

کاشف عباسی , August 01,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء
پاک فوج کی عوام کے لیے کی جانے والی بے لوث خدمات سے تاریخ بھری پڑی ہے، چاہے جنگ کی صورتحال ہو یا ناگہانی آفت، مسلح افواج نے قوم کو کبھی مایوس کیا اور نہ ہی تنہا چھوڑا ہے۔ عوامی خدمت کی ایسی ہی لازوال اور بے لوث مثال 2022ء کی تباہ کن سیلابی صورتحال کے دوران قائم کی گئی تھی۔
آج یکم اگست 2026ء کو کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی شہید اور ان کے ساتھیوں کی چوتھی برسی منائی جا رہی ہے۔ یکم اگست 2022ء کو لسبیلہ میں سیلاب متاثرین کی امدادی سرگرمیوں کا خود جائزہ لینے کے لیے ریسکیو مشن کی قیادت کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا تھا، جس میں انہوں نے اپنے دیگر 5 رفقائے کار کے ساتھ جامِ شہادت نوش کیا۔
اس المناک حادثے میں بریگیڈیئر امجد حنیف (جو حادثے سے کچھ عرصہ قبل ہی میجر جنرل کے عہدے پر ترقی پا چکے تھے)، بریگیڈیئر محمد خالد، پائلٹ میجر سعید احمد، میجر محمد طلحہ اور نائیک مدثر فیاض بھی ملک و قوم کی خدمت کرتے ہوئے شہید ہو گئے تھے۔ اس دردناک حادثے نے پوری قوم کی آنکھیں اشکبار کر دی تھیں اور ملک کی فضا کئی روز تک شدید سوگوار رہی۔
کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی شہید ایک انتہائی پیشہ ور، باصلاحیت اور نڈر آفیسر تھے جنہوں نے پاک فوج میں اہم ترین عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ انہیں نومبر 2020ء میں تھری سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی جبکہ دسمبر 2020ء میں انہیں کور کمانڈر کوئٹہ تعینات کیا گیا تھا۔ پاک فوج ہر مشکل گھڑی میں اپنے ہم وطنوں کی مدد اور ملک و قوم کے دفاع کے لیے ہمیشہ تپش و قربانی کے جذبے سے شارشار رہی ہے اور آئندہ بھی کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔