آئیسکو کا 104 ملین روپے سے زائد کا کرپشن کیس؛ ایف آئی اے کی مؤثر پیروی پر 5 افسران کو 17، 17 سال قیدِ بامشقت کی سزا

کاشف عباسی , JULY 19,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سرکاری محکموں میں کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف ایک اور بڑی تزویراتی کامیابی حاصل کی ہے۔ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے 104.75 ملین روپے کے بھاری رشوت کیس میں ملوث 5 اعلیٰ اہلکاروں کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قیدِ بامشقت کی سخت سزا سنا دی گئی ہے، جبکہ خصوصی عدالت نے ملزمان سے برآمد ہونے والی تمام رقم کو فوری طور پر قومی خزانے میں ضبطگی کے بعد جمع کرانے کا مقتدر حکم جاری کیا ہے۔

ایف آئی اے کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اتوار کے روز میڈیا کو تادیبی حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ہائی پروفائل کیس 30 اگست 2024ء کو ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کے ایک انتہائی کامیاب اور خفیہ چھاپے سے شروع ہوا تھا، جس کے دوران آئیسکو کے تین ڈویژنل اکاؤنٹس افسران اور دو آڈٹ افسران کو رشوت کا لین دین کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے 104.75 ملین روپے کی خطیر نقد رقم برآمد کی گئی تھی، جو کہ ملزمان کی جانب سے مبینہ طور پر سال 2019ء سے 2024ء تک کے طویل عرصے کے لیے اپنے حق میں سازگار آڈٹ رپورٹس تیار کروانے کے عوض بیرونی آڈٹ افسران کو رشوت کے طور پر ادا کی جا رہی تھی۔ اس کامیاب کارروائی کے بعد ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947ء کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

کیس کی تفصیلی سماعتیں مکمل ہونے کے بعد، 17 جولائی 2026ء کو سپیشل جج سینٹرل راولپنڈی عبدالرحمان محمد عارف نے جرم ثابت ہونے پر نامزد ملزمان ذیشان علی اکبر، نذر حسین، اشتیاق احمد، جہانگیر احمد اور ثاقب ظہیر کو 17، 17 سال قیدِ بامشقت کی تاریخی سزا کا فیصلہ سنایا۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی سزا تفتیشی ٹیم کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر زوہیب نیازی کی پیشہ ورانہ تفتیش اور استغاثہ کی جانب سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر صلاح الدین کی عدالت میں مؤثر ترین پیروی کے باعث ممکن ہو سکی ہے، جس سے محکمے میں احتساب کی مقتدر مثال قائم ہوئی ہے۔