”جب آپ بہت زیادہ امیر ہوں تو پھر لمبی باتیں بھی کر سکتے ہیں“، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید سے انتہائی دلچسپ اور طنزیہ مکالمہ، جی سیون سمٹ کے دوران دونوں رہنماؤں کی ملاقات کی اندرونی کہانی میڈیا پر وائرل، وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ کا ایران کے خلاف امریکی بحریہ کے تاریخی محاصرے کی کامیابی کا دعویٰ، آبنائے ہرمز جمعے تک عالمی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھول دی جائے گی، ابراہام اکارڈز کی توسیع کی راہ ہموار

President Trump Makes First Middle East Trip Of His Second Term

کاشف عباسی ,june 16,2026

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

عالمی سیاست کے افق سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور دلچسپ سفارتی خبر سامنے آئی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون سمٹ کے مصروف ترین موقع پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے ساتھ ایک اہم دوطرفہ ملاقات کے دوران اپنے مخصوص اور روایتی طنزیہ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جب آپ بہت زیادہ امیر ہوں تو پھر آپ لمبی لمبی باتیں بھی کر سکتے ہیں‘‘، واشنگٹن کے سفارتی ذرائع سے حاصل ہونے والی اندرونی کہانی کے مطابق اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے اماراتی صدر کو مخاطب کیا اور چٹکلا چھوڑا کہ جب کوئی شخص یا ریاست اتنی زیادہ دولت مند اور امیر ہو تو وہ طویل گفتگو کرنے کا بھی باآسانی متحمل ہو سکتا ہے، صدر ٹرمپ کے اس برجستہ جملے پر کمرے میں موجود دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام اور سفارتکاروں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر گئی اور محفل کا ماحول انتہائی خوشگوار اور دوستانہ ہو گیا۔

اس اہم ترین ملاقات کے فوراً بعد امریکی دارالحکومت واشنگٹن پہنچنے پر وائٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے ایک کڑک اور تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے امریکی خارجہ پالیسی کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے کہا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کا سب سے پہلا اور بنیادی مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کو کسی بھی قیمت پر جوہری ہتھیار (ایٹم بم) حاصل کرنے سے روکنا تھا اور ہم نے اپنی سخت ترین حکمتِ عملی کی بدولت اس مقصد میں تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے، امریکی صدر نے عالمی میڈیا کے سامنے ایک بہت بڑا دعویٰ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی سب سے اہم ترین سمندری گزرگاہ ”آبنائے ہرمز“ کو رواں ہفتے جمعے کے دن تک بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر دوبارہ کھول دیا جائے گا کیونکہ ایران اب امریکی دباؤ کے بعد عالمی برادری کے ساتھ اپنے معمول کے سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کرنے کا شدید خواہاں ہے، صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت خود مجبور ہو کر مذاکرات کی میز کی طرف آئی ہے تاکہ دنیا میں اپنے خلاف قائم سخت تاثر کو بدل کر ایک پرامن ریاست کے طور پر اپنی حیثیت کو دوبارہ مستحکم کر سکے، انہوں نے خلیج عمان اور بحیرہ عرب میں ایرانی بحری ناکہ بندی کرنے پر امریکی بحریہ کی جارحانہ اور کامیاب کارروائیوں کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ ایران کا عسکری محاصرہ سو فیصد کامیاب رہا اور اس شاندار کامیابی پر امریکی بحریہ کے تمام کمانڈرز اور جوان پوری دنیا کی جانب سے مبارکباد کے مستحق ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی نقشے پر بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایران ماضی کے دوران عرب ممالک اور اسرائیل کے مابین ہونے والے تاریخی ”ابراہام اکارڈز“ کی توسیع اور امن عمل میں سب سے بڑی اور خطرناک رکاوٹ بنا ہوا تھا، تاہم اب اس تاریخی محاصرے اور نئی ڈیل کے بعد یہ قوی توقع پیدا ہو گئی ہے کہ خطے کے مزید اہم اسلامی اور عرب ممالک بھی بہت جلد اس امن اور سفارتی معاہداتی عمل کا باقاعدہ حصہ بنیں گے، صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی اس نئی اور مجوزہ مفاہمتی یادداشت کی تمام تر باریک اور حساس تفصیلات بہت جلد پوری دنیا اور امریکی عوام کے سامنے پبلک کر دی جائیں گی، انہوں نے ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس سلسلے میں ایک خصوصی اور بڑی لائیو پریس کانفرنس کا انعقاد کرنے جا رہے ہیں جس میں وہ ایران کے ساتھ ہونے والے اس نئے تاریخی معاہدے کو میڈیا کے سامنے ”لفظ بہ لفظ“ خود پڑھ کر سنائیں گے تاکہ عالمی میڈیا، امریکی کانگریس اور عوام اس کے مندرجات اور کڑی شرائط کو بالکل درست اور واضح انداز میں سمجھ سکیں اور کسی قسم کا کوئی ابہام باقی نہ رہے، اس موقع پر سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ کیے جانے والے پرانے جوہری معاہدے پر شدید ترین تنقید کے تیر چلاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اوباما کا وہ ناقص معاہدہ پورے خطے اور عالمی سلامتی کے لیے انتہائی نقصان دہ اور تباہ کن ثابت ہو سکتا تھا کیونکہ اس میں ایران کو چھوٹ دی گئی تھی، جبکہ اس کے برعکس میرا موجودہ معاہدہ ایران کے لیے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی تمام تر چوراہوں اور راہوں کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کے خلاف دنیا کی ایک سب سے مضبوط اور ناقابلِ تسخیر عسکری و سفارتی رکاوٹ ثابت ہو گا، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ ان کڑے مذاکرات کا دوسرا اہم مرحلہ بھی جلد ہی کامیابی سے مکمل ہو جائے گا جس کے بعد پورے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن، پائیدار سلامتی اور تجارتی استحکام کے نئے اور روشن امکانات پیدا ہوں گے۔