اقوامِ متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر من و عن عملدرآمد کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے، وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی , JULY 10,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر من و عن عملدرآمد اور عالمی امن، سلامتی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی قوانین اور کثیرالجہتی معاہدوں کے احترام کے حوالے سے پاکستان کے مستقل اور غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔ جمعہ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے امیدوار میکی سال نے یہاں وزیراعظم ہاؤس میں ایک اہم تزویراتی ملاقات کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے میکی سال کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کے لیے پاکستان کے پائیدار عزم کو دہرایا اور عالمی امور کو مقتدر انداز میں چلانے کے لیے اقوامِ متحدہ کے مرکزی کردار کے لیے پاکستان کی مضبوط اور اصولی حمایت کا واضح اظہار کیا۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اقوامِ متحدہ کی آئندہ آنے والی قیادت، ادارے کے تین بنیادی اور اہم ترین ستونوں، یعنی عالمی امن و سلامتی، اقتصادی ترقی اور انسانی حقوق کو متوازن انداز میں آگے بڑھانے کے لیے اپنا مؤثر تزویراتی کردار ادا کرے گی۔

ملاقات کے دوران، سیکریٹری جنرل کے امیدوار میکی سال نے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور دیگر شعبوں کے لیے پاکستان کی دیرینہ، تاریخی اور گراں قدر خدمات کو مقتدر الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے عالمی امن کے فروغ اور بین الاقوامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جاری کوششوں میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے تعمیری اور مثبت کردار کی تعریف کی، اور اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی استحکام کے لیے پاکستان کا کردار ہمیشہ تزویراتی اہمیت کا حامل رہا ہے۔

قراردادیں محض ارادوں کا اظہار نہیں بلکہ منشور کے تحت قانونی ذمہ داریاں ہیں، منتخب یا طویل عرصے تک عمل نہ ہونا کونسل کے اختیار کو کمزور کرتا ہے؛ مسئلہ فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر پر قراردادوں پر عمل نہ ہونا عالمی امن کے لیے بڑا دھچکا، مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا مقتدر خطاب

محمود احمد june 25,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان اور چین نے اپنی تزویراتی شراکت داری اور کثیرالجہتی سفارت کاری کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے مشترکہ طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک انتہائی مقتدر ‘آریا فارمولا’ اجلاس منعقد کیا ہے۔ اس خصوصی سفارتی بیٹھک نے دنیا بھر کے رکن ممالک کو ایک اہم اور تزویراتی موقع فراہم کیا ہے کہ وہ کھل کر اس امر پر غور کریں کہ سلامتی کونسل اپنی منظور شدہ قراردادوں کے مکمل، مؤثر اور بغیر کسی امتیاز کے یکساں عملدرآمد کو کس طرح ہر قیمت پر یقینی بنا سکتی ہے۔

اس مقتدر اجلاس کو اقوامِ متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل خالد خیاری، سیکیورٹی کونسل رپورٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر محترمہ شملہ کندیاہ، اور انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے مسٹر رچرڈ گوون نے اہم بریفنگز دیں۔ تمام مقررین نے اپنے مقالوں میں اس بات پر گہرا زور دیا کہ قراردادوں پر ان کی روح کے مطابق من و عن عملدرآمد کرنا ہی دراصل سلامتی کونسل کی ساکھ، عالمی اختیار اور اس کی افادیت کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کونسل کے فیصلوں کو زمینی حقائق میں تبدیل کرنے کے لیے قراردادوں کے ساتھ حقیقت پسندانہ مینڈیٹس، واضح طریقۂ کار، مسلسل لائیو نگرانی، مناسب مالی وسائل اور مضبوط سیاسی عزم کا ہونا ناگزیر ہے۔

اجلاس سے اپنے مقتدر خطاب میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے دوٹوک اور مقتدر الفاظ میں کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادیں محض رسمی ارادوں کا اظہار نہیں ہوتیں بلکہ یہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت تمام رکن ممالک پر عائد ہونے والی سخت قانونی ذمہ داریاں ہیں۔ انہوں نے دنیا کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ قراردادوں پر من پسند طریقے سے (سلیکٹو) عمل کرنا یا طویل عرصے تک انہیں سرد خانے کی نذر رکھنا خود کونسل کے عالمی اختیار کو شدید کمزور کرتا ہے، دیرینہ تنازعات کے حل میں بڑی رکاوٹ بنتا ہے اور مظلوم انسانوں کے مصائب میں ہولناک اضافہ کرتا ہے، جیسا کہ اس وقت فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی مخدوش صورتحال میں صاف دیکھا جا سکتا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ مضبوطی سے لڑتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعے سے متعلق سلامتی کونسل کی مقتدر قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث یہ اہم بین الاقوامی مسئلہ آج بھی حل طلب ہے، جس کے باعث خطے اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور معصوم کشمیری عوام مسلسل بدترین انسانی مشکلات اور مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے سامنے متعدد مقتدر اور عملی تجاویز پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ غیر نافذ یا جزوی طور پر نافذ قراردادوں کا سالانہ بنیادوں پر باقاعدہ جائزہ لیا جائے، عملدرآمد کے واضح ڈیجیٹل اور سفارتی طریقے وضع کیے جائیں اور سیکریٹری جنرل کی مساعیِ جمیلہ کو کونسل کے فیصلوں کے ساتھ مربوط کیا جائے۔ اجلاس میں شریک سلامتی کونسل کے مستقل و غیر مستقل ارکان نے چین اور پاکستان کے اس مشترکہ اقدام کا زبردست خیرمقدم کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ کونسل کو اپنے فیصلوں کے مستقل اور غیر جانبدار نفاذ کو یقینی بنانا چاہیے، جس سے پاک چین کثیرالجہتی تعاون کا وقار مزید بلند ہوا ہے۔