وفاقی حکومت کی جانب سے ٹیلی کام کمپنیوں کو شہریوں کی نجی املاک پر زبردستی ٹاورز اور مشینری لگانے کے غیرمعمولی اختیارات دینے کی تیاری، انکار یا رکاوٹ ڈالنے پر شہریوں کو ۵ کروڑ روپے تک کے بھاری جرمانے کا سنسنی خیز انکشاف، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بل پیش ہونے پر حکومتی و اپوزیشن سینیٹرز شدید حیران اور تشویش کا شکار، پلوشہ خان، افنان اللہ اور سعدیہ عباسی کے سخت اعتراضات کے بعد بل کی منظوری مؤخر

منصور احمد june 17,2026

اسلام آباد (پولیٹیکل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں موبائل کمپنیوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک ایسا حیران کن ترمیمی بل متعارف کروایا گیا ہے جس کے تحت اب ٹیلی کیمونیکیشن کمپنیاں کسی بھی شہری کی ذاتی جائیداد، گھر، دکان، پلاٹ یا جگہ کو محض ۳۰ دن کے مختصر نوٹس پر خالی کروا کر وہاں اپنے ٹاورز اور بھاری مشینری نصب کر سکیں گی اور اس قانون کی خلاف ورزی، انکار یا رکاوٹ ڈالنے پر عام پاکستانی شہریوں کو ۵ کروڑ روپے تک کا بھاری فائن اور جرمانہ بھگتنا ہو گا، وفاقِ دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی سنسنی خیز پارلیمانی تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ کی جانب سے سینیٹ کے جاری سیشن میں ”پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) (ترمیمی) بل ۲۰۲۶“ پیش کیا گیا ہے، یہ بل قومی اسمبلی سے پہلے ہی کثرتِ رائے سے پاس ہو چکا ہے، تاہم جیسے ہی یہ بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کام کے سپرد کیا گیا تو سینیٹر پلوشہ خان کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس کے دوران اس کی ہوش رُبا شقوں پر حکومتی اور اپوزیشن ارکانِ کمیٹی دنگ رہ گئے اور انہوں نے اس پر شدید ترین تحفظات کا اظہار کر دیا۔

معلوم ہوا ہے کہ اس متنازع ترمیمی بل میں ایک بالکل نئی شق ”سیکشن ۲۷ بی“ شامل کی گئی ہے جس کے تحت اگر کوئی بھی غریب یا امیر مالکِ مکان، دکاندار، کرایہ دار، زمیندار یا کوئی نجی ادارہ ٹیلی کام کمپنیوں کو تیز انٹرنیٹ کی فائبر کیبل بچھانے یا موبائل ٹاورز و دیگر الیکٹرانک مشینری لگانے کے لیے حقوقِ راہداری دینے سے صاف انکار کرے گا، یا اس کام میں کسی بھی قسم کی تاخیر یا قانونی رکاوٹ کا سبب بنے گا، تو حکومتِ وقت اس عام شہری پر ۵ کروڑ روپے تک کا کمر توڑ جرمانہ عائد کرنے کی مجاز ہو گی، سینیٹر پلوشہ خان کی سربراہی میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر افنان اللہ، پیپلز پارٹی کی سینیٹر سعدیہ عباسی اور دیگر تمام اراکین نے بل کی سخت زبان اور شہریوں کی نجی املاک کے بنیادی حقوق پر گہرے اور تیکھے سوالات اٹھائے، سینیٹرز نے سخت مؤقف اپنایا کہ قانون کی آڑ میں کسی بھی پاکستانی شہری کو اس بات پر ہرگز مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنی نجی جائیداد، چھت یا گھر پر خطرناک شعاعیں خارج کرنے والے ٹیلی کام ٹاورز لگانے کی زبردستی اجازت دے، جب تک شہریوں کے حقوق کا واضح تحفظ اور باہمی رضامندی کا کوئی سو فیصد شفاف طریقہ کار سامنے نہیں لایا جاتا تب تک ایسی مبہم اور صوابدیدی شقوں کو ہرگز تسلیم نہیں کیا جائے گا جن سے عوام کا استحصال ہو۔

کمیٹی میں سینیٹرز کے اس شدید اور تگڑے احتجاج کے بعد وزارتِ آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے اعلیٰ حکام نے گھبرا کر بل کے مقاصد پر وضاحتیں پیش کیں اور اراکین کو یقین دہانی کرائی کہ اس نئے قانون کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ شہریوں کی نجی املاک پر زبردستی قبضہ کیا جائے یا ان کی اراضی چھینی جائے، ٹاورز اور فائبر کی تنصیب مروجہ ملکی قوانین اور باہمی تجارتی معاہدوں کے تحت ہی ہو گی، حکام نے عذر پیش کیا کہ اس بل کا بنیادی مقصد ملک میں انٹرنیٹ کی سست رفتار کو تیز کرنا، فائیو جی انٹرنیٹ سروسز کے لیے موبائل ٹاورز کی فائبر ائزیشن کا کام تیز کرنا اور وفاقی و صوبائی محکموں کے درمیان جاری روٹ کے دیرینہ تنازعات کو ختم کرنا ہے تاکہ ڈیجیٹل پاکستان کے اہداف حاصل کیے جا سکیں، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے معاملے کی سنگینی، عوامی حقوق اور حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بل پر مزید غور کرنے اور اس کا شق وار باریک بینی سے جائزہ لینے کے لیے اس کی منظوری کو اگلے اجلاس تک مستقل مؤخر کر دیا ہے تاکہ مبہم الفاظ کو تبدیل کر کے شہریوں کی نجی املاک کے تحفظ کو سو فیصد یقینی بنایا جا سکے۔