیلامی سے خریدے گئے پرندے 13.33 ملین ڈالر انعامی رقم والے مقابلوں میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے

محمود احمد, JULY 30,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

سعودی عرب میں باز پروری، روایتی کھیل اور فالکنری کی اعلیٰ ترین بین الاقوامی مارکیٹ کو مزید وسعت دینے کے لیے سعودی حکام اور ‘انٹرنیشنل فالکن بریڈرز آکشن’ نے اپنے 2026ء ایڈیشن کے لیے ایک جدید اور انقلابی پالیسی فریم ورک کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ نئے اور باضابطہ قواعد و ضوابط کے تحت، آئندہ صرف انہی بازوں (فالکنز) کو سعودی عرب میں منعقد ہونے والی مقامی اور بین الاقوامی فالکن چِک ریسنگ اور مختلف دیگر مقابلوں میں حصہ لینے کا قانونی اہل قرار دیا جائے گا جو اس رسمی نیلامی کے ذریعے خریدے گئے ہوں گے۔ اس دور رس اور منفرد اقدام کا بنیادی مقصد باز پالنے والوں (بریڈرز)، بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور خواہش مند خریداروں کے لیے مارکیٹ میں نئے معاشی مواقع پیدا کرنا اور خریداروں کی دلچسپی کو مزید بڑھا کر تجارتی سرگرمیوں کو تاریخی اوج پر پہنچانا ہے۔

نئے قوانین و قواعد کے طریقہ کار کے مطابق، انٹرنیشنل فالکن بریڈرز آکشن کی نیلامی کے ذریعے خریدا جانے والا ہر نیا پرندہ لاگو قوانین کے تحت تمام ریسنگ کیٹیگریز میں حصہ لینے کی سند اور اہلیت خود بخود حاصل کر لے گا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں اب شاہی مملکت کے اندر خرید و فروخت کے تمام معاشی فیصلے ‘نیشنل سینٹر فار فالکنز’ کے زیرِ اہتمام یا مشترکہ طور پر منعقد ہونے والے مقابلے اور ریسنگز کے ساتھ براہِ راست منسلک ہو چکے ہیں۔ واضح رہے کہ ان تمام اعلیٰ سطحی اور معتبر مقابلوں میں کل انعامی رقم کو تقریباً 13.33 ملین امریکی ڈالر تک بڑھا دیا گیا ہے، جو کہ دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک بے نظیر اور کشش کا باعث رقم ہے۔

اس نئی ترغیبی پالیسی کے نفاذ سے نیلامی میں سرمایہ کاروں اور خریداروں کا حجم اور تجارتی کشش انتہائی تیز رفتاری سے بڑھنے کی توقع ہے۔ صنعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ محض نسل، جینیاتی افزائش کے معیار اور پرندے کی ابتدائی قیمت کے علاوہ، اب ممکنہ خریدار فالکن کی بہترین ریسنگ صلاحیت، پرواز کی استعداد اور اس کی مخصوص نسل کی عمومی کارکردگی کا بھی گہرا جائزہ لیں گے۔ اس اقدام سے خصوصی طور پر ‘میلواہ ریسنگ’ کیٹیگری کے لیے موزوں اور سستے و معیاری فالکنز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب اعلیٰ نسل اور تیز ترین رفتار کے حامل پرندوں کی افزائشِ نسل کو بین الاقوامی سطح پر فروغ ملے گا جو خطے میں فالکنری کی معاشی و ثقافتی صنعت کو ایک نیا نکتہِ عروج عطا کرے گا