روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ: جولائی 2026 کے اختتام تک مجموعی ترسیلاتِ زر 13.647 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں

کاشف عباسی , August 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026ء کے اختتام تک روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے تحت مجموعی ترسیلاتِ زر بڑھ کر 13.647 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو جون 2026ء کے اختتام پر 13.365 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔

اعداد و شمار کے مطابق صرف جولائی 2026ء کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 282 ملین ڈالر بھیجے، جبکہ جون میں 306 ملین ڈالر اور مئی 2026ء میں 312 ملین ڈالر موصول ہوئے تھے۔ پروگرام کے تحت رجسٹرڈ اکاؤنٹس کی مجموعی تعداد جولائی میں 10 ہزار 589 کے اضافے سے 9 لاکھ 56 ہزار 790 ہو گئی ہے، جبکہ جون میں یہ تعداد 9 لاکھ 46 ہزار 201 ریکارڈ کی گئی تھی۔

جولائی کے اختتام تک تارکینِ وطن نے مختلف مالیاتی اسکیموں میں نمایاں سرمایہ کاری کی۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں 684 ملین ڈالر، نیا پاکستان اسلامی سرٹیفکیٹس میں 1316 ملین ڈالر اور روشن ایکویٹی انویسٹمنٹ میں 151 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو وطنِ عزیز میں براہِ راست بینکاری، رقوم کی منتقلی اور مختلف شعبوں میں محفوظ سرمایہ کاری کے لیے جدید اور آسان سہولیات فراہم کر رہا ہے۔

گلگت بلتستان میں سیاحت کا انقلاب: گزشتہ دس سال کے دوران سیاحوں کی آمد میں چار سو فیصد کا تاریخی اضافہ، دس لاکھ سے زائد ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی آمد

روزینہ اسماعیل, August 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

گلگت بلتستان کے دلکش اور خوبصورت سیاحتی مقامات کا رخ کرنے والے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں گزشتہ دس سال کے دوران چار سو فیصد کا بے مثال اور نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ نامور تجزیہ کار رؤف ظفر نے اپنی ایک خصوصی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سال دو ہزار پندرہ میں گلگت بلتستان جانے والے سیاحوں کی کل تعداد محض دو لاکھ کے قریب تھی، جبکہ سال دو ہزار پچیس کے دوران تقریباً دس لاکھ سے زائد سیاحوں نے گلگت بلتستان کی حسین وادیوں کا رخ کیا۔ ان میں سولہ ہزار پانچ سو سے زائد غیر ملکی سیاح بھی شامل تھے، جو عالمی سطح پر پاکستان کی مثبت شناخت اور پرامن ماحول کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے عرصے میں گلگت بلتستان آنے والے سیاحوں کی تعداد میں آٹھ لاکھ کا شاندار اضافہ ہوا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ صرف گلگت بلتستان ہی نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے مشہور سیاحتی مقامات جیسے سوات، کاغان، ناران اور کمراٹ کی خوبصورت وادیوں میں بھی آنے والے سیاحوں کی تعداد مسلسل لاکھوں میں رہی ہے۔ رؤف ظفر کا کہنا ہے کہ ذرائع آمد و رفت تک آسان رسائی، سڑکوں کی بہتری، مؤثر حفاظتی اقدامات اور عوامی سطح پر آگاہی اور شعور اجاگر کر کے نہ صرف سیاحوں کی اس تعداد میں مزید خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے بلکہ شمالی علاقہ جات کے دشوار گزار راستوں پر پیش آنے والے ناخوشگوار حادثات میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ پاکستان اپنے قدرتی اور حسین سیاحتی شعبے کے ذریعے سالانہ اربوں ڈالر کا زرِ مبادلہ کما سکتا ہے، جس سے نہ صرف علاقائی معیشت کو استحکام ملے گا اور مقامی آبادی کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی، بلکہ قومی سطح پر بھی معاشی اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں شمالی علاقہ جات کے تمام سیاحتی مقامات کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور جدید طرز پر ترقی کی اشد ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب بھی کئی خوبصورت اور اہم مقامات ایسے ہیں جہاں تک پہنچنے کے لیے صرف کچے ٹریکس موجود ہیں، جس کے باعث سفر کے دوران بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور شدید برف باری کی وجہ سے سیاحوں کو سخت مشکلات، خطرات اور تعطل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان تمام قدرتی وادیوں تک بہتر، کشادہ اور محفوظ سڑکوں کے نیٹ ورک کی تعمیر وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، جبکہ ان دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات، ہنگامی امداد اور دیگر بنیادی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنا کر سیاحت کے فروغ کو مزید تیز کیا جا سکتا ہے۔

پہاڑی اور برفانی علاقوں میں گاڑی چلانے اور سفر کرنے کے حوالے سے سیاحوں اور بالخصوص ڈرائیوروں کو تربیت اور ضروری معلومات کی فراہمی سے بھی حادثات کی شرح میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ جب ڈرائیوروں اور مسافروں کو پہاڑی راستوں کے خطرات، موسم کی سختی اور احتیاطی تدابیر سے متعلق مکمل آراستہ کیا جائے گا تو اس سے سفر نہ صرف آرام دہ اور محفوظ بنے گا بلکہ سیاحوں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ ان علاقوں میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید بنائیں اور مقامی سطح پر سیاحت سے وابستہ افراد کی تربیت کے لیے خصوصی اقدامات کریں تاکہ پاکستان دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے پہلی ترجیح بن سکے۔

اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر شمالی علاقہ جات میں ہوٹل سازی، مواصلات اور ریسکیو کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں تو آنے والے سالوں میں سیاحوں کی یہ تعداد دوگنی ہو سکتی ہے۔ مقامی سطح پر گائیڈز کی تیاری، قدرتی ماحول کے تحفظ اور صفائی کے نظام کو بہتر بنانا بھی سیاحت کے پائیدار فروغ کے لیے لازمی اجزاء ہیں۔ اس شعبے کی ترقی سے ملک میں روزگار کے بے شمار نئے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کی معیشت کو ایک نیا اور مضبوط سہارا میسر آئے گا، جو پورے خطے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایس آئی ایف سی کی تاریخی پیش رفت: بلوچستان میں 200 ملین ڈالر کا خضدار معدنی منصوبہ فعال، سالانہ 230 ملین ڈالر تک آمدن کی توقع

منصور احمد, August 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی خصوصی معاونت اور سہولت کاری کے نتیجے میں پاکستان کے معدنی شعبے میں ایک نیا اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے، جس کے تحت بلوچستان کا اہم خضدار بارائٹ، لیڈ اور زنک منصوبہ باقاعدہ طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کا معدنی شعبہ اپنے وسیع اور غیر معمولی قدرتی وسائل کے باعث ملک کی معاشی بحالی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ بارائٹ، لیڈ اور زنک کا شمار ملک کے ان اہم ترین اور بڑے معدنی منصوبوں میں ہوتا ہے جو طویل عرصے سے انتظامی پیچیدگیوں، قانونی رکاوٹوں اور نامساعد حالات کے باعث زیرِ التوا چلے آ رہے تھے۔

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل نے اس اہم منصوبے کو درپیش تمام دیرینہ مسائل بالخصوص کان کنی کی لیز سے متعلق پیچیدگیوں کو احسن طریقے سے حل کراتے ہوئے دو سو ملین ڈالر، یعنی تقریباً پچپن ارب روپے کی خطیر سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی ہے۔ یہ اہم اور فائدہ مند منصوبہ پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ اور بولان مائننگ انٹرپرائزز کے باہمی اشتراک اور باہم تعاون سے بلوچستان کے اہم ضلع خضدار میں تیار اور فعال کیا جا رہا ہے۔ کان کنی کی لیز سے متعلق تمام قانونی اور انتظامی مسائل کے خاتمے کے بعد آپریشنل معاہدے کی حتمی تکمیل اس منصوبے کی عملی شروعات اور کان کنی کے آغاز میں سب سے اہم ترین پیش رفت ثابت ہوئی ہے۔

تخمینے اور فنی رپورٹس کے مطابق خضدار کا یہ اہم منصوبہ تقریباً انہتر ملین ٹن کے وسیع اور انتہائی قیمتی معدنی ذخائر پر مشتمل ہے، جبکہ اس منصوبے سے معدنیات نکالنے کی متوقع مدت چوتھیس سال مقرر کی گئی ہے۔ اس منصوبے کے باقاعدہ فعال ہونے اور تجارتی پیداوار کے آغاز سے پاکستان کو سالانہ ایک سو پچاس ملین ڈالر سے لے کر دو سو تیس ملین ڈالر تک کی کثیر آمدن اور زرمبادلہ حاصل ہونے کی قوی توقع ہے، جس سے نا صرف وفاقی اور صوبائی خزانے کو درکار معاشی تقویت ملے گی بلکہ بلوچستان بالخصوص خضدار اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں مقامی افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقے میں سڑکوں، اسکولوں اور ہسپتالوں کی تعمیر سے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مقامی معاشی سرگرمیوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگا۔

پاکستان کے قدرتی اور معدنی وسائل میں مقامی اور غير ملکی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے پاکستان کی پالیسیوں پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی واضع اور واضح عکاسی کرتے ہیں۔ ماہرینِ معیشت اور معدنیات کے مطابق خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے زیرِ اہتمام معدنی شعبے میں کی جانے والی یہ مسلسل اصلاحات، شفافیت اور عملی اقدامات پاکستان کی معدنی معیشت کو دنیا کے سامنے ایک نئی اور باوقار شناخت دے رہے ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف خام مال کی برآمد ممکن ہوگی بلکہ ملک کے اندر صنعتی ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا جو آنے والے دنوں میں ملکی معیشت کا رخ موڑنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگا۔

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا بنیادی مقصد ملک میں موجود معاشی تعطل کو ختم کرنا اور مختلف شعبوں بالخصوص زراعت، معدنیات، معلومات عامہ اور توانائی میں سرمایہ کاری کے عمل کو تیز بنانا ہے۔ خضدار منصوبے کی بحالی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب ریاست کے تمام ادارے ایک نقطے پر متفق ہو کر رکاوٹیں دور کرتے ہیں تو سالہا سال سے اٹکے ہوئے معاشی منصوبے بھی ریکارڈ مدت میں فعال ہو جاتے ہیں۔ اس منصوبے کی کامیابی سے بلوچستان میں موجود دیگر معدنی ذخائر سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی راستے کھلیں گے اور عالمی کمپنیوں کا پاکستان کی طرف میلان مزید بڑھے گا۔

حکومت کا یہ اقدام بلوچستان کے عوام کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور ان کے معاشی حقوق کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ خضدار کا یہ منصوبہ ان تمام افواہوں اور منفی تاثرات کا عمل جواب ہے جو بلوچستان میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے پھیلائے جاتے ہیں۔ جب مقامی آبادی کو روزگار کے باعزت مواقع ملیں گے اور ان کے خطے میں اربوں روپے کے منصوبے مکمل ہوں گے تو اس سے نہ صرف علاقے کی حالت بدلے گی بلکہ ملک میں امن و امان اور پائیدار معاشی استحکام کو بھی تقویب ملے گی۔ آنے والے وقت میں اس منصوبے سے حاصل ہونے والی آمدن کو بلوچستان کی مزید فلاح و بہبود کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔

عقیل کریم ڈھیڈی کا حکومت سے پالیسیوں میں تسلسل کا مطالبہ: “کوئی خوشخبری نہیں چاہیے، بس مزید بمبو نہ دیں”

محمود احمد, August 09,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

پاکستان کی معروف کاروباری شخصیت اور ممتاز معاشی ماہر عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا ہے کہ ان دنوں ملک میں نئی سرمایہ کاری کے حوالے سے مثبت پیش رفت کے قوی امکانات موجود ہیں، تاہم حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے غیر متوقع فیصلوں سے سخت گریز کرے جن سے تجارتی ماحول اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچے۔

کراچی میں ذرائع ابلاغ اور تاجر برادری سے گفتگو کرتے ہوئے عقیل کریم ڈھیڈی نے معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے مخصوص اور دو ٹوک انداز میں کہا کہ اس وقت کاروباری طبقے کو کسی بڑی سرکاری خوشخبری يا ڈرامائی پیکیج کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ حکومت سے صرف اتنی درخواست ہے کہ معیشت اور سرمایہ کاروں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرنے والے فیصلے نہ کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے واضح امکانات موجود ہیں اور آنے والے دنوں میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ تاہم، اس موقع پر حکومت کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کاروباری طبقے کا اعتماد بحال رکھے اور ایک مستحکم و سازگار ماحول فراہم کرے۔

عقیل کریم ڈھیڈی نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی معاملات میں طویل المدتی پالیسیوں کا تسلسل، شفافیت اور واضح فیصلے ہی کسی بھی معیشت کی ترقی کی ضمانت ہوتے ہیں۔ حکومت کو ایسے اچانک اور معاشی دھچکے دینے والے اقدامات سے بچنا چاہیے جو تجارتی حلقوں میں غیر یقینی صورتحال اور خوف پھیلاؤ کا باعث بنیں۔ انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں مگر گہری معاشی حقیقت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا، “ہمیں کسی نئی خوشخبری کی ضرورت نہیں، بس حکومت سے اتنی التجا ہے کہ مزید کوئی ‘بمبو’ مت دینا۔”