خالص مالیاتی بہاؤ میں کمی کو سرکاری اداروں کی معاشی بدحالی سے تعبیر کرنا درست نہیں: وزارتِ خزانہ کی اہم وضاحت

منصور احمد,September 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 ستمبر 2026ء

وفاقی وزارتِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ خالص مالیاتی بہاؤ میں آنے والی کمی کو سرکاری ملکیتی اداروں (SOEs) کی مالی کارکردگی یا مالی صحت میں خرابی سے تعبیر کرنا بالکل درست نہیں۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق مالیاتی بہاؤ اور سرکاری اداروں کی حقیقی مالی کارکردگی دو بالکل الگ الگ پیمانے ہیں اور ان دونوں کا تفصیلی جائزہ مختلف مالیاتی اشاریوں کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔

بدھ کے روز جاری کردہ باضابطہ بیان میں وزارتِ خزانہ کے ترجمان نے کہا کہ مالیاتی بہاؤ بنیادی طور پر وفاقی حکومت اور سرکاری اداروں کے درمیان ہونے والے مالی لین دین کی عکاسی کرتا ہے، جس میں حکومتی معاونت کے ساتھ ساتھ ٹیکس، منافع، لیویز اور دیگر مدات میں موصول ہونے والی رقوم شامل ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس کسی بھی سرکاری ادارے کی مالی کارکردگی کا اندازہ اس کے منافع، خسارے، آپریشنل اور انتظامی اشاریوں سے لگایا جاتا ہے۔

ترجمان کے مطابق مالی سال 2025-26ء کی پہلی ششماہی کے دوران منافع کمانے والے سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر 423.3 ارب روپے کا منافع حاصل کیا، جبکہ خسارے میں چلنے والے اداروں کا مجموعی خسارہ 342.8 ارب روپے رہا۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق خسارے کو محدود سطح پر برقرار رکھنا جاری اصلاحات اور سختی کے ساتھ نگرانی کے نظام میں پیش رفت کا ایک اہم ثبوت ہے۔

وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ مذکورہ عرصے میں سرکاری ادارے حکومت کے لیے مجموعی طور پر خالص مالیاتی معاون ثابت ہوئے۔ ان اداروں سے حکومت کو 839.8 ارب روپے موصول ہوئے جبکہ حکومت نے ان اداروں کو 804 ارب روپے فراہم کیے، جس کے نتیجے میں 35.8 ارب روپے کا مثبت خالص مالیاتی بہاؤ ریکارڈ کیا گیا۔

ترجمان نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے اخراجات میں اضافے کی بڑی وجہ سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو، گردشی قرضے کے انتظام کے لیے ایکویٹی کی فراہمی اور مالی معاونت تھی۔ دوسری جانب سرکاری اداروں سے حاصل ہونے والے منافع میں 26 فیصد جبکہ ٹیکس کی مد میں حاصل ہونے والی رقوم میں 10 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

وزارتِ خزانہ نے کہا کہ خالص مالیاتی بہاؤ میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ حکومت اور اداروں کے درمیان لین دین کے وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا جانا چاہیے اور محض چھ ماہ کے اعداد و شمار کو مجموعی مالی صحت کا واحد پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا۔

ترجمان نے سرکاری اداروں میں جاری جامع اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا بنیادی مقصد سرکاری اداروں کے حجم کو کم کرنا، گورننس اور جوابدہی کو مضبوط بنانا، شفافیت میں اضافہ، کاروباری نظم و ضبط بہتر کرنا اور بتدریج مالیاتی خطرات کو کم کرنا ہے۔

بیان میں بتایا گیا کہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن نے اپنے آپریشنز باضابطہ بند کر دیے ہیں جبکہ پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کو تحلیل کرنے کا عمل تیز رفتاری سے جاری ہے۔ اسی طرح فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل بھی کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔

توانائی کے شعبے میں ملک کی نو بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز)، جن میں فیسکو، گیپکو، آئیسکو، لیسکو، میپکو، حیسکو، سیپکو اور پیسکو شامل ہیں، کو نجکاری پروگرام کا حصہ بنایا گیا ہے اور ان کے حوالے سے کارروائی مختلف مراحل میں جاری ہے۔ گورننس کے شعبے میں آزاد اور پیشہ ورانہ بورڈز کا قیام اور شفاف نگرانی کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ تمام اداروں کی کارکردگی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق لایا جا سکے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ تفصیلی رپورٹ وفاقی وزارتِ خزانہ اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ وضاحتی اعلامیے اور پریس ریلیز کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔

ماخذ: ترجمان وزارتِ خزانہ، اسلام آباد ڈیسک۔