

محمود احمد june 10,2026
واشنگٹن(نیوز اینڈ نیوز) — 10جون 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ایک سنسنی خیز عسکری دعویٰ کیا ہے کہ ایرانیوں نے حال ہی میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنا کر مار گرایا ہے جبکہ تہران کو عقل کے ناخن لیتے ہوئے فوری طور پر نئے جوہری معاہدے پر دستخط کر دینے چاہئیں کیونکہ یہ خود اس کے اپنے مفاد میں ہے، واشنگٹن ڈی سی میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اور موجودہ مجوزہ معاہدہ ایرانی حکومت کے لیے ایک آخری اور بہتر موقع ہے، پریس بریفنگ کے دوران ہیلی کاپٹر حملے سے متعلق اہم عسکری تفصیلات بتاتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایرانیوں نے جس امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا اس کے اندر ایک انتہائی بڑا بم موجود تھا اور یہ محض خوش قسمتی تھی کہ تباہی کے بعد وہ بم دھماکے سے نہیں پھٹا ورنہ خطے میں صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین اور قابو سے باہر ہو سکتی تھی، انہوں نے واضح کیا کہ امریکی عسکری اثاثے پر ہونے والے اس حملے کے بعد ایران کے خلاف سخت ترین جوابی کارروائی کرنا ناگزیر اور ضروری سمجھا گیا تھا، اس موقع پر امریکی صدر نے ملک کے اندرونی تحفظ کے حوالے سے سیکیور امریکہ ایکٹ پر باقاعدہ دستخط کرنے کا بھی بڑا اعلان کیا اور کہا کہ اس نئے قانون کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرحدی سیکیورٹی فورسز کو مزید جدید وسائل اور فنڈز فراہم کیے جائیں گے کیونکہ ان کی حکومت امیگریشن اور بارڈر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنا رہی ہے اور سرحدی نگرانی سخت کر کے غیر قانونی داخلوں کی مکمل روک تھام کی گئی ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی اس اہم گفتگو کے دوران پاکستان کا خاص طور پر حوالہ دیتے ہوئے ایک اور بڑا انکشاف کیا اور دعویٰ کیا کہ بعض نازک مواقع پر پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی خصوصی درخواست پر ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں کچھ دیر کے لیے وقفہ دیا گیا تھا جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھنے والی شدید عسکری کشیدگی کے دوران جنگ بندی کروانے اور امن قائم کرنے کی کوششوں میں بھی امریکی کردار انتہائی کلیدی رہا ہے، امریکی صدر نے آخر میں اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے حوالے سے اپنے اصولی موقف پر سختی سے قائم ہے اور ایران کو کسی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے اب مخلصانہ طور پر سفارتی حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔