تہران میں ہنگامی پناہ گاہوں اور میٹرو اسٹیشنز کی نشاندہی کے لیے سائن بورڈز نصب کرنے کا بڑا فیصلہ

محمود احمد, September 08,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

تہران سٹی کونسل کے سربراہ مہدی چمران نے اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت کے مختلف حساس علاقوں اور بالخصوص معینہ میٹرو اسٹیشنز میں قائم ہنگامی پناہ گاہوں کی واضح نشاندہی کے لیے باقاعدہ سائن بورڈز نصب کیے جائیں گے۔

مہدی چمران نے سٹی کونسل کے اجلاس کے بعد تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کونسل کی حالیہ منظوریوں کی روشنی میں ان تمام تر مقامات پر نمایاں بورڈز لگانے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے جنہیں کسی بھی ہنگامی یا جنگی صورتحال میں عوام کی حفاظت کے لیے پناہ گاہوں کے طور پر مختص کیا گیا ہے، تاکہ شہریوں کو بلا تاخیر معلوم ہو سکے کہ قریب ترین محفوظ ترین مقامات کہاں واقع ہیں۔

سٹی کونسل کے سربراہ نے مزید بتایا کہ پناہ گاہوں کی صلاحیت رکھنے والے تمام میٹرو اسٹیشنز کی فہرست اور تفصیلات سے بھی عوام کو جامع انداز میں آگاہ کیا جائے گا اور وہاں معلوماتی سائن بورڈز اور رہنمائی کے واضح انتظامات مکمل کیے جائیں گے۔

ایرانی دارالحکومت کی انتظامیہ کا یہ اہم اور تحفظاتی اقدام ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ماضی کی جنگوں اور پرتشدد کشیدگی کے دوران تہران کے رہائشیوں نے شہر میں بم پناہ گاہوں کی شدید کمی اور موجودہ محفوظ مقامات تک رسائی کے لیے گائیڈ لائنز یا سائن بورڈز کے نہ ہونے پر گہرے تحفظات اور شکایات کا اظہار کیا تھا۔

مہدی چمران نے اس امر پر زور دیا کہ شہریوں کو ممکنہ خطرات کے دوران اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے بروقت اور درست معلومات کی فراہمی انتہائی ضروری ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی آفت یا فضائی حملوں کی صورت میں وہ کم سے کم وقت میں ان محفوظ پناہ گاہوں تک پہنچ سکیں۔ تہران انتظامیہ کے اس قدم سے دارالحکومت کے باشندوں کے تحفظ اور کسی بھی ہنگامی حالت میں فوری ردِعمل کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

جزیرہ خارگ میں صورتحال بالکل معمول کے مطابق اور پرسکون ہے: ایرانی میڈیا کی تازہ وضاحت

محمود احمد, September 05,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

ایران کے اہم ترین خام تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارگ میں صورتحال بالکل معمول کے مطابق، محفوظ اور پرسکون ہے۔

ایرانی میڈیا اداروں کی جانب سے فراہم کردہ تازہ ترین تفصیلات کے مطابق اس سے قبل گردش کرنے والی ان رپورٹس کے بعد کہ امریکی فورسز نے جزیرہ خارگ کے قریب لنگر انداز ایک ایرانی آئل ٹینکر کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا ہے، اب صورتحال کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ اس مبینہ واقعے پر نہ تو ایرانی حکومت و دفاعی حکام نے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا ہے اور نہ ہی امریکی حکام نے کوئی تبصرہ کیا ہے۔

ایران کی طلبہ خبر رساں ایجنسی نے جزیرہ خارگ اور اس کے ارد گرد کے ساحلی علاقوں کی تازہ ترین تصاویر اور فوٹیج جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ علاقے میں کسی قسم کی آگ، تباہی یا دھوئیں کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیے اور تمام تر معاشی و آپریشنل سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔

ادھر نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق مبینہ حملے اور دھماکوں کے وقت ایرانی آئل ٹینکر جزیرہ خارگ کے ساحل سے تقریباً چھ میل (11 کلومیٹر) کے فاصلے پر کھلے سمندر میں موجود تھا، تاہم جزیرے کی تنصیبات اور مقامی حدود مکمل طور پر محفوظ اور بحال ہیں۔

خلیجِ فارس میں ایران کے تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کے قریب آئل ٹینکر پر میزائل حملہ: چار میزائل لگنے کا دعویٰ

محمود احمد, September 05,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

ایران کے انتہائی اہم اور تزویراتی خام تیل کے برآمدی مرکز خارگ جزیرے کے قریب ہفتے کی صبح طاقتور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد ایرانی ذرائع ابلاغ نے ایک ایرانی آئل ٹینکر کو امریکی افواج کی جانب سے مبینہ طور پر میزائل حملے کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی ہے۔

ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے ‘تسنیم’ کی رپورٹ کے مطابق خارگ جزیرے کے ساحل سے تقریباً 10 کلومیٹر کے فاصلے پر سمندر میں لنگر انداز ایک ایرانی آئل ٹینکر پر امریکی فورسز کی طرف سے چار میزائل داغے گئے۔ ابتدائی موصولہ اطلاعات کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں فی الحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے اور ٹینکر پر موجود تمام عملے کو باحفاظت نکالنے کا آپریشن ہنگامی بنیادوں پر شروع کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل ایرانی خبر رساں ادارے ‘فارس’ نے خارگ جزیرے کے ارد گرد سمندری حدود میں بیک وقت متعدد شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی رپورٹ جاری کی تھی، تاہم شروعات میں دھماکوں کی حتمی وجہ اور نقصان کے بارے میں صورتحال واضح نہیں تھی اور نہ ہی ساحلی علاقے سے دھوئیں کے بادل دکھائی دیے تھے۔

واقعے کی سنگینی کے باوجود ایرانی انتظامیہ اور امریکی حکام کی جانب سے اس بابت ابھی تک کوئی باضابطہ تصدیقی یا تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی اس مبینہ کارروائی پر فوراً کسی قسم کے تبصرے سے گریز کیا ہے۔

خارگ جزیرے کی تزویراتی اور معاشی اہمیت:

خلیجِ فارس میں واقع خارگ جزیرہ ایران کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہاں ملک کا سب سے بڑا اور مرکزی خام تیل برآمدی ٹرمینل قائم ہے جہاں سے سمندری راستوں کے ذریعے عالمی منڈیوں کو تیل منتقل کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حالیہ جنگ اور محاذ آرائی سے قبل ایران اپنی مجموعی خام تیل کی برآمدات کا تقریباً 90 فیصد حصہ اسی خارگ جزیرے کے ٹرمینل سے منتقل کرتا تھا، جس کے باعث اس تنصیب پر ہونے والا کوئی بھی حملہ نہ صرف ایرانی معیشت بلکہ عالمی توانائی کی رسد کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

ایران کا امریکی شہریوں سے جنگ کا پیادہ نہ بننے کا مطالبہ؛ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایرانی زیرِ زمین مرکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

محمود احمد, September 05,2026

تہران / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی شہریوں سے زوردار اپیل کی ہے کہ وہ اپنی حکومت کو اپنے وجود کو ایران کے ساتھ جاری فوجی محاذ آرائی میں ‘جنگ کا پیادہ’ بنانے کی ہرگز اجازت نہ دیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (ٹوئٹر) پر امریکی عوام کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ وہ خود کو ایک ایسی جنگ کا حصہ بنانے اور اس کے بھاری اخراجات ادا کرنے سے باز رہیں جس کا انہوں نے جمہوری طور پر کبھی انتخاب نہیں کیا تھا۔ انہوں نے امریکی شہریوں سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کو خطے میں بلاوجہ ‘کرائے کے سپاہی’ بننے سے روکیں۔

اسماعیل بقائی کے اس بیان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کے واضح عندیے نے خطے میں جاری شدید کشیدگی کو ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔

تازہ امریکی بیانات اور دھمکیوں میں صدر ٹرمپ نے ایران کے نطنز ایٹمی مرکز کے قریب واقع انتہائی محفوظ اور گہرے زیرِ زمین مقام ‘کوہِ کلنگ گاز لا’ کو نشانہ بنانے کا اشارہ دیا ہے۔ یہ مقام کئی سالوں سے تعمیر کیا جانے والا ایک انتہائی مضبوط اور بم پروف کمپلیکس ہے، جسے پہاڑوں کی گہرائی کے باعث روایتی فضائی حملوں سے تباہ کرنا ناممکن حد تک مشکل تصور کیا جاتا ہے۔

ایران اس مقام پر کسی بھی قسم کی خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق امریکی اور اسرائیلی دعوؤں اور الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔ ایرانی ترجمان نے اپنے حالیہ بیان میں بھی واضح کیا کہ کوہِ کلنگ میں کوئی جوہری یا ایٹمی سرگرمی انجام نہیں دی جا رہی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری اس سنگین فوجی تنازع کو کم اہمیت دیتے ہوئے اسے ایک ‘چھوٹا معاملہ’ قرار دیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کو مکمل جنگ کے بجائے ایک محدود ‘فوجی تصادم’ کہنا زیادہ مناسب ہوگا جو امریکہ کے لیے ایک محدود نوعیت کا آپریشن ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری ان حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ اور غیر مستحکم بنی ہوئی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا اردنی ہم منصب کو کرارا جواب: جارحیت کا جواب نہ دینے کی منطق پر سوال اٹھا دیا

محمود احمد, September 04,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اردن کے وزیرِ خارجہ کے حالیہ بیانات پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ایران کو ایسے جارح کا جواب دینے کے لیے کب تک انتظار کرنا چاہیے جو نہ تو عرب ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور نہ ہی ایرانی سلامتی کا پاس رکھتا ہے۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک تفصیلی بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اردنی وزیرِ خارجہ کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان پر حقائق سے لاعلمی کا الزام عائد کیا۔ عباس عراقچی نے انکشاف کیا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی جانب سے کیے گئے ابتدائی اور ابتدائی نوعیت کے حملوں کے دوران مختلف عرب ممالک کی فضائی، زمینی اور آبی حدود کا استعمال کیا گیا تھا۔

یہ سفارتی لفظی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب اردن کی وزارتِ خارجہ نے کویت میں ایرانی کارروائیوں اور حملوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں “وحشیانہ” قرار دیا تھا۔ اردنی بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ اقدام قومی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی، خطے کی سلامتی و استحکام کے لیے شدید خطرہ اور بین الاقوامی قوانین سمیت اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

دوسری جانب قطر کی وزارتِ خارجہ نے بھی کویت کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے باضابطہ بیان میں متنبہ کیا تھا کہ اس قسم کے حملے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور امن و استحکام قائم کرنے کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز ایران کی مرضی کے بغیر کبھی نہیں کھلے گا: ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا دبنگ اعلان

محمود احمد, September 03,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

ایران اور امریکہ کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید عسکری محاذ آرائی اور سمندری ناکہ بندی کے تناظر میں ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکہ کو سخت خبردار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ ایران کی منشا اور مرضی کے بغیر کبھی نہیں کھولی جائے گی۔

بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اپنے ایک اہم اور تند و تیز بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ حالیہ خوفناک جنگ کے برپا ہونے کے بعد امریکی افواج اور بحری بیڑے خوف کے باعث ایرانی سرحدوں سے تقریباً 500 میل دور پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرانے میں ناکامی کے باعث اب بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر جارحانہ اقدامات کر رہا ہے۔

ابراہیم عزیزی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ کی ہر قسم کی گیدڑ بھبکیوں اور عسکری دھمکیوں کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اپنی بے پناہ عسکری طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے اور سمندری سرحدوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی فضائیہ اور بحریہ نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور بندرگاہوں پر کئی ہلاکت خیز حملے کیے ہیں۔ امریکی پینٹاگون اور سنٹرل کمانڈ نے ان کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے اور بین الاقوامی تجارتی و تیل بردار بحری جہازوں پر ڈرون و میزائل حملے کرنے کی ایرانی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔

دوسری جانب، ایران نے امریکی فضائی حملوں کا سخت جوابی ردِعمل دیتے ہوئے اردن، کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات میں واقع متعدد امریکی عسکری اڈوں اور ایئر بیسز پر پے در پے بیلسٹک میزائلوں اور انتحاری ڈرونز سے تابڑ توڑ حملے کیے ہیں، جس کے باعث پورے خلیجی خطے میں عالمی توانائی اور بحری تجارت کا نظام شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے۔

شادی کی تقریب پر حملے کی تردید کر کے امریکہ اپنی ذمہ داری سے بھاگ نہیں سکتا: پاسدارانِ انقلاب کا انتباہ اور سخت انتقامی کارروائی کا اعلان

محمود احمد, September 03,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے ایک باضابطہ عسکری بیان جاری کرتے ہوئے امریکہ پر شدید الزام عائد کیا ہے کہ وہ سرک کاؤنٹی کے ساحلی علاقے کوہستک میں ایک شادی کی تقریب پر ‘دانستہ’ اور بزدلانہ فضائی حملے کی تردید کر کے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری سے بچنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔

بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں امریکہ کے ماضی کے عسکری ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان، عراق اور یمن میں بھی امریکی افواج کی جانب سے اسی طرح شادی کی پرمسرت تقریبات اور عام شہریوں کے اجتماعات پر ہلاکت خیز حملے کیے گئے تھے، اور اب وہی بھیانک تاریخ ایران کے اندر دہرائی جا رہی ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے امریکہ کو براہِ راست سخت ترین سٹریٹجک دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فورسز کی اس جارحیت اور بے گناہ شہریوں کے خون کا حساب ہر صورت لیا جائے گا اور اس کا ایسا دندان شکن جواب دیا جائے گا جسے واشنگٹن مدتوں یاد رکھے گا۔

واضح رہے کہ ایران کے صوبہ ہرمزگان کے امدادی حکام اور ریڈ کریسنٹ کے مطابق کوہستک میں شادی کے گھر پر امریکی فضائی بمباری کے اثرات پڑنے سے ایک معصوم بچے سمیت چار افراد موقع پر ہی ہلاک جبکہ 60 سے زائد افراد شدید زخمی ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب، پینٹاگون اور امریکی عسکری حکام نے شہریوں کو دانستہ نشانہ بنانے کے تمام تر ایرانی الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ منگل کی شب کیے گئے فضائی آپریشنز کا اصل ہدف صرف اور صرف پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی فوجی تنصیبات، کمانڈ سینٹرز اور عسکری اڈے تھے۔

شادی کی تقریب پر امریکی میزائل گرنے سے معصوم بچے سمیت 4 افراد ہلاک: ایرانی وزارتِ خارجہ نے حملے کو ‘جنگی جرم کا حقیقی چہرہ’ قرار دے دیا

محمود احمد, September 02,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

جنوبی ایران میں ایک شادی کی تقریب پر امریکی میزائل کے ٹکڑے گرنے سے معصوم بچے سمیت چار افراد کی دردناک ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سٹریٹجک جنگ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے تنازع نے جنم لے لیا ہے۔

ایرانی ریڈ کریسنٹ (ہلالِ احمر) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق یہ المناک واقعہ جنوبی ایران کے ایک رہائشی علاقے میں اس وقت پیش آیا جب ایک گھر میں شادی کی پرمسرت تقریب جاری تھی۔ اس دوران پاس کے علاقے میں ہونے والے امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں میزائل کے وزنی ٹکڑے شادی والے گھر پر جا گرے، جس کے نتیجے میں بچے سمیت چار افراد موقع پر ہی ہلاک جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہو گئے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر اس حملے کے بعد کی دل دہلا دینے والی ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں تباہ شدہ گھر اور خوشیوں کے ماتم میں تبدیل ہونے کے اثرات کو دیکھا جا سکتا ہے۔

ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے ویڈیو کے ساتھ جاری کردہ پیغام میں امریکی کارروائی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی غیر قانونی، غیر اخلاقی اور ظالمانہ جنگ کی بھیانک حقیقت گزشتہ رات پوری دنیا کے سامنے بالکل آشکار ہو گئی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ ویڈیو امریکی فوج کے ہاتھوں کیے جانے والے ‘جنگی جرم کا حقیقی چہرہ’ دکھاتی ہے۔

دوسری جانب امریکی عسکری حکام اور پینٹاگون کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی ایران میں شادی کی تقریب پر میزائل کے ٹکڑے گرنے اور شہریوں کی ہلاکت سے متعلق سامنے آنے والی متعدد میڈیا اطلاعات سے مکمل طور پر آگاہ ہیں، تاہم امریکی فوج نے واضح موقف اپنایا ہے کہ اس کی کارروائیاں صرف عسکری اہداف کے خلاف ہیں اور اس نے شہریوں یا غیر نظامی آبادی کو دانستہ طور پر نشانہ نہیں بنایا ہے۔

آبنائے ہرمز میں شدید پیش رفت: بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دو تیل بردار بحری جہاز دھماکے سے تباہ، آگ کی لپیٹ میں

محمود احمد, September 02,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں جاری انتہائی سنگین اور پیچیدہ عسکری کشیدگی کے دوران ایران کے پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے نیا اور چونکا دینے والا دعویٰ کیا ہے کہ سمندری حدود میں دو تیل بردار بحری جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر شدید دھماکے کے بعد مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چند گھنٹے قبل ان دو آئل ٹینکرز کے عملے کو امریکی فوج کی ایماء پر اتار دیا گیا تھا اور ان جہازوں کو غیر قانونی راستہ عبور کرنے کے لیے امریکی عسکری عناصر کے اختیار میں دیا گیا تھا۔

پاسدارانِ انقلاب کے عسکری ترجمان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ سے قبل ایرانی بحریہ نے بین الاقوامی بحری نقل و حرکت کو بارودی سرنگوں سے آلودہ اس مخصوص سمندری گزرگاہ کو عبور کرنے کے شدید خطرات سے باضابطہ اور واضح طور پر خبردار کیا تھا۔

بیان میں امریکی اتحاد اور تجارتی اداروں کو شدید تنبیہ کرتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ جو بین الاقوامی بحری کمپنیاں قانونی اور محفوظ بین الاقوامی راستہ اختیار کرنے کے بجائے امریکی جھانسے میں آتی ہیں اور اپنے تجارتی جہاز دشمن کے حوالے کرتی ہیں، ان کے لیے مزید سخت سزائیں تجویز کر لی گئی ہیں جن پر جلد اور مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔

سفارتی و سیکیورٹی حل کی تلاش: پاکستانی وفد کا اہم دورۂ تہران، امریکہ ایران کشیدگی اور علاقائی صورتحال کا جائزہ

محمود احمد, August 24,2026

تہران/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید سخت معاشی پابندیوں کے اعلان اور ایران کی طرف سے خلیج سے تیل کی ترسیل روکنے کی جوابی دھمکی کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے درمیان ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستانی وفد کے ہمراہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کا پرشور استقبال ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے کیا۔ وفد میں پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی شامل ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے ‘اسنا’ کے مطابق، پاکستانی وفد اپنے اس اعلیٰ سطحی دورے کے دوران ایران کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت سے انتہائی اہم ملاقاتیں کرے گا۔ ان ملاقاتوں میں دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ، سرحدی سلامتی کے استحکام، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اور خطے میں پیدا ہونے والی تاز ترین سیکیورٹی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

یہ اہم وزٹ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران کی معیشت پر مزید ناکہ بندی کی جا رہی ہے اور منگل کے روز عمان کے وزیرِ خارجہ بھی ایرانی حکام سے اہم مذاکرات کے لیے تہران پہنچ رہے ہیں۔ سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان اور عمان کے ان یکے بعد دیگرے دوروں کا مقصد خلیج کے خطے میں مزید کسی بڑے فوجی یا معاشی تصادم کو روکنا اور بحران کا سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔

ایران کی متحدہ عرب امارات پر میزائل حملوں کے الزامات کی تردید، یو اے ای کا تہران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالیاتی لین دین معطل کرنے کا اعلان

محمود احمد, August 19,2026

تہران/ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی ایک نئی لہر کے دوران ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے متحدہ عرب امارات کے ان بیانات اور الزامات کو صریحاً مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے یو اے ای کی سرزمین پر میزائل داغے ہیں۔ ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران پر لگائے جانے والے یہ تمام الزامات بالکل بے بنیاد، من گھڑت اور علاقے کی صورتحال کو مزید خراب کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔

دوسری جانب، ان الزامات اور مبینہ حملوں کے فوری ردِعمل میں متحدہ عرب امارات کی حکومت نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تمام قسم کے تجارتی، معاشی اور مالیاتی لین دین کو اگلے نوٹس تک معطل کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اماراتی حکام کی جانب سے اس فیصلے سے متعلق تمام متعلقہ بینکنگ، تجارتی اور مالیاتی اداروں کو احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق متحدہ عرب امارات کے اس یکطرفہ فیصلے کے بعد دونوں خلیجی ممالک کے درمیان سالہا سال سے قائم اربوں ڈالر کے تجارتی تعلقات، کاروباری ساہوکاری اور مالیاتی روابط شدید متاثر ہوں گے، جس سے پورے خلیجی خطے کی معاشی صورتحال، تجارتی نقل و حمل اور سفارتی تعلقات پر انتہائی گہرے اور منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

تہران میں پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کی شاندار تقریب: سفیر عمران احمد صدیقی کا قومی پرچم لہرانے کے بعد تقریب سے خطاب

منصور احمد, August 14,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 14 اگست 2026ء

ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع ‘پاکستان ہاؤس’ میں ملک کے 79ویں یومِ آزادی کی مناسبت سے پروقار اور پرجوش پرچم کشائی کی تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب میں تہران میں مقیم پاکستانی برادری، سفارتی حکام اور ان کے اہل خانہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز پاکستان کے قومی ترانے کی دھن کے ساتھ ہوا، جس کے بعد ایران میں پاکستان کے سفیر عالی مرتبت عمران احمد صدیقی نے قومی پرچم لہرایا۔ اس موقع پر سفیر نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے یومِ آزادی کی مناسبت سے خصوصی پیغامات پڑھ کر سنائے۔

حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عمران احمد صدیقی نے پاکستانی برادری کو جشنِ آزادی کی مبارکباد دی اور تقریب میں ان کی بھرپور شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ایران کی سماجی و معاشی ترقی اور دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں مقیم پاکستانیوں کے کردار کو سراہا۔ سفیر نے دونوں ممالک کی قیادت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ باہمی تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا، جس میں پاکستانی کمیونٹی کا کردار انتہائی کلیدی ہے۔

تقریب کے دوران پاکستان ایمبیسی انٹرنیشنل اسکول اینڈ کالج تہران کے بچوں نے ملکی محبت سے لبریز ملی نغمے پیش کر کے حاضرین سے داد وصول کی۔ تقریب میں تحریکِ پاکستان اور ملک کے دفاع کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے لیے خصوصی اجتماعی دعا کی گئی، جبکہ آخر میں یومِ آزادی کی خوشی میں کیک بھی کاٹا گیا۔