

محمود احمد, September 03,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے ایک باضابطہ عسکری بیان جاری کرتے ہوئے امریکہ پر شدید الزام عائد کیا ہے کہ وہ سرک کاؤنٹی کے ساحلی علاقے کوہستک میں ایک شادی کی تقریب پر ‘دانستہ’ اور بزدلانہ فضائی حملے کی تردید کر کے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری سے بچنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔
بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں امریکہ کے ماضی کے عسکری ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان، عراق اور یمن میں بھی امریکی افواج کی جانب سے اسی طرح شادی کی پرمسرت تقریبات اور عام شہریوں کے اجتماعات پر ہلاکت خیز حملے کیے گئے تھے، اور اب وہی بھیانک تاریخ ایران کے اندر دہرائی جا رہی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے امریکہ کو براہِ راست سخت ترین سٹریٹجک دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فورسز کی اس جارحیت اور بے گناہ شہریوں کے خون کا حساب ہر صورت لیا جائے گا اور اس کا ایسا دندان شکن جواب دیا جائے گا جسے واشنگٹن مدتوں یاد رکھے گا۔
واضح رہے کہ ایران کے صوبہ ہرمزگان کے امدادی حکام اور ریڈ کریسنٹ کے مطابق کوہستک میں شادی کے گھر پر امریکی فضائی بمباری کے اثرات پڑنے سے ایک معصوم بچے سمیت چار افراد موقع پر ہی ہلاک جبکہ 60 سے زائد افراد شدید زخمی ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب، پینٹاگون اور امریکی عسکری حکام نے شہریوں کو دانستہ نشانہ بنانے کے تمام تر ایرانی الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ منگل کی شب کیے گئے فضائی آپریشنز کا اصل ہدف صرف اور صرف پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی فوجی تنصیبات، کمانڈ سینٹرز اور عسکری اڈے تھے۔