صدر مملکت آصف علی زرداری نے چین میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور حالیہ شدید بارشوں کے باعث ہونے والے قیمتی جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔ بدھ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر جاری کردہ اپنے ایک مقتدر بیانیے میں صدر مملکت نے کہا کہ چین میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور شدید بارشوں سے ہمارے عظیم چینی بھائیوں اور بہنوں کو پہنچنے والے نقصان پر انہیں دلی طور پر گہرا دکھ پہنچا ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس قدرتی آفت کے نتیجے میں اپنے پیاروں کو کھونے والے تمام چینی خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور اس انتہائی مشکل وقت میں چین کی حکومت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی جانب سے مکمل اور غیر مشروط یکجہتی کا اعادہ کیا۔ صدر مملکت نے دونوں ممالک کے مابین تزویراتی تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے مقتدر الفاظ میں کہا کہ پاکستان اور چین کی یہ لازوال اور آہنی دوستی ہر امتحان کی گھڑی میں ہمیشہ مضبوط، پائیدار اور قائم رہے گی۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ایک مقتدر تزویراتی اقدام کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ترمیمی آرڈیننس 2026 پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ ملک بھر میں فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے منگل کے روز جاری کردہ ایک اعلیٰ سطحی سرکاری بیان کے مطابق، صدرِ مملکت نے وزیراعظم پاکستان کے مقتدر مشورے اور سمری پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2002 کی بنیادی دفعات 2 اور 3 میں ترامیم سے متعلق نئے آرڈیننس کی باضابطہ منظوری دیتے ہوئے اسے جاری کرنے کے احکامات صادر کیے۔
اس نئے ترمیمی آرڈیننس کا بنیادی مقصد اوگرا کے انتظامی ڈھانچے، دائرہ اختیار اور ریگولیٹری امور کو موجودہ معاشی و تزویراتی تقاضوں کے مطابق زیادہ فعال اور مؤثر بنانا ہے۔ وزارتِ پٹرولیم اور متعلقہ حکام کے مطابق، دفعات دو اور تین میں کی جانے والی ان مقتدر ترامیم سے ملک میں تیل و گیس کے شعبے کی نگرانی، لائسنسنگ کے عمل اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اتھارٹی کے قانونی اختیارات کو مزید تقویت ملے گی۔ ایوانِ صدر کے مطابق آرڈیننس پر صدرِ مملکت کے دستخط کے بعد وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے اس کا باقاعدہ گزٹ نوٹیفکیشن بھی جلد جاری کر دیا جائے گا۔
اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے یومِ عاشور کے مقتدر اور تاریخی موقع پر امتِ مسلمہ اور پاکستانی قوم کے نام اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ عاشورہ کا دن اسلامی تاریخ کا ایک عظیم، جرات مندانہ اور انتہائی بامعنی دن ہے، جو ہمیں صبر، استقامت، ایثار، حق گوئی اور اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا ابدی درس دیتا ہے۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری کردہ مقتدر پیغام کے مطابق، صدرِ مملکت نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ دن کئی اہم تاریخی واقعات کی یاد تازہ کرتا ہے، تاہم تاریخِ اسلام میں اس کی سب سے نمایاں اور مقتدر نسبت نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اہل بیتِ اطہار اور ان کے رفقائے وفا کی اس لازوال قربانی سے ہے جو 61 ہجری میں میدانِ کربلا میں پیش آئی۔
صدر آصف علی زرداری نے واقعہ کربلا کے تزویراتی اور نظریاتی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معرکہ کربلا محض کوئی روایتی تاریخی سانحہ نہیں بلکہ انسانیت کے لیے ایک دائمی پیغام اور ایک زندہ درسگاہ ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مقتدر عمل سے امتِ مسلمہ کو یہ ابدی تعلیم دی کہ حق، عدل، دیانت اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے اپنے پورے خاندان سمیت ہر قسم کی قربانی تو دی جا سکتی ہے لیکن باطل، ظلم، جابرانہ ملوکیت اور ناانصافی کے سامنے کبھی سر تسلیم خم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سید الشہداء کی اس بے مثال جدوجہد کا اصل مقصد امت کی اصلاح اور دینِ محمدی ﷺ کی حقیقی و اخلاقی اقدار کا تحفظ کرنا تھا۔
صدرِ مملکت نے قوم پر زور دیا کہ آج ہمیں بطور قوم یہ مقتدر عہد کرنا چاہیے کہ ہم حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اسوۂ حسنہ اور سیرت سے حق پسندی، اخلاقی جرأت، صبر و تحمل، اعلیٰ ترین ایثار اور خدمتِ خلق کے اوصاف کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کا لازمی حصہ بنائیں۔ انہوں نے تمام پاکستانیوں سے پرزور مقتدر اپیل کی کہ وہ عاشورہ کے ان مقدس ایام میں ملک بھر میں امن، رواداری، بین المسالک احترام اور بھائی چارے کی فضاء کو ہر ممکن فروغ دیں، کسی بھی قسم کی افواہوں اور اشتعال انگیز رویوں سے مکمل اجتناب برتیں اور قومی وحدت و یکجہتی کے استحکام کے لیے اپنا مثبت اور فعال کردار ادا کریں۔ اپنے پیغام کے اختتام پر صدرِ مملکت نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں واقعہ کربلا کے حقیقی و تزویراتی پیغام کو سمجھنے، اس سے رہنمائی حاصل کرنے اور اپنی زندگیوں کو حق، عدل، صبر اور تقویٰ کے اصولوں کے مطابق استوار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے منشیات کے استعمال اور اس کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے مقتدر موقع پر دنیا بھر اور بالخصوص پاکستان میں منشیات کے پھیلتے ہوئے جدید اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ منشیات کے خطرات کی بدلتی نوعیت کے پیشِ نظر اب ریاست اور معاشرے کے ردِعمل اور تزویراتی حکمتِ عملی کو بھی تبدیل ہونا پڑے گا۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری کردہ مقتدر پیغام میں صدرِ مملکت نے کہا کہ روایتی منشیات کے ساتھ ساتھ اب مارکیٹ میں انتہائی خطرناک مصنوعی منشیات کی نئی اقسام سامنے آ چکی ہیں، جو ہماری نوجوان نسل کے لیے ایک بڑا اور سنجیدہ عالمی مسئلہ بن چکی ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے جرائم پیشہ عناصر کے جدید طریقوں کو بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بین الاقوامی اسمگلرز اور مقامی ڈیلرز جدید مواصلاتی ٹیکنالوجیز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو منشیات کی تشہیر، ترویج اور اسے ایک معمول کی بات بنا کر پیش کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ ان غیر قانونی سرگرمیوں کی مالی معاونت اب روایتی مالیاتی نظام سے ہٹ کر کرپٹو کرنسیوں اور پوشیدہ ڈیجیٹل ادائیگی کے ذرائع سے کی جا رہی ہے، جس کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔ صدرِ مملکت نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے منشیات کے استعمال کو فیشن، جدیدیت، مرتبے یا بے ضرر تفریح کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ تصورات نہایت خطرناک اور گمراہ کن ہیں کیونکہ انسانی صلاحیتوں کی تباہی میں کوئی ترقی پسندی نہیں ہو سکتی۔
صدرِ مملکت نے مسئلہ کے انسانی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ منشیات کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے پورا خاندان، برادریاں اور تعلیمی نظام متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ اسمگلنگ اور تقسیم کاروں کے خلاف مقتدر قانونی کارروائی ناگزیر ہے، لیکن صرف قانون نافذ کرنے کے اقدامات اس ناسور کا مکمل حل نہیں ہیں؛ ہمیں انسداد، تعلیم، عوامی آگاہی اور بحالی کے اقدامات کو بیک وقت مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے اس سال کے عالمی موضوع کا حوالہ دیتے ہوئے اپیل کی کہ پارلیمان، انتظامیہ، علمائے کرام، میڈیا، کمیونٹی رہنما اور والدین مل کر ایسا سماجی و ثقافتی ماحول تشکیل دیں جو نوجوانوں کو مثبت مواقع کی طرف راغب کرے۔ اپنے پیغام کے اختتام پر صدر آصف علی زرداری نے اس جنگ میں صفِ اول میں خدمات انجام دینے والے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مقتدر اہلکاروں، طبی ماہرین، اساتذہ اور سول سوسائٹی کے اراکین کی فرض شناسی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔