

روزینہ اسماعیل, August 16,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء
گلگت بلتستان کے دلکش اور خوبصورت سیاحتی مقامات کا رخ کرنے والے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں گزشتہ دس سال کے دوران چار سو فیصد کا بے مثال اور نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ نامور تجزیہ کار رؤف ظفر نے اپنی ایک خصوصی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سال دو ہزار پندرہ میں گلگت بلتستان جانے والے سیاحوں کی کل تعداد محض دو لاکھ کے قریب تھی، جبکہ سال دو ہزار پچیس کے دوران تقریباً دس لاکھ سے زائد سیاحوں نے گلگت بلتستان کی حسین وادیوں کا رخ کیا۔ ان میں سولہ ہزار پانچ سو سے زائد غیر ملکی سیاح بھی شامل تھے، جو عالمی سطح پر پاکستان کی مثبت شناخت اور پرامن ماحول کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے عرصے میں گلگت بلتستان آنے والے سیاحوں کی تعداد میں آٹھ لاکھ کا شاندار اضافہ ہوا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ صرف گلگت بلتستان ہی نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے مشہور سیاحتی مقامات جیسے سوات، کاغان، ناران اور کمراٹ کی خوبصورت وادیوں میں بھی آنے والے سیاحوں کی تعداد مسلسل لاکھوں میں رہی ہے۔ رؤف ظفر کا کہنا ہے کہ ذرائع آمد و رفت تک آسان رسائی، سڑکوں کی بہتری، مؤثر حفاظتی اقدامات اور عوامی سطح پر آگاہی اور شعور اجاگر کر کے نہ صرف سیاحوں کی اس تعداد میں مزید خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے بلکہ شمالی علاقہ جات کے دشوار گزار راستوں پر پیش آنے والے ناخوشگوار حادثات میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ پاکستان اپنے قدرتی اور حسین سیاحتی شعبے کے ذریعے سالانہ اربوں ڈالر کا زرِ مبادلہ کما سکتا ہے، جس سے نہ صرف علاقائی معیشت کو استحکام ملے گا اور مقامی آبادی کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی، بلکہ قومی سطح پر بھی معاشی اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں شمالی علاقہ جات کے تمام سیاحتی مقامات کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور جدید طرز پر ترقی کی اشد ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب بھی کئی خوبصورت اور اہم مقامات ایسے ہیں جہاں تک پہنچنے کے لیے صرف کچے ٹریکس موجود ہیں، جس کے باعث سفر کے دوران بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور شدید برف باری کی وجہ سے سیاحوں کو سخت مشکلات، خطرات اور تعطل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان تمام قدرتی وادیوں تک بہتر، کشادہ اور محفوظ سڑکوں کے نیٹ ورک کی تعمیر وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، جبکہ ان دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات، ہنگامی امداد اور دیگر بنیادی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنا کر سیاحت کے فروغ کو مزید تیز کیا جا سکتا ہے۔
پہاڑی اور برفانی علاقوں میں گاڑی چلانے اور سفر کرنے کے حوالے سے سیاحوں اور بالخصوص ڈرائیوروں کو تربیت اور ضروری معلومات کی فراہمی سے بھی حادثات کی شرح میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ جب ڈرائیوروں اور مسافروں کو پہاڑی راستوں کے خطرات، موسم کی سختی اور احتیاطی تدابیر سے متعلق مکمل آراستہ کیا جائے گا تو اس سے سفر نہ صرف آرام دہ اور محفوظ بنے گا بلکہ سیاحوں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ ان علاقوں میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید بنائیں اور مقامی سطح پر سیاحت سے وابستہ افراد کی تربیت کے لیے خصوصی اقدامات کریں تاکہ پاکستان دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے پہلی ترجیح بن سکے۔
اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر شمالی علاقہ جات میں ہوٹل سازی، مواصلات اور ریسکیو کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں تو آنے والے سالوں میں سیاحوں کی یہ تعداد دوگنی ہو سکتی ہے۔ مقامی سطح پر گائیڈز کی تیاری، قدرتی ماحول کے تحفظ اور صفائی کے نظام کو بہتر بنانا بھی سیاحت کے پائیدار فروغ کے لیے لازمی اجزاء ہیں۔ اس شعبے کی ترقی سے ملک میں روزگار کے بے شمار نئے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کی معیشت کو ایک نیا اور مضبوط سہارا میسر آئے گا، جو پورے خطے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔