اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے کھلے مباحثے میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون کا مقتدر خطاب؛ فلسطین اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار، سال 2025ء کے دوران ریکارڈ 38 ہزار سے زائد جانی و حقوقی خلاف ورزیاں رپورٹ، ذمہ دار عناصر کے کڑے احتساب کا مطالبہ

محمود احمد june 25,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسلح تنازعات اور غیر ملکی قبضے کی سنگین صورتحال میں معصوم بچوں کی ابتر ہوتی ہوئی حالت پر شدید ترین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ جنگ، تشدد اور بنیادی حقوق سے طویل محرومی کے سب سے زیادہ ہولناک اور سنگین اثرات معصوم بچوں کو ہی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیرِ اہتمام ’’بچوں اور مسلح تنازعات‘‘ سے متعلق منعقدہ اہم کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے غیر ملکی تسلط کے تحت زندگی گزارنے والے بچوں کی حالتِ زار کو انتہائی تشویشناک قرار دیا۔ انہوں نے مقتدر برادری کی توجہ دلاتے ہوئے نشاندہی کی کہ صرف مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ایک سال کے دوران بچوں کے خلاف وحشیانہ سنگین خلاف ورزیوں کے 12 ہزار سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

سفیر عثمان جدون نے اپنے مقتدر خطاب میں واضح کیا کہ غیر ملکی قبضے کی دیگر تمام تر صورتحال میں بچوں کو درپیش گہرے نفسیاتی صدمات اور جسمانی مظالم بھی شدید عالمی تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی تمام صورتحال کی کڑی اور لائیو نگرانی کی جائے اور ان کے بارے میں سلامتی کونسل کو مکمل غیر جانبدارانہ رپورٹنگ فراہم کی جائے تاکہ انسانی حقوق پامال کرنے والے ذمہ دار عناصر کا بلا تفریق احتساب ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ تنازعات اور غیر ملکی قبضے کے حالات میں بچوں کی مشکلات کا کوئی بھی مؤثر حل اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک ان سنگین مسائل کی بنیادی سیاسی و تزویراتی وجوہات کا تدارک نہ کیا جائے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پیشگی سفارت کاری، تنازعات کے دیرپا حل اور اختلافات کے پرامن تصفیے پر زیادہ توجہ دینے کی مقتدر ضرورت پر زور دیا۔

سفیر جدون نے کہا کہ جو عالمی تنازعات اور علاقائی اختلافات طویل عرصے تک حل طلب رہتے ہیں، ان کی انسانی قیمت دنیا کو بہت بھاری چکانی پڑتی ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہریوں اور بالخصوص معصوم بچوں جیسے کمزور طبقات کے کندھوں پر آتا ہے۔ انہوں نے بچوں کے تحفظ کے لیے فوری عملی اقدامات کا مقتدر تقاضا کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں مؤثر نگرانی، خلاف ورزیوں کے مرتکبین کو سزا سے استثنا (سزا سے چھوٹ) کے خاتمے، اسکولوں کو حملوں اور عسکری مقاصد کے لیے استعمال سے محفوظ رکھنے، اور متاثرہ علاقوں میں محفوظ تعلیمی نظام کے فروغ جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے تمام متحارب فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون، بچوں کے حقوق کے کنونشن اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی مکمل پاسداری کریں۔

پاکستانی مندوب نے اس امر کی نشاندہی کی کہ یہ اہم مباحثہ ’’بچوں اور مسلح تنازعات‘‘ کے مینڈیٹ کے قیام کی تیسویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوا ہے، جسے 1996ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قائم کیا تھا، اور انہوں نے اس مینڈیٹ کے لیے پاکستان کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کیا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ کا مقتدر حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ سال 2025ء کے دوران دنیا بھر میں بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کے 38 ہزار سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو اس مینڈیٹ کے قیام کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی اور تشویشناک تعداد ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ابھرتے ہوئے نئے خطرات، بشمول بغیر پائلٹ فضائی ڈرونز اور مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس جدید ہتھیاروں کے نظام، بچوں کو پہلے سے کہیں زیادہ اور غیر معمولی حملوں کی مقتدر زد میں لا رہے ہیں، لہٰذا بچوں کی فلاح و بہبود سلامتی کونسل کی ترجیحات میں ہر صورت سرفہرست رہنی چاہیے۔

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے عالمی تعاون بڑھایا جائے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار کے فریم ورک کے تحت استعدادِ کار میں اضافے پر زور

محمود احمد june 04,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء

پاکستان نے دنیا کے کسی بھی خطے، کسی بھی فرد، کسی بھی جگہ اور کسی بھی صورت میں مہلک کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سخت ترین الفاظ میں مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا بین الاقوامی کنونشن عالمی تخفیفِ اسلحہ اور پائیدار امن کے نظام کا ایک بنیادی ستون ہے۔

پاکستان کا اصولی موقف اور شامی حکومت کے عزم کی تعریف مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی صورتحال سے متعلق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک خصوصی بریفنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان اس عالمی کنونشن کی عالمگیریت اور اس کے مکمل، مؤثر اور بغیر کسی امتیاز کے نفاذ کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے شام کی حکومت کی جانب سے تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار کے ساتھ مکمل تعاون کے عزم کو سراہا اور کہا کہ یہ تعاون کیمیائی ہتھیاروں کے ممکنہ باقیات کے خاتمے کے عمل کو تیز کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہو رہا ہے۔

زیرِ التوا امور، سکیورٹی چیلنجز اور رکاوٹیں سفیر عثمان جدون نے تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار کے ڈائریکٹر جنرل کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ چھبیس میں سے انیس زیرِ التوا امور اب بھی حل طلب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنیکل سیکرٹریٹ ان مقامات کی نشاندہی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے جو کنونشن کے تحت قابلِ اعلامیہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سیکرٹریٹ نے ضروریات اور خلا کے جائزے کے تحت ان کمزوریوں کی ایک غیر حتمی فہرست بھی تیار کی ہے جو شامی حکام کی فراہمی اور ان کی دستیاب استعداد کے درمیان موجود ہیں۔ تاہم، پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ شام کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور بعض اہم علاقوں پر دیگر قوتوں کے قبضے کی کیفیت اس عمل کے بروقت اور مؤثر نفاذ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔

شامی حکام کی استعدادِ کار میں اضافے کا مطالبہ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا:

“یہ امر انتہائی ضروری ہے کہ شامی حکام کو درپیش زمینی رکاوٹوں اور اندرونی چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے ان کی انتظامی و عسکری استعدادِ کار میں اضافہ کیا جائے اور ان کے ساتھ عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ یہ تعاون کئی بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے انتہائی اہم ہے، جن میں مشتبہ مقامات کی نوعیت، ادارہ جاتی محدودیتیں، اور شامی قومی ٹیموں کی کیمیائی گولہ بارود کو سنبھالنے، ان کی نقل و حمل اور انہیں محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے سے متعلق محدود تکنیکی صلاحیت اور تجربہ شامل ہیں۔

برادر ممالک ترکیہ اور قطر کی کوششوں کی تعریف نائب مستقل مندوب نے ان تمام عالمی فریقین کی بھی کھل کر تعریف کی جو شامی حکام کی استعداد بڑھانے اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں اپنا تکنیکی تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ اس اہم ترین مہم کے حوالے سے انہوں نے برادر مسلم ممالک ترکیہ اور قطر کی سفارتی اور تزویراتی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا۔

اخری میں انہوں نے ٹیکنیکل سیکرٹریٹ پر زور دیا کہ وہ کنونشن کے مطابق اپنی آزادانہ تصدیقی ذمہ داریاں پوری دیانت داری سے جاری رکھے تاکہ شام میں موجود مشتبہ کیمیائی ہتھیاروں اور ان کے پھیلاؤ کے کسی بھی ممکنہ خطرے کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریقین کے درمیان جاری مثبت روابط مزید مضبوط بنیاد فراہم کریں گے تاکہ تمام حل طلب امور جلد از جلد نمٹائے جا سکیں اور اس اہم فائل کو ہمیشہ کے لیے بند کیا جا سکے۔

لبنان میں شفا خانوں پر حملے جاری، خواتین اور لڑکیاں شدید ترین انسانی بحران کا شکار: اقوامِ متحدہ کی ہنگامی رپورٹ

محمود احمد june 03,2026

بیروت / نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

اقوامِ متحدہ کے آبادی سے متعلق ذیلی ادارے نے دنیا بھر کو شدید خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے ملک لبنان میں خواتین اور کم عمر لڑکیاں اس وقت ایک ہولناک اور بڑھتے ہوئے انسانی بحران کا سامنا کر رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، خطے میں عارضی جنگ بندی کے دعوؤں کے باوجود وہاں کے مقامی طبی مراکز اور علاج گاہوں پر حملوں کا سلسلہ تھم نہیں سکا ہے۔

خوف و بے یقینی کا ماحول اور کمزور طبقے شدید مشکلات میں عالمی ادارے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق، پورے لبنان میں اس وقت شدید خوف، معاشی و سیاسی بے یقینی اور عسکری کشیدگی کی سنگین صورتحال برقرار ہے، جس کے باعث ملک کے عام شہری اور خصوصاً خواتین، نوزائیدہ بچے اور لڑکیاں شدید ترین مشکلات اور ذہنی دباؤ سے دوچار ہیں۔

مقدس طبی مراکز اور محفوظ پناہ گاہوں کی تباہی رپورٹ میں اس لرزہ خیز حقیقت کا انکشاف کیا گیا ہے کہ حالیہ فضائی و زمینی حملوں میں عام شہریوں کی جان بچانے والے طبی مراکز اور خواتین کے لیے قائم کردہ ان محفوظ مقامات کو شدید ترین نقصان پہنچایا گیا ہے، جو براہِ راست اقوامِ متحدہ کے مالی اور انتظامی تعاون سے چلائے جا رہے تھے۔ جنوبی لبنان کے اضلاع میں خواتین کے لیے زچگی کی طبی سہولیات پہلے ہی انتہائی محدود تھیں اور اب ان شفا خانوں پر ہونے والے تازہ حملوں سے صورتحال خطرناک حد تک خراب ہو چکی ہے۔

حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی زندگیاں داؤ پر اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے مطابق، زچگی کے مخصوص کمروں اور شفا خانوں کی تباہی کے باعث حاملہ خواتین اور پیدا ہونے والے نوزائیدہ بچوں کی قیمتی زندگیاں شدید ترین خطرے میں آ گئی ہیں۔ جنگ کی ہولناکی کے باعث اس وقت ہزاروں کی تعداد میں حاملہ خواتین اپنے گھر بار چھوڑ کر کھلے آسمان تلے بے گھر ہو چکی ہیں اور وہ زچگی کے دوران ملنے والی بنیادی طبی سہولیات اور ادویات سے بھی مکمل طور پر محروم ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی تصدیق اور نظامِ صحت کا مفلوج ہونا دوسری جانب، عالمی ادارہ صحت نے بھی اس ابتر صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں طبی مراکز اور ڈاکٹروں پر ہونے والے مسلسل حملوں کے باعث لبنان کا پورا مقامی نظامِ صحت اس وقت شدید ترین دباؤ کا شکار ہے۔ ملک کے بہت سے بڑے شفا خانے اب انتہائی محدود وسائل اور بجلی و ادویات کی شدید قلت کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے دنیا کی بڑی طاقتوں اور عالمی برادری سے اس انسانی المیے پر فوری توجہ دینے اور مداخلت کرنے کی درد مندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ حملے فوری طور پر نہ روکے گئے، تو لبنان میں جاری یہ انسانی بحران آنے والے دنوں میں مزید سنگین اور بے قابو ہو سکتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسی ویں اجلاس کے صدر کا تاریخی انتخاب، بنگلہ دیش کے سفارتکار خلیل الرحمان کامیاب

محمود احمد june 02,2026

نیویارک / ڈھاکہ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جون 2026ء

عالمی سفارت کاری کے میدان میں جنوبی ایشیا کے لیے بڑی کامیابی سامنے آئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسی ویں (81ویں) سالانہ اجلاس کے صدر کے معرکہ آرا انتخاب میں بنگلہ دیش کے سینیئر اور مایہ ناز سفارتکار خلیل الرحمان حتمی طور پر کامیاب قرار پائے ہیں۔ وہ ستمبر 2026ء سے لے کر ستمبر 2027ء تک قائم رہنے والے اس اہم ترین عالمی اجلاس کے صدر کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔

جنرل اسمبلی میں ریکارڈ رائے شماری اور سو فیصد حاضری اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر نیویارک میں جنرل اسمبلی کے صدر کے منصب کے لیے ہونے والی اس ہنگامی رائے شماری کے دوران دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے مجموعی طور پر ایک سو نوے (190) ووٹ ڈالے گئے۔ اس تاریخی انتخاب کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ دنیا کا کوئی بھی رکن ملک اس اہم ووٹنگ کے عمل سے نہ تو غیر حاضر رہا اور نہ ہی کسی نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا، بلکہ تمام ممالک نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

انتخابی نتائج اور دونوں امیدواروں کے ووٹوں کا موازنہ دنیا کے اس سب سے بڑے سفارتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ انتخابی نتائج کے مطابق، دونوں ممالک کے مابین سخت جوڑ پڑا جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

خلیل الرحمان (بنگلہ دیش): 99 ووٹ حاصل کیے
اینڈریاس کاکوریس (قبرص): 91 ووٹ حاصل کیے

    اقوامِ متحدہ کے قوانین کے مطابق، صدارت کی کرسی حاصل کرنے کے لیے امیدوار کو سادہ اکثریت کے تحت کم از کم چھیانوے (96) ووٹ درکار تھے، جس کے مقابلے میں بنگلہ دیش کے خلیل الرحمان نے ننانوے (99) ووٹ حاصل کر کے میدان مار لیا۔ بین الاقوامی سیاسی ماہرین اس انتخاب کو اس لحاظ سے انتہائی سنسنی خیز اور اہم قرار دے رہے ہیں کہ دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلہ غیر معمولی طور پر سخت رہا اور ہار جیت کا فیصلہ محض آٹھ (8) ووٹوں کے معمولی فرق سے ہوا۔

    نئے صدر کی آئینی ذمہ داریاں اور عالمی منصب بنگلہ دیشی سفارتکار خلیل الرحمان رواں سال ستمبر 2026ء میں شیڈول کے مطابق جنرل اسمبلی کے اکیاسی ویں اجلاس کی صدارت کا باقاعدہ حلف اٹھا کر چارج سنبھالیں گے اور پورے ایک سال تک اس معتبر عالمی منصب پر فائز رہیں گے۔ ان کی کلیدی ذمہ داریوں میں جنرل اسمبلی کے تمام اہم ترین اجلاسوں کی صدارت کرنا، کائنات کے مختلف خطوں میں جاری جنگوں اور بحرانوں کے خاتمے کے لیے رکن ممالک کے درمیان قریبی سفارتی مشاورت کو فروغ دینا اور نازک عالمی امور پر عالمی برادری کے اندر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کرنا شامل ہوگا۔

    اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی عالمی حیثیت واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اس وقت کرہ ارض کے تقریباً تمام خودمختار اور آزاد ممالک پر مشتمل دنیا کا سب سے بڑا اور معتبر ترین عالمی فورم ہے۔ یہ وہ تاریخی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر میں پائیدار امن کے قیام، علاقائی سلامتی کے تحفظ، موسمیاتی و پائیدار ترقی، انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے اور بین الاقوامی برادری کے درمیان باہمی معاشی و عسکری تعاون سمیت تمام بڑے اور سنگین عالمی معاملات پر تفصیلی غور و خوض کے بعد مشترکہ فیصلے کیے جاتے ہیں۔

    لبنان کی صورتحال پر سلامتی کونسل میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت

    محمود احمد june 02,2026

    نیویارک / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 02 جون 2026ء

    پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں لبنان کی مسلسل بگڑتی ہوئی تزویراتی اور انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے لبنان پر جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں، غیر قانونی زمینی دراندازیوں اور لبنانی علاقوں پر قبضے کو بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے بنیادی منشور (چارٹر) کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    لبنان کے بیس فیصد رقبے پر قبضہ اور شہریوں کی جبری نقل مکانی اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مستقل جنگ بندی کے انتظامات اور تمام تر بین الاقوامی سفارتی کوششوں کے باوجود لبنان میں سلامتی اور انسانی صورتحال لمحہ بہ لمحہ خراب ہو رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث اس وقت لبنان کے تقریباً بیس فیصد رقبے پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ قائم ہو چکا ہے، جبکہ وہاں کی مقامی شہری آبادی کو جبری نقل مکانی اور شدید ترین انسانی مشکلات کا سامنا ہے۔

    ہزاروں ہلاکتیں، لاکھوں بے گھر اور امدادی کارکنوں پر حملے پاکستانی مندوب نے ہنگامی اجلاس کو زمینی حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سال مارچ کے مہینے سے لے کر اب تک ہزاروں معصوم انسان ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ دس لاکھ سے زائد لبنانی شہری اپنے ہی ملک میں بے گھر ہو کر در بدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے طبی عملے، ہسپتالوں اور امدادی کارکنوں پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کی بھی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بزدلانہ اقدامات بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین ترین خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔

    ثقافتی ورثے کی تباہی اور ملکی خودمختاری کا مطالبہ سفیر عاصم افتخار احمد نے لبنان کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی مقامات کو جان بوجھ کر نشانہ بنائے جانے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ عالمی ثقافتی ورثے کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا یہ اصولی مؤقف ہے کہ لبنان کی قومی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کا دنیا بھر میں ہر صورت احترام کیا جائے۔

    سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر عملدرآمد کا مطالبہ پاکستانی مستقل مندوب نے کہا کہ پاکستان ان تمام سفارتی کوششوں کی غیر مشروط حمایت کرتا ہے جن کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جنگی کشیدگی کا خاتمہ اور پائیدار امن کا قیام ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے اراکین کے سامنے زور دے کر یہ مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل کی منظور شدہ تاریخی ‘قرارداد نمبر 1701’ پر فوری اور مکمل عملدرآمد کروایا جائے اور اسرائیلی افواج کا ‘بلیو لائن’ (لبنانی سرحد) تک مکمل انخلا یقینی بنایا جائے۔

    لبنانی عوام سے یکجہتی اور عالمی برادری کو پکار پاکستان نے لبنان کی حکومت اور وہاں کے غیور عوام کے ساتھ اپنے مکمل اور برادرانہ یکجہتی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک مستحکم، آزاد اور پرامن لبنان پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان نے بین الاقوامی برادری اور عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچانے، مزید عسکری کشیدگی کو روکنے اور سفارتی حل کو آگے بڑھانے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کریں۔

    اپنے خطاب کے آخر میں پاکستانی مندوب نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ خطے میں دیرپا اور مستقل امن صرف اور صرف باہمی مذاکرات، سنجیدہ سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے، جبکہ یکطرفہ فوجی اقدامات مسائل کے مستقل حل کے بجائے ہمیشہ نئی اور پیچیدہ جنگی الجھنیں پیدا کرتے ہیں۔

    پاکستان نے طویل المدتی تنازعات کے پھیلاؤ کے خطرات سے خبردار کر دیا، اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب کا اہم خطاب

    محمود احمد june 02,2026

    اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 02 جون 2026ء

    پاکستان نے عالمی سطح پر جاری جنگی صورتحال کے تناظر میں ایک بار پھر اپنا واضح موقف پیش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طویل عرصے تک جاری رہنے والے تنازعات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی انتہائی سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان کے مطابق، ان جنگوں کے خطرناک اثرات اب مخصوص سرحدوں سے تجاوز کر کے دیگر پرامن ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

    سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس اور مستقل مندوب کا بیانیہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اور اہم اجلاس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ طویل المدتی تنازعات فریقین کے مابین شدید غلط فہمیوں، تزویراتی کشیدگی اور بڑے تصادم کے امکانات کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف علاقائی استحکام داؤ پر لگ جاتا ہے بلکہ بین الاقوامی امن کو بھی شدید ترین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    یوکرین تنازع پر پاکستان کا اصولی موقف انہوں نے یوکرین کے دیرینہ تنازع کے حوالے سے پاکستان کے روایتی اور اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے فریقین کے مابین تعمیری مکالمے، فعال سفارت کاری اور پرامن حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نازک صورتحال میں مزید فوجی کشیدگی اس بحران کو ایک وسیع تر اور تباہ کن تصادم میں تبدیل کر سکتی ہے، جس کے بھیانک اثرات کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا محسوس کرے گی۔

    ریاستوں کی خودمختاری اور مسلح ڈرونز کی دراندازی پر تشویش پاکستانی مندوب نے دنیا کی تمام ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے غیر مشروط احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ بنیادی اصول بین الاقوامی قانون اور عالمی نظام کی بنیاد ہیں اور ان پر ہر صورت عمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے پڑوسی ممالک کی فضائی حدود میں مسلح ڈرونز کی مبینہ دراندازی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی معصوم شہریوں کی ہلاکتوں پر پاکستان کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار بھی کیا۔

    جدید جنگی ٹیکنالوجی اور انسانی قوانین کا چیلنج سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات کی نشاندہی کی کہ جدید جنگوں میں ریموٹ کنٹرول ڈرونز کے بڑھتے ہوئے اندھا دھند استعمال نے نئے انسانی اور قانونی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جن سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی انسانی قوانین پر مکمل عملدرآمد بے حد ضروری ہو چکا ہے۔ انہوں بھی اس بات پر سخت زور دیا کہ جنگی ٹیکنالوجی کے استعمال میں معصوم انسانی جانوں کے تحفظ کو ہمیشہ اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔

    جائز سلامتی مفادات کا تسلیم کیا جانا ناگزیر پاکستان کے مستقل مندوب نے یوکرین تنازع کے مستقل حل کے لیے تین بنیادی نکات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران کے خاتمے کے لیے تمام فریقین کے جائز سلامتی مفادات کو تسلیم کرنا، اقوامِ متحدہ کے منشور کے زریں اصولوں کی پاسداری کرنا اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں امریکہ کی سہولت کاری میں جاری مذاکراتی عمل کو تنازع کے حل کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے اس کی جلد اور غیر مشروط بحالی پر زور دیا۔

    انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ محض عسکری ذرائع یا جنگی طاقت کسی بھی خطے میں کبھی پائیدار امن قائم نہیں کر سکتے، جبکہ بامعنی، سنجیدہ اور مسلسل مذاکرات ہی خطے میں دیرپا امن کی واحد ضمانت فراہم کر سکتے ہیں۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے فوراً اور مکمل جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین سے پرخلوص اپیل کی کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑ کر خلوصِ نیت کے ساتھ امن کے راستے کی طرف واپس آئیں۔