

محمود احمد june 04,2026
اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء
پاکستان نے دنیا کے کسی بھی خطے، کسی بھی فرد، کسی بھی جگہ اور کسی بھی صورت میں مہلک کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سخت ترین الفاظ میں مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا بین الاقوامی کنونشن عالمی تخفیفِ اسلحہ اور پائیدار امن کے نظام کا ایک بنیادی ستون ہے۔
پاکستان کا اصولی موقف اور شامی حکومت کے عزم کی تعریف مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی صورتحال سے متعلق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک خصوصی بریفنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان اس عالمی کنونشن کی عالمگیریت اور اس کے مکمل، مؤثر اور بغیر کسی امتیاز کے نفاذ کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے شام کی حکومت کی جانب سے تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار کے ساتھ مکمل تعاون کے عزم کو سراہا اور کہا کہ یہ تعاون کیمیائی ہتھیاروں کے ممکنہ باقیات کے خاتمے کے عمل کو تیز کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہو رہا ہے۔
زیرِ التوا امور، سکیورٹی چیلنجز اور رکاوٹیں سفیر عثمان جدون نے تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار کے ڈائریکٹر جنرل کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ چھبیس میں سے انیس زیرِ التوا امور اب بھی حل طلب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنیکل سیکرٹریٹ ان مقامات کی نشاندہی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے جو کنونشن کے تحت قابلِ اعلامیہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سیکرٹریٹ نے ضروریات اور خلا کے جائزے کے تحت ان کمزوریوں کی ایک غیر حتمی فہرست بھی تیار کی ہے جو شامی حکام کی فراہمی اور ان کی دستیاب استعداد کے درمیان موجود ہیں۔ تاہم، پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ شام کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور بعض اہم علاقوں پر دیگر قوتوں کے قبضے کی کیفیت اس عمل کے بروقت اور مؤثر نفاذ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔
شامی حکام کی استعدادِ کار میں اضافے کا مطالبہ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا:
“یہ امر انتہائی ضروری ہے کہ شامی حکام کو درپیش زمینی رکاوٹوں اور اندرونی چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے ان کی انتظامی و عسکری استعدادِ کار میں اضافہ کیا جائے اور ان کے ساتھ عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ یہ تعاون کئی بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے انتہائی اہم ہے، جن میں مشتبہ مقامات کی نوعیت، ادارہ جاتی محدودیتیں، اور شامی قومی ٹیموں کی کیمیائی گولہ بارود کو سنبھالنے، ان کی نقل و حمل اور انہیں محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے سے متعلق محدود تکنیکی صلاحیت اور تجربہ شامل ہیں۔
برادر ممالک ترکیہ اور قطر کی کوششوں کی تعریف نائب مستقل مندوب نے ان تمام عالمی فریقین کی بھی کھل کر تعریف کی جو شامی حکام کی استعداد بڑھانے اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں اپنا تکنیکی تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ اس اہم ترین مہم کے حوالے سے انہوں نے برادر مسلم ممالک ترکیہ اور قطر کی سفارتی اور تزویراتی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا۔
اخری میں انہوں نے ٹیکنیکل سیکرٹریٹ پر زور دیا کہ وہ کنونشن کے مطابق اپنی آزادانہ تصدیقی ذمہ داریاں پوری دیانت داری سے جاری رکھے تاکہ شام میں موجود مشتبہ کیمیائی ہتھیاروں اور ان کے پھیلاؤ کے کسی بھی ممکنہ خطرے کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریقین کے درمیان جاری مثبت روابط مزید مضبوط بنیاد فراہم کریں گے تاکہ تمام حل طلب امور جلد از جلد نمٹائے جا سکیں اور اس اہم فائل کو ہمیشہ کے لیے بند کیا جا سکے۔