

محمود احمد, September 13,2026
دبئی (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء
تزویراتی سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر حملہ اور سعودی عرب کی اہم ترین ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی بندش کے تازہ واقعات نے عالمی توانائی منڈیوں میں شدید تشویش اور بے چینی پیدا کر دی ہے، جس کے باعث خام تیل کی عالمی سپلائی میں بندش کا بڑا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
برطانوی بحری سیکیورٹی ایجنسی یو کے ایم ٹی او (UKMTO) کے مطابق، اتوار کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی بحری جہاز کو نامعلوم سمت سے انے والے پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا، جس سے جہاز میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی اور امدادی حکام نے عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا عمل شروع کیا۔ واقعے میں جہاز کو پہنچنے والے تکنیکی نقصان کی حتمی رپورٹ جمع کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب، سعودی عرب نے ڈرون حملے کا نشانہ بننے کے بعد اپنی 1,200 کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ یہ تزویراتی پائپ لائن آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر مشرقی علاقوں سے تیل بحیرہ احمر کی بندرگاہ ‘ینبع’ تک پہنچانے کا واحد بڑا ذریعہ ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، اس راستے سے روزانہ 40 لاکھ بیرل تیل منتقل ہو رہا تھا، جو عالمی سپلائی کا تقریباً 4 فیصد بنتا ہے۔
توانائی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر پائپ لائن کو جلد بحال نہ کیا گیا تو ینبع بندرگاہ پر موجود ذخائر صرف چند دنوں کی برآمدات کو برقرار رکھ سکیں گے۔ اس دوران، بحیرہ احمر اور باب المندب کی پٹی پر حوثیوں کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی نے سمندری تجارتی راستوں کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
ان سنگین واقعات کے باعث بین الاقوامی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں 104.61 ڈالر فی بیرل اور امریکی WTI کی قیمت 100.05 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز، سعودی متبادل پائپ لائن اور باب المندب پر بیک وقت دباؤ برقرار رہا تو عالمی منڈی میں سپلائی کا بڑا بحران جنم لے سکتا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر عالمی خبر رساں اداروں، برطانیہ کے بحری ادارے UKMTO اور انرجی مارکیٹ سے حاصل کردہ تازہ اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ سعودی پائپ لائن کی مرمت کی حتمی مدت اور متاثرہ بحری جہاز پر حملے کی ذمے داری سے متعلق تفصیلات تاحال باضابطہ طور پر عام نہیں کی گئی ہیں۔
ماخذ: رائٹرز (Reuters)، یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO)، بلومبرگ (Bloomberg)।