یمن پر 120 سے زائد سعودی فضائی حملوں کے بعد حوثیوں کا شدید جوابی ردِعمل: سعودی عرب پر درجنوں میزائل اور ڈرونز داغنے کا دعویٰ

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

یمن کے حوثی عسکری گروپ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ تین روز کے دوران یمنی سرزمین پر 120 سے زائد سعودی فضائی و بحری حملوں کے ردِعمل میں سعودی عرب کے اہم اقتصادی اور عسکری اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے درجنوں بیلسٹک میزائل اور بارود سے لیس ڈرونز داغے ہیں۔

حوثی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے اپنے باضابطہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ یمنی عسکری دستوں نے طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ایک انتہائی بڑے پیمانے کی ملٹری آپریشنل کارروائی مکمل کی ہے۔ ان کے بقول اس جامع حملے میں درجنوں جدید بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا مربوط استعمال کیا گیا، جن کا بنیادی ہدف سعودی عرب کے اندر قائم مختلف عسکری اڈوں اور حساس معاشی تنصیبات کو بنانا تھا تاکہ حالیہ سعودی بمباری کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔

یہ سنسنی خیز پیش رفت ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہے جب سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے منگل کی صبح باضابطہ آگاہ کیا گیا تھا کہ ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں حوثی حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 شہری زخمی ہوئے ہیں۔ ریاض حکومت نے خبردار کیا تھا کہ بے گناہ شہریوں اور عام انفراسٹرکچر پر متواتر بمباری کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

اس عسکری ٹکراؤ سے قبل یمن کے حوثی ابلاغی ادارے ‘المسیرہ’ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ شب صوبہ الجوف کے شہر الحزم میں واقع ‘سینٹرل کریکشنل فیسلٹی’ یعنی مرکزی جیل کو شدید فضائی بمباری کا نشانہ بنایا۔ حوثی حکام کے مطابق تباہ شدہ جیل کے ملبے سے ایک خاتون سمیت 11 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ مزید 20 سے زائد افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ حوثیوں کا یہ بھی الزام ہے کہ الجوف کے علاوہ البیضا، مارب، تعز اور الحدیدہ پر بھی کروز میزائلوں سے شدید حملے کیے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں حوثی عسکری ترجمان نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی فورسز کے چار جدید ترین جاسوس ڈرونز، جن میں ایک طاقتور سی ایچ-4 ڈرون بھی شامل ہے، کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا نیا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم سعودی عسکری حکام یا سرکاری ذرائع کی جانب سے حوثیوں کے تازہ ترین فضائی و میزائل حملوں، ڈرونز کی تباہی اور جیل پر بمباری کے ان دعوؤں پر فی الوقت کوئی باضابطہ تبصرہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

حوثی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی: سعودی عرب کا سخت ردِعمل، شدید مذمت

محمود احمد, September 08,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے جنوبی مملکت کے اہم شہروں ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں شہری آبادی اور حساس اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے سنگین واقعات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ان پرتشدد اور بزدلانہ حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 73 شہری زخمی ہو گئے ہیں۔

سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اور اہم اعلامیے کے مطابق، حوثی ڈرون اور میزائل حملوں کی زد میں آ کر جنوبی سعودی عرب کے مختلف اور اہم حصوں میں واقع توانائی اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کی عمارتیں متاثر ہوئی ہیں۔ سعودی حکام نے ان کارروائیوں کو خطے کے امن کے لیے ایک انتہائی خطرناک عسکری کشیدگی قرار دیتے ہوئے اپنے شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور قومی مفادات کی ہمہ وقت حفاظت کو یقینی بنانے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے اپنے تفصیلی بیان میں واضح کیا کہ حوثی ملیشیا نہ صرف زمینی اہداف بلکہ بحیرۂ احمر جیسے اہم ترین تجارتی راستے پر بھی تجارتی بحری جہازوں کو مسلسل اور منصوبہ بند طریقے سے نشانہ بنا رہی ہے، جس سے بین الاقوامی بحری آمدورفت اور آزادانہ سمندری تجارت کی سلامتی کو کھلے خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب نے حوثیوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان مخالفانہ کارروائیوں کا سلسلہ بند کریں اور تجارت کو مفلوج کرنے سے باز رہیں۔

اعلامیے کے مطابق، ریاض حکومت یمن کے ساتھ ساتھ اپنے تمام عرب اور اسلامی ہمسایہ ممالک کی سلامتی اور پائیدار استحکام کو داؤ پر لگانے والے حوثی گروپ کے کسی بھی جارحانہ قدم کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ بیان میں حوثیوں کی طرف سے خطے میں امن کی مسلسل کوششوں کو ناکام بنانے اور بات چیت کو معطل کرنے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

سعودی حکومت نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مملکت کو اپنی جغرافیائی خودمختاری کے تحفظ، قومی وسائل کی سلامتی اور ملک میں موجود تمام شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اور تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا پورا آئینی و بین الاقوامی حق حاصل ہے۔ ریاض نے باور کرایا کہ اپنی سرزمین پر حملوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس طرح کی کارروائیوں کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یمن میں لڑائی میں ایک بار پھر شدید تپش: حوثیوں کا سعودی عرب پر فضائی حملوں اور کروز میزائل کارروائیوں کا بڑا الزام

محمود احمد, September 07,2026

صنعا (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

یمن کے حوثی باغی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے متعدد صوبوں میں شدید فضائی حملے کیے ہیں اور کروز میزائلوں سے مختلف اہم اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ حوثیوں کے زیرِ انتظام کام کرنے والی سرکاری خبر رساں ایجنسی صبا کے مطابق ان تازہ فضائی اور میزائل حملوں کے دوران صوبہ الجوف، البیضا، مأرب اور تعز کے متعدد حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے۔

حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر ان شدید حملوں کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں زمینی جنگ ایک بار پھر انتہائی خونریز اور شدت اختیار کر گئی ہے۔ حوثی جنگجو اس وقت بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل آبنائے باب المندب سے متصل اہم اور تزویراتی علاقوں کی جانب تیزی سے پیش قدمی کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں جہاں انہیں شدید مقاومت کا سامنا ہے۔

موصولہ رپورٹوں کے مطابق گزشتہ چند روز سے حوثی جنگجوؤں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی باقاعدہ مسلح افواج کے درمیان گھمسان کا معرکہ جاری ہے۔ ان جھڑپوں میں اب تک دونوں جانب سے بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ یمنی حکومتی فورسز کو سعودی عرب کی مکمل سفارتی و عسکری حمایت حاصل ہے جبکہ خود کو انصار اللہ کہلوانے والے حوثی گروپ کو ایران کا قریبی اتحادی تصور کیا جاتا ہے۔

اس وقت حوثی گروپ دارالحکومت صنعا سمیت شمالی یمن کے تمام وسیع و عریض علاقوں پر قابض ہے، جبکہ یمنی حکومت کے حامی دستے ملک کے جنوبی اور مشرقی حصوں سمیت اہم ساحلی اور بندرگاہی علاقوں کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔ حالیہ لڑائی کا مرکزی نقطہ تعز، الحدیدہ کے مغربی اضلاع اور المَخا کے اطراف کا خطہ ہے، جو باب المندب کی اہم سمندری گزرگاہ تک براہِ راست رسائی فراہم کرتا ہے۔ یمنی حکومتی فورسز نے بھی حوثی ٹھکانوں پر جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے بعض اہم علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس تمام تر جنگی صورتحال کے پیشِ نظر حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف جوابی سمندری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے سعودی تیل بردار جہازوں اور ان کی نقل و حمل کو نشانہ بنانے کی کھلی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ چونکہ آبنائے باب المندب دنیا بھر کی تیل اور تجارتی ترسیل کی اہم ترین شاہراہ ہے، اس لیے اس خطے میں جنگ کے پھیلنے سے عالمی جہاز رانی اور توانائی کے منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ فی الوقت سعودی حکام نے حوثیوں کے ان تازہ الزمات پر کوئی باقاعدہ تبصرہ یا آزادانہ تصدیق جاری نہیں کی ہے۔

جنوب مغربی یمن میں حوثیوں اور حکومتی افواج کے درمیان خوفناک معرکہ آرائی: 140 سے زائد عسکری اہلکار ہلاک

محمود احمد, September 06,2026

تعز / عدن (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

یمن کے تزویراتی جنوب مغربی محاذوں پر ایران کے اتحادی حوثی جنگجوؤں اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی شدت میں ہولناک اضافہ ہو گیا ہے، جہاں ہفتے کی سہ پہر سے اتوار کی صبح کے درمیان ہونے والی خونریز لڑائی میں دونوں جانب سے 140 سے زائد فوجی اور عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق یمنی حکومت کے دو سینئر عسکری عہدیداروں نے تصدیق کی ہے کہ حوثیوں کے شدید میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں ان کی افواج کے کم از کم 84 اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں۔ دوسری جانب حوثی تحریک (انصار اللہ) کے چار عسکری ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ اسی 24 گھنٹے کے عرصے کے دوران ان کے بھی 57 جنگجو مارے گئے ہیں۔

عسکری ماہرین کے مطابق بحیرہ احمر کے انتہائی اہم اور حساس داخلی راستے ‘آبنائے باب المندب’ اور اس سے ملحقہ ساحلی علاقوں پر مکمل سیکیورٹی اور ملٹری کنٹرول حاصل کرنے کے لیے جاری یہ جنگ گزشتہ دو ماہ کے دوران سب سے زیادہ مہلک اور خونی ثابت ہوئی ہے۔ یہ نیا خونریز مرحلہ 2022ء کے تاریخی جنگ بندی معاہدے کے حتمی طور پر ختم ہونے اور تعطل کا شکار ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی عسکریت پسندوں نے جمعرات کے روز ایک بڑے پیمانے پر جارحانہ عسکری آپریشن کا آغاز کیا تھا، جس کا بنیادی مقصد ‘موچا’ کی تاریخی و اہم بندرگاہ کے مواصلاتی و لوجسٹک رابطوں کو مکمل طور پر منقطع کرنا تھا۔ یہ بندرگاہ گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل حملوں کی زد میں ہے اور حوثی فورسز آبنائے باب المندب کی جانب تیزی سے پیش قدمی کی کوشش کر رہی ہیں۔

مختلف عسکری اور طبی ذرائع کے فراہم کردہ مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق جمعرات سے شروع ہونے والے اس تازہ ترین معرکے میں اب تک مجموعی طور پر 300 سے زائد فوجی اور کئی عام شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھ ہیں، جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔

خلیجِ فارس میں ‘آبنائے ہرمز’ کے ارد گرد بڑھتے ہوئے شدید جنگی خطرات اور ممکنہ بندش کے پیشِ نظر، دنیا میں خام تیل کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک سعودی عرب کی بحری برآمدات اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ‘آبنائے باب المندب’ کی تزویراتی اور معاشی اہمیت میں ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے۔

یاد رہے کہ خود کو ‘انصار اللہ’ کہلوانے والا حوثی گروپ اس وقت شمالی یمن، دارالحکومت صنعاء اور بحیرہ احمر کے مغربی ساحلی پٹی کے ایک بڑے رقبے پر قابض ہے، جبکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ یمنی صدارتی لیڈرشپ کونسل ملک کے مشرقی علاقوں، جنوبی ساحل اور اہم بندرگاہی شہر ‘عدن’ پر کنٹرول رکھتی ہے۔

سعودی عرب کے سفارتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی: ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان وزیرِ خارجہ کی مشیر اور خصوصی ایلچی مقرر

روزینہ اسماعیل, September 02,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی سفارتی فیصلہ کرتے ہوئے سینئر ڈپلومیٹ ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان کو مذاکرات اور بین الاقوامی امن کوششوں کے لیے وزیرِ خارجہ کی خاص مشیر اور خصوصی ایلچی مقرر کر دیا ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق یہ اہم تقرری مملکت کی خارجہ پالیسی کے تحت عالمی سفارتی امور کو مزید مضبوط بنانے، مختلف خطوں میں باہمی مذاکرات کو فروغ دینے اور عالمی امن عمل کی حمایت کی مسلسل کوششوں کے حصے کے طور پر کی گئی ہے۔

خصوصی ایلچی مقرر کیے جانے کے بعد ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان کے دائرہ اختیار میں بین الاقوامی مذاکرات، تنازعات کی تسویہ کاری، عالمی امن کی کوششوں میں معاونت اور بین الاقوامی برادری میں سعودی عرب کی موثر سفارتی موجودگی و اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرنا شامل ہو گا۔

ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان کو عالمی سفارت کاری، بین الاقوامی مذاکراتی عمل، پیچیدہ تنازعات کے حل اور کثیر الجہتی امور کا کثیر اور طویل تجربہ حاصل ہے۔ وہ اس سے قبل بھی سعودی وزارتِ خارجہ میں متعدد اعلیٰ اور ذمہ دارانہ عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں اور اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر سعودی عرب کی نمائندگی کا اعزاز رکھتی ہیں۔

حالیہ نئی تقرری سے قبل وہ وزارتِ خارجہ میں بطور وزیر کام کر رہی تھیں۔ انہوں نے سال 2017 سے وزارتِ خارجہ میں اعلیٰ مشیر اور بعد ازاں افریقی امور کے وزیرِ مملکت کے دفتر میں بطور مشیر خدمات انجام دیں۔ اس سے قبل سال 2012 میں بھی وہ وزیرِ خارجہ کے دفتر میں بطور مشیر اہم فرائض سرانجام دے چکی ہیں۔

ان کے شاندار سفارتی کیریئر میں سال 2012 سے 2017 کے درمیان نیویارک میں اقوامِ متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مشن کے ساتھ کام کرنے کا پانچ سالہ اہم تجربہ شامل ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب لیگ کے لیے سعودی مشن اور واشنگٹن ڈی سی میں سعودی سفارت خانے میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں، جہاں ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں امریکی کانگریس سے روابط اور سیاسی امور شامل تھے۔ انہوں نے مظلوم فلسطینیوں کے حقوق اور مسئلہ فلسطین کے پائیدار حل کے لیے سعودی عرب کی سفارتی پیش رفت میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

سعودی عرب کے صوبے نجران سے 18 لاکھ برس قدیم انسانی آبادی کے تاریخی آثار دریافت

کاشف عباسی , August 30,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

سعودی عرب کے جنوبی صوبے نجران کے تاریخی علاقے ‘شعب دحضہ’ سے تقریباً 18 لاکھ (1.8 ملین) برس قدیم انسانی آبادی کے نادر اور انتہائی اہم آثارِ قدیمہ دریافت ہوئے ہیں۔ سعودی ہیریٹیج کمیشن نے ان دریافت ہونے والے آثار کو جنوبی عرب کے خطے میں انسانوں کی ابتدائی آبادی اور براعظموں کے درمیان ان کی تاریخی ہجرت کے ابتدائی ادوار کا ایک نہایت اہم اور مستند سائنسی ثبوت قرار دیا ہے۔ کمیشن کے مطابق یہاں سے ملنے والے پتھر کے اوزار اور دیگر شواہد ابتدائی حجری دور کے ہیں، جن کی قدامت 12 لاکھ سے 18 لاکھ سال پرانی بتائی گئی ہے۔

سعودی ہیریٹیج کمیشن اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی تفصیلات کے مطابق، سنہ 1980ء میں وادی کے علاقے میں کیے جانے والے ایک ابتدائي سروے کے دوران ایک بلند سطح سے چکم دار اور سخت ‘کوارٹزائٹ’ کے پتھروں سے بنے 34 اوزاروں کا ایک قدیم مجموعہ حاصل ہوا تھا۔ ان اوزاروں میں مختلف نوعیت کے کٹر، کھرچنی، تیز دھار بلیڈ اور ہتھوڑے شامل ہیں، جنہیں اس دور کا قدیم انسان شکار کیے گئے جانوروں کا گوشت کاٹنے، ان کی ہڈیاں توڑنے، اور کھال اتار کر لباس یا عارضی پناہ گاہ بنانے جیسے روزمرہ کاموں کے لیے انتہائی مہارت سے استعمال کرتا تھا۔

سعودی ہیریٹیج کمیشن کے شعبہ آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر العتیبی نے اس غیر معمولی دریافت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شعب دحضہ کا یہ مقام جزیرہ نمائے عرب میں انسانی موجودگی، آبادی کی ابتدا اور اس کے ارتقائی دور کے بارے میں تاریخ دانوں کو اہم اور نئی سائنسی معلومات فراہم کرتا ہے۔ اسی حوالے سے ‘نجران سوسائٹی فار ہسٹری اینڈ آرکیالوجی’ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دریافت ہونے والے اوزار اور ہتھیار اس بات کا روشن ثبوت ہیں کہ لاکھوں سال پہلے اس خطے میں رہنے والا قدیم انسان مقامی قدرتی وسائل کو اپنے مقصد کے لیے ڈھالنے میں بے پناہ مہارت، بصیرت اور ذہانت رکھتا تھا۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کا نیا دور، وزیراعظم شہباز شریف سے اعلیٰ سطح کے سعودی کاروباری وفد کی اہم ملاقات

کاشف عباسی , August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے اہم اور ترجیحی شعبوں میں سعودی عرب کی جانب سے بڑی سرمایہ کاری کی گہری دلچسپی کا پرجوش اور گرمجوش خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان حکومت سے حکومت اور کاروبار سے کاروبار کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے اور وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے یہ بہترین، موزوں اور تاریخ کا سب سے مناسب وقت ہے۔ اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس میں سعودی پاک مشترکہ بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی قیادت میں آنے والے اعلیٰ سطح کے سعودی کاروباری اور تجارتی وفد سے تفصیلی اور اہم ملاقات کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے اپنے دلی احترام، عقیدت اور نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دہائیوں پر محیط دیرینہ، دینی اور تاریخی برادرانہ تعلقات قائم ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ ان تعلقات کو باہمی مفادات پر مبنی ایک پائیدار اور مضبوط سٹریٹجک اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے تاکہ دونوں ممالک کی معیشت کو استحکام اور پائیدار ترقی حاصل ہو سکے۔

ملاقات کے دوران سعودی وفد کے سربراہ شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے پاکستان کے مختلف اہم اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں جن میں زراعت، بندرگاہوں کی جدید کاری، شاہراہوں کی تعمیر و توسیع، بین الاقوامی ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ، رئیل اسٹیٹ، جدید توانائی کے منصوبوں، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی بہتری اور انفارمیشن ٹیکنالوجی شامل ہیں، میں بڑی سرمایہ کاری اور تجارتی شراکت داری قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کے وژن 2030 کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے اور شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کے سابقہ دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کا موجودہ دورہ گزشتہ بات چیت اور دوطرفہ مذاکرات کو آگے بڑھانے میں انتہائی مددگار ثابت ہو گا اور مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر مالیت کے تجارتی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر پیش رفت کی راہ ہموار کرے گا۔ انہوں نے سعودی وفد کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے ہر ممکن سہولیات، شفاف ماحول اور حکومتی سطح پر کامل تعاون فراہم کرنے کا یقین دلایا۔

اس موقع پر شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے پاکستانی قیادت اور حکومت کے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی حکومت اور وہاں کی تجارتی برادری پاکستان کے نجی اور سرکاری شعبے کے ساتھ تجارتی و کاروباری روابط کو مزید گہرا اور مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وفد اپنے دورۂ پاکستان کے دوران مختلف وزراء، اعلیٰ حکومتی نمائندوں اور نجی شعبے کے اہم سٹیک ہولڈرز سے بھی تفصیلی ملاقاتیں کرے گا تاکہ آئندہ کے منصوبوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔ اس اعلیٰ سطح اور اہم ملاقات میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، جام کمال خان، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، جنید انوار چوہدری، علی پرویز ملک، سردار اویس احمد خان لغاری، محمد حنیف عباسی، وزیراعظم کے مشیران محمد علی، ہارون اختر خان، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔

بحیرۂ احمر میں تناؤ: سعودی بندرگاہ ینبع کے قریب آئل ٹینکر پر میزائل حملہ، عرشے پر آگ بھڑک اٹھی

محمود احمد, August 24,2026

جدہ/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

سعودی عرب کے مغربی ساحل پر واقع سٹریٹجک اہمیت کی حامل بندرگاہ ینبع کے قریب ایک تیل بردار جہاز (آئل ٹینکر) نا معلوم سمت سے آنے والے میزائل کا نشانہ بن گیا۔ برطانوی بحری تجارتی کارروائیوں کے ادارے ‘یو کے ایم ٹی او’ کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی الرٹ کے مطابق، حملے کے نتیجے میں آئل ٹینکر کے عرشے (ڈیک) پر شدید آگ بھڑک اٹھی، جس پر قابو پانے کے لیے فوری کارروائی کی گئی۔

یو کے ایم ٹی او کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، یہ حملہ ینبع پورٹ کے مغرب میں سمندر میں پیش آیا۔ تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ بحری جہاز کے عملے کے تمام ارکان مکمل طور پر محفوظ ہیں اور کسی جانی نقصان یا سمندر میں تیل کے اخراج سے ہونے والے ماحولیاتی نقصان کی فوری اطلاعات نہیں ملی ہیں۔ ادارے نے فی الحال سیکیورٹی اور تحقیقاتی وجوہات کی بناء پر متاثرہ آئل ٹینکر کی ملکیت یا اس کے پرچم کی تفصیلات عام نہیں کی ہیں۔

ینبع کی بندرگاہ سعودی عرب کی اہم ترین آئل ایکسپورٹ ٹرمینلز اور صنعتی مراکز میں شمار ہوتی ہے، جو بحیرۂ احمر کے ذریعے خام تیل کی عالمی ترسیل میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیوں کے اعلان اور ایران کی جانب سے جواباً خطے سے تیل کی ترسیل روکنے اور آبنائے ہرمز و بحیرۂ احمر کے بحری راستوں کو متاثر کرنے کی دھمکیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔

اگرچہ اس حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی نے قبول نہیں کی ہے، لیکن ماضی میں یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی بندرگاہوں اور بحیرۂ احمر سے گزرنے والے تجارتی و آئل ٹینکرز پر ڈرون اور میزائل حملے کیے جاتے رہے ہیں۔ حوثی گروپ کی جانب سے ماضی میں سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی معاشی ناکہ بندی کے جواب میں بحیرۂ احمر کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔

بین الاقوامی بحری سیکیورٹی اداروں نے اس واقعے کے بعد بحیرۂ احمر اور باب المندب کی شاہراہ سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کو شدید محتاط رہنے اور الرٹ کی سطح بلند رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس تازہ ترین واقعے سے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی فراہمی اور بحری تجارت کی حفاظت سے متعلق تحفظات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

سعودی عرب اور فرانس کے درمیان کھیل کے شعبے میں تعاون کی تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط

محمود احمد, August 24,2026

پیرس (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

سعودی عرب اور فرانس نے کھیل اور ایتھلیٹکس کے شعبے میں باہمی تعلقات کو فروغ دینے، تجربات کا تبادلہ کرنے اور مشترکہ پروگراموں کو وسعت دینے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط کر دیے ہیں۔ یہ دستخط فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں منعقدہ ’ای سپورٹس ورلڈ کپ 2026‘ کی پروقار اختتامی تقریب کے موقع پر کیے گئے۔

سعودی عرب کی جانب سے وزیرِ کھیل شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل اور فرانس کی جانب سے فرانسیسی وزیرِ کھیل مارینا فیری نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔ اس مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان سپورٹس انڈسٹری میں تعاون کے ایک جامع اور عمومی فریم ورک کی تشکیل کرنا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کی میزبانی میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنسوں، سیمینارز اور کھیلوں کے بڑے عالمی ایونٹس میں مشترکہ شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔

اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے کھیل سے وابستہ اداروں اور تنظیموں کے درمیان ایکسپرٹیز کا تبادلہ کیا جائے گا۔ اس میں خصوصی طور پر ایلیٹ سپورٹس، ای سپورٹس ، گراس روٹس سپورٹس، سپورٹس سائنس، سپورٹس میڈیسن اور سپورٹس لا (کھیلوں کے قوانین) جیسے اہم شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے کوچز، ماہرین اور محققین کے درمیان جدید تکنیکوں اور صلاحیتوں کی بہتری کے لیے باقاعدہ تبادلے کی راہ ہموار ہوگی، جو سعودی عرب کے ‘ویژن 2030’ کے تحت کھیل کے شعبے کی ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔

عراق کا بڑا فوجی قدم: سعودی سرحد کی نگرانی کے لیے نئی ’بدیہہ آپریشنز کمانڈ‘ قائم، پڑوسی ممالک کے خلاف حملے روکنے کا عزم

محمود احمد, August 23,2026

بغداد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

عراقی حکومت نے اپنی جنوبی و مغربی سرحدوں، بالخصوص برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ ملحقہ بارڈر پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کے لیے ایک نئی ملٹری کمانڈ تشکیل دے دی ہے۔ عراقی حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی اور اہم مقصد عراق کی سرحدی حدود کو محفوظ بنانا اور کسی بھی غیر قانونی عنصر کی جانب سے عراقی سرزمین کو پڑوسی ممالک پر حملوں یا تخریب کاری کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کو مکمل طور پر ناکام بنانا ہے۔

عراقی وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل یحییٰ رسول نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ نئی قائم کردہ ‘بدیہہ آپریشنز کمانڈ’ اپنے مشن کے پہلے ہی دن سے عملی طور پر فعال ہو کر سعودی عرب کی سرحد کے قریب طے شدہ علاقوں میں منتقل ہونا شروع ہو گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ نئی ملٹری آپریشنز کمانڈ بنیادی طور پر 10 اگست کو صوبہ مثنیٰ کے وسیع صحرائی خطے میں سیکیورٹی کو مزید مضبوط اور سخت بنانے کے لیے قائم کی گئی تھی، جس کے مستقل کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

میجر جنرل یحییٰ رسول نے مزید تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ اس نوبنیاد کمانڈ کا مرکزی ہیڈکوارٹر صوبہ مثنیٰ کے تاریخی اور سٹریٹجک علاقے ‘نقرة السلمان’ میں قائم کیا جائے گا۔ نقرة السلمان کا یہ خطہ سماوہ کے وسیع صحرا کے بالکل وسط میں اور ضلع سلمان کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے، جو سعودی عرب کی سرحد سے محض 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس پیش رفت کے بعد دونوں برادر ممالک کے سرحدی دفاع میں مزید بہتری اور علاقائی استحکام کی امید کی جا رہی ہے۔

کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ’سائلنٹ ایئرپورٹ‘ پراجیکٹ کا آغاز: پبلک اناؤنسمنٹس میں کمی، ڈیجیٹل ڈسپلے پر انحصار بڑھے گا

محمود احمد, August 20,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے اپنے بین الاقوامی ٹرمینل نمبر 5 پر ’سائلنٹ ایئرپورٹ‘ پراجیکٹ کے پہلے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ہوائی اڈے پر غیر ضروری پبلک اناؤنسمنٹس اور شور و غل کو کم کر کے مسافروں کو ایک پرسکون، اور آرام دہ سفر کا ماحول فراہم کرنا ہے۔

سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس پراجیکٹ کے تحت اب بلند آواز میں ہونے والے اعلانات کو صرف ڈیپارچر گیٹس تک ہی محدود رکھا جائے گا۔ مسافروں کو فلائٹ سے متعلق تمام ضروری معلومات اور اپ ڈیٹس فراہم کرنے کے لیے اب جدید ڈیجیٹل ڈسپلے سکرینز اور مختلف آن لائن چینلز کا استعمال کیا جائے گا۔ مسافر ایئرپورٹ کے آفیشل واٹس ایپ نمبر، ویب سائٹ، موبائل نوٹیفیکیشنز اور ’آسک می‘ ٹیم کے ذریعے اپنی پروازوں کی صورتحال سے لمحہ بہ لمحہ باخبر رہ سکیں گے۔ ایئرپورٹ انتظامیہ نے بتایا ہے کہ اس منصوبے کے اگلے مراحل کا اعلان طے شدہ وقت پر کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ عالمی سطح پر بھی بہترین خدمات کے لیے جانا جاتا ہے۔ برطانیہ کے عالمی ادارے ‘سکائی ٹریکس’ کے انڈیکس میں اس ایئرپورٹ نے مشرقِ وسطیٰ کے بہترین ایئرپورٹس میں چوتھی جبکہ 30 سے 40 ملین مسافروں کی کیٹیگری میں نمایاں پوزیشنز حاصل کی ہیں۔

دنیا کی تین بڑی مسلم طاقتوں کا تاریخی ‘مکہ معاہدہ’: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی اتحاد کی اہم خصوصیات

محمود احمد, August 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء

دنیا کی تین بڑی اور اہم مسلم طاقتوں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ‘مکہ معاہدے’ کے تحت ایک جدید اور تاریخی مشترکہ دفاعی اتحاد وجود میں آ گیا ہے جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا بلکہ عالمی جیو پولیٹیکل منظر نامے پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس دفاعی معاہدے کو عالمی و علاقائی سیاست کے ماہرین خطے میں طاقت کے توازن اور پائیدار امن کی جانب ایک انتہائی اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

اس تاریخی معاہدے کے تحت تینوں ممالک دفاعی اور معاشی اعتبار سے اپنی اپنی منفرد خصوصیات اور اعلیٰ صلاحیتوں کا اشتراک کریں گے۔ انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے تجزیے کے مطابق اس معاہدے کی بنیادی اور علامتی اہمیت یہ ہے کہ اس میں پاکستان کی مانی ہوئی جوہری و ملٹری صلاحیت، سعودی عرب کی بے پناہ توانائی، مالیاتی وسائل و معاشی طاقت اور ترکی کی جدید اور تیزی سے ابھرتی ہوئی دفاعی و ٹیکنالوجیکل صنعت ایک ساتھ مجتمع ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل یہ تینوں مسلم ممالک مختلف بلاکس یا معاہدوں کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک تھے، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ تینوں طاقتور ممالک نے ایک مشترکہ چھتری تلے جمع ہو کر دفاعی اشتراک کا اعلان کیا ہے۔

اگرچہ مکہ معاہدے کا پورا باضابطہ متن تاحال عام نہیں کیا گیا، تاہم تینوں ممالک کی سفارتی اور دفاعی قیادت کی جانب سے جاری کردہ اشاروں کے مطابق اس باہمی معاہدے کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ کسی بھی ایک رکن ملک پر غیر ملکی جارحیت یا حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق نیٹو یعنی نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن کے مشہور زمانہ ‘آرٹیکل 5’ سے مماثلت رکھتی ہے۔ اس اہم شق کا سیدھا اور واضح مقصد خطے میں کسی بھی ممکنہ دشمن یا جارح قوت کو حملے سے باز رکھنا اور رکن ممالک کی سلامتی کی مکمل ضمانت دینا ہے۔

دفاعی و سٹریٹیجک تجزیہ کاروں کی رائے کے مطابق اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اگر جنوبی ایشیا میں کسی بھی قسم کے مسلح تنازع یا جنگ کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو سعودی عرب اور ترکی پاکستان کی دفاعی مدد، لاجسٹکس اور سفارتی حمایت فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ اسی طرح اگر مشرقِ وسطیٰ، شام یا مشرقی بحیرۂ روم کے علاقوں میں اسرائیل یا کسی دوسری قوت کے ساتھ ترکی یا سعودی عرب کا سامنا ہوتا ہے تو پاکستانی مسلح افواج اور انٹیلی جنس ادارے اپنے اتحادیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔

تاہم دیگر بین الاقوامی سیاسی مبصرین اور سفارت کاروں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاہدے میں شامل کسی ایک ملک کو کسی تنازع کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو دیگر دو ممالک کا فوری اور راست طور پر جنگ میں کود پڑنا واحد راستہ نہیں ہوگا۔ اس کے بجائے معاہدے کی شرائط کے تحت متاثرہ ملک کو اعلیٰ درجے کا جدید ترین اسلحہ، دفاعی ڈرونز، مشترکہ انٹیلی جنس، سیٹلائٹ ڈیٹا اور عالمی فورمز پر بھرپور سفارتی و معاشی تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ کسی بھی جارحیت کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کر سکے۔

اس کے علاوہ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک کی برّی، بحری اور فضائی افواج کے درمیان باقاعدگی سے مشترکہ فوجی مشقوں، جنگی سامان کی باہمی تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی پر بھی کام کیا جائے گا۔ اس اقدام سے دفاعی پیداوار میں خودانحصاری حاصل ہوگی اور مغربی یا بیرونی ممالک پر فوجی انحصار میں نمایاں کمی آئے گی۔

صنعتی اور معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو مکہ معاہدہ صرف فوجی سطح تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے ذریعے تینوں ممالک کے درمیان تجارتی راستوں کی حفاظت، توانائی کے تحفظ اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں بھی تعاون بڑھایا جائے گا۔ پاکستان کی جیو سٹریٹیجک پوزیشن، سعودی عرب کے مالیاتی وسائل اور ترکی کی صنعتی طاقت کا یہ ملاپ ایک ایسا نیا معاشی و دفاعی بلاک تشکیل دے رہا ہے جو خطے میں پائیدار استحکام لانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

عالمی طاقتوں کی جانب سے اس نئے اتحاد کا گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف اسلامی دنیا میں اس پیش رفت کو انتہائی خوش آئند اور مسلم امہ کے اتحاد کی جانب بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے، وہاں دوسری جانب روایتی حریف ممالک اور عالمی سیاسی کھلاڑی اس نئے طاقت کے مرکز کی تشکیل کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں۔ مکہ معاہدہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آنے والے دور میں علاقائی خود مختاری اور باہمی دفاعی تعاون ہی کسی بھی ملک کی سلامتی کی حتمی ضمانت بن کر سامنے آئے گا۔

سعودی سول ایوی ایشن کا ایئر لائنز کو سرکلر: پرواز سے قبل مسافروں کے تمام سفری دستاویزات کی مکمل تصدیق کا حکم

محمود احمد, August 17,2026

رياض (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن گاکا نے ایک اہم نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے مملکت کے تمام ہوائی اڈوں پر فعال کمرشل اور پرائیویٹ ایئر لائنز کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں। سرکلر کے تحت تمام ایئر لائنز پر لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ پرواز سے قبل مسافروں کی تمام درکار سفری دستاویزات کی صد فیصد تصدیق ہر صورت یقینی بنائیں۔

خلیجی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق گاکا نے واضح کیا ہے کہ ایئر کیریئرز مسافروں کی سعودی عرب میں آمد، روانگی، حتمی منزل، اور ٹرانزٹ والے تمام ممالک کی جدید ترین سفری شرائط و ضوابط کی مکمل چھان بین کریں۔ ایئر لائنز کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ قواعد و ضوابط سے متعلق معلومات محض مستند سرکاری ذرائع یا بااختیار منظور شدہ انتظامی قواعد سے حاصل کی جائیں۔

اس کے علاوہ، تمام ایئر لائنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بورڈنگ پوائنٹس پر ضروری احتیاطی تدابیر اپنائیں تاکہ بورڈنگ کارڈ حاصل کرنے والے ہر مسافر کی قانونی و سفری دستاویزات کی مکمل جانچ ہو سکے۔ سعودی اتھارٹی نے تمام ایئر لائنز کو خبردار کیا ہے کہ گاکا کی جاری کردہ تمام ہدایات، احکامات اور سرکلرز کی مکمل اور بلا تاخیر پاسداری کی جائے، اور کسی بھی قسم کی غفلت یا ورزی پر سخت قانونی و انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

سعودی عرب کی نئی ایئر لائن ‘ریاض ایئر’ کا پاکستان کے لیے فضائی آپریشنز کا باقاعدہ آغاز: پہلی پرواز اسلام آباد پہنچ گئی

محمود احمد, August 15,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اگست 2026ء

سعودی عرب کی نو تشکیل شدہ قومی ایئر لائن ‘ریاض ایئر’ نے پاکستان میں اپنے باقاعدہ فضائی آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت ایئر لائن کی پہلی پرواز سعودی دارالحکومت ریاض سے اسلام آباد پہنچ گئی۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق ریاض ایئر کی افتتاحی پرواز نے 69 مسافروں کو لے کر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کامیابی سے لینڈ کیا۔ ایئرپورٹ پر نئی ایئر لائن کی آمد کا استقبال روایتی ‘واٹر کینن سیلوٹ’ کے ساتھ کیا گیا۔ اس موقع پر ایئرپورٹ پر ایک پروقار تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی، ڈائریکٹر جنرل پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی ذیشان سعید اور دونوں ممالک کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

پاکستان میں اپنے آپریشنز کے پہلے مرحلے کے تحت ریاض ایئر، ریاض اور اسلام آباد کے درمیان ہفتہ وار 7 پروازیں چلائے گی۔ افتتاحی پرواز اسلام آباد پہنچنے کے بعد 272 مسافروں کو لے کر ریاض کے لیے روانہ ہوئی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی ذیشان سعید نے ریاض ایئر کے آپریشنز کو دونوں برادر ممالک کے درمیان فضائی رابطوں اور معاشی تعلقات کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت سے سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں اور دونوں ممالک کے درمیان سفر کرنے والے زائرین اور کاروباری برادری کو بہترین سفری سہولیات میسر آئیں گی۔

کولمبیا کی جانب سے مقبوضہ شامی گولان ہائٹس پر اسرائیلی تسلط تسلیم کرنے کی شدید مذمت: سعودی عرب نے فیصلے کو بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی قرار دے دیا

محمود احمد, August 12,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

سعودی عرب نے کولمبیا کی جانب سے مقبوضہ شامی گولان ہائٹس پر غاصب اسرائیلی خودمختاری و تسلط کو باقاعدہ تسلیم کرنے کے یکطرفہ فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین، عالمی اصولوں اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے جاری کردہ ایک انتہائی اہم سرکاری بیان میں واضح کیا کہ کولمبیا کا یہ غیر قانونی اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سال 1981ء میں منظور کی جانے والی تاریخی قرارداد 497 کی مکمل اور صریح خلاف ورزی ہے۔ اس سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت مقبوضہ گولان ہائٹس کے علاقے پر اسرائیل کے اپنے ظالمانہ قوانین، دائرہ اختیار اور انتظامیہ نافذ کرنے کا اقدام مکمل طور پر کالعدم اور قانونی اثرات کے بغیر ٹھہرایا گیا ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس قسم کے بلاجواز اور غیر قانونی سیاسی موقف خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول میں کسی قسم کی مدد فراہم نہیں کرتے بلکہ اس سے خطے میں قیامِ امن کی بین الاقوامی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچنے اور معاملات کو سبوتاژ کرنے کا اندیشہ ہے۔

سعودی عرب نے اپنے دیرینہ اور اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ گولان ہائٹس بلا شبہ شام کی ایک مقبوضہ سرزمین ہے اور اس کی تاریخی، جغرافیائی یا قانونی حیثیت کو کسی صورت تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے یکطرفہ فیصلے يا اقدامات اس ناانصافی کو کوئی قانونی جواز فراہم نہیں کر سکتے۔ اپنے بیان کے اختتام پر مملکت نے کولمبیا کی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اپنے اس فیصلے اور موقف پر نظرثانی کرے، عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری کو یقینی بنائے اور خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششوں کی حمایت کرے۔

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا بڑا اعلان: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ نیٹو جیسا اتحاد ہے، مصر بھی جلد شامل ہوگا

محمود احمد, August 09,2026

انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ’ خطے میں جاری جنگ، بحرانوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے قائم کیا گیا ہے، جو کہ نیٹو کی طرز کا ایک مضبوط دفاعی اتحاد ہے۔

ترک سرکاری خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہاکان فیدان نے واضح کیا کہ ایران یا کوئی اور ملک اس دفاعی معاہدے کا براہِ راست ہدف نہیں ہے، اور جب تک اس اتحاد کے کسی رکن پر حملہ نہیں ہوتا، کسی دوسرے ملک کو اس سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ ناگفتہ بہ حالات میں علاقائی ممالک کے درمیان سلامتی اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہی مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی ضمانت ثابت ہو سکتا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اگلے مرحلے میں مصر بھی اس اتحاد کا باقاعدہ حصہ بن جائے گا، کیونکہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب پہلے ہی مصر کے ساتھ اس انداز میں تعاون کر رہے ہیں جیسے وہ اس باقاعدہ دفاعی اتحاد کے رکن ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ مصر کی شمولیت میں چند تکنیکی اور انتظامی امور باقی ہیں جن کے حل ہوتے ہی مصر اس معاہدے میں باقاعدہ شامل ہو جائے گا۔

ہاکان فیدان نے مزید بتایا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی مخصوص ریاست کے خلاف نہیں بنایا گیا، بلکہ صدر رجب طیب اردگان کی سوچ کے مطابق اس کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ ضرورت پڑنے پر خطے کے دیگر ممالک کو بھی اسی دفاعی چھتری کے نیچے لایا جا سکے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں اس تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کی شقوں کے مطابق کسی بھی ایک رکن ملک پر عسکری یا بیرونی حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ تاریخی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں عالمی تجارتی و بحری آمدورفت شدید متاثر ہو چکی ہے۔

کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھنا ضروری ہے، سعودی عرب

محمود احمد, August 05,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

سعودی عرب نے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی اور پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کے مابین مذاکرات کا سلسلہ مسلسل برقرار رکھنے کی بنیادی اہمیت پر زور دیا ہے۔

عرب نیوز اور سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ اہم باضابطہ بیان جدہ میں منعقدہ وزرا کے ہفتہ وار کابینہ اجلاس کے بعد سامنے آیا، جو امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے سے متعلق پیش رفت کی رپورٹس کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے علاقائی سیکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تمام سفارتی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

کابینہ اجلاس کے دوران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اختتامِ ہفتہ پر ہونے والی اہم ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق بھی وزرا کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق کابینہ نے سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے کثیر القومی دفاعی بحری اتحاد میں دنیا بھر کے ممالک کی بڑھتی ہوئی حمایت اور شمولیت کا پرجوش خیرمقدم کیا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب اور 13 دیگر ممالک نے جمعرات کے روز ایک مشترکہ بحری اتحاد قائم کیا تھا جس کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ کی اہم بحری گزرگاہوں میں تجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنانا ہے۔

سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق ‘ملٹی نیشنل میری ٹائم ڈیفنس اتحاد’ بحری سیکیورٹی کو فروغ دینے، عالمی سمندری راستوں کی حفاظت کرنے اور بحری نقل و حمل یا عالمی تجارت کے خلاف درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ یہ اقدام بحیرہ احمر، باب المندب اور خلیجِ عدن میں بحری گزرگاہوں اور توانائی کی ترسیل کے عالمی راستوں کو تحفظ فراہم کرنے کا ایک مضبوط اور کثیر الجہتی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

اسی اثنا میں، ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے ایران کے ساتھ جلد ایک معاہدہ طے پانے کے واضح امکانات ظاہر کیے ہیں جس کے تحت حساس ترین آبنائے ہرمز کو دوبارہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھولا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان سابقہ التوا کی یادداشت ناکام ہونے کے بعد ایران نے اس اہم بحری گزرگاہ کو بند کر دیا تھا، جسے اب دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی پیش رفت جاری ہے۔

سعودی عرب میں بازوں (فالکنز) کی نیلامی کے نئے اور جدید قواعد کا باقاعدہ اعلان: صرف نیلامی سے خریدے گئے پرندے 13.33 ملین ڈالر انعامی رقم والے مقابلوں میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے

محمود احمد, JULY 30,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

سعودی عرب میں باز پروری، روایتی کھیل اور فالکنری کی اعلیٰ ترین بین الاقوامی مارکیٹ کو مزید وسعت دینے کے لیے سعودی حکام اور ‘انٹرنیشنل فالکن بریڈرز آکشن’ نے اپنے 2026ء ایڈیشن کے لیے ایک جدید اور انقلابی پالیسی فریم ورک کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ نئے اور باضابطہ قواعد و ضوابط کے تحت، آئندہ صرف انہی بازوں (فالکنز) کو سعودی عرب میں منعقد ہونے والی مقامی اور بین الاقوامی فالکن چِک ریسنگ اور مختلف دیگر مقابلوں میں حصہ لینے کا قانونی اہل قرار دیا جائے گا جو اس رسمی نیلامی کے ذریعے خریدے گئے ہوں گے۔ اس دور رس اور منفرد اقدام کا بنیادی مقصد باز پالنے والوں (بریڈرز)، بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور خواہش مند خریداروں کے لیے مارکیٹ میں نئے معاشی مواقع پیدا کرنا اور خریداروں کی دلچسپی کو مزید بڑھا کر تجارتی سرگرمیوں کو تاریخی اوج پر پہنچانا ہے۔

نئے قوانین و قواعد کے طریقہ کار کے مطابق، انٹرنیشنل فالکن بریڈرز آکشن کی نیلامی کے ذریعے خریدا جانے والا ہر نیا پرندہ لاگو قوانین کے تحت تمام ریسنگ کیٹیگریز میں حصہ لینے کی سند اور اہلیت خود بخود حاصل کر لے گا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں اب شاہی مملکت کے اندر خرید و فروخت کے تمام معاشی فیصلے ‘نیشنل سینٹر فار فالکنز’ کے زیرِ اہتمام یا مشترکہ طور پر منعقد ہونے والے مقابلے اور ریسنگز کے ساتھ براہِ راست منسلک ہو چکے ہیں۔ واضح رہے کہ ان تمام اعلیٰ سطحی اور معتبر مقابلوں میں کل انعامی رقم کو تقریباً 13.33 ملین امریکی ڈالر تک بڑھا دیا گیا ہے، جو کہ دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک بے نظیر اور کشش کا باعث رقم ہے۔

اس نئی ترغیبی پالیسی کے نفاذ سے نیلامی میں سرمایہ کاروں اور خریداروں کا حجم اور تجارتی کشش انتہائی تیز رفتاری سے بڑھنے کی توقع ہے۔ صنعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ محض نسل، جینیاتی افزائش کے معیار اور پرندے کی ابتدائی قیمت کے علاوہ، اب ممکنہ خریدار فالکن کی بہترین ریسنگ صلاحیت، پرواز کی استعداد اور اس کی مخصوص نسل کی عمومی کارکردگی کا بھی گہرا جائزہ لیں گے۔ اس اقدام سے خصوصی طور پر ‘میلواہ ریسنگ’ کیٹیگری کے لیے موزوں اور سستے و معیاری فالکنز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب اعلیٰ نسل اور تیز ترین رفتار کے حامل پرندوں کی افزائشِ نسل کو بین الاقوامی سطح پر فروغ ملے گا جو خطے میں فالکنری کی معاشی و ثقافتی صنعت کو ایک نیا نکتہِ عروج عطا کرے گا