حق و صداقت کا ابدی معیار: واقعہ کربلا اصلاحِ امت، احیائے سنتِ نبوی ﷺ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے عظیم مقصد کے لیے قربانی کا نام ہے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے یومِ عاشور (10 محرم الحرام) کے مقتدر اور فکر انگیز موقع پر امتِ مسلمہ اور پاکستانی قوم کے نام اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ معرکہ کربلا دراصل اصلاحِ امت، احیائے سنتِ نبوی ﷺ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے عظیم و آفاقی مقصد کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کا نام ہے۔ وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، انہوں نے واضح کیا کہ نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے جانثار رفقاء کی یہ عظیم قربانی نوعِ انسانی کو ایمان، صبر و استقامت، ایثار، حق پسندی اور اصلاحِ معاشرہ کے بے مثال اسباق سے روشناس کراتی ہے، جو ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں عدل و انصاف، صبر و برداشت اور ذمہ داری کے اوصاف کو ہر ممکن فروغ دیں۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے مقتدر پیغام میں تاریخی و اخلاقی حقائق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اصولوں اور مقتدر اقدار کی پاسداری ہی کسی بھی باوقار اور مہذب معاشرے کی مضبوط بنیاد ہوتی ہے۔ سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بے مثل طرزِ عمل سے کائنات کے سامنے یہ ثابت کر دیا کہ حق و صداقت، عدل و انصاف اور انسانی عظمت کے تحفظ کے لیے میدانِ جنگ میں کٹ جانا درحقیقت ظلم و جبر، ناانصافی اور باطل کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے کہیں زیادہ افضل اور اعلیٰ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ دور میں اختلافات، نفرت اور انتشار کے فرسودہ رویوں کے بجائے باہمی احترام، بین المسالک رواداری اور یکجہتی جیسی مقتدر اقدار کی مضبوطی ہی ہمارا اولین قومی پیشِ نظر ہونا چاہیے۔

اپنے مقتدر خطاب میں وزیرِ اعظم نے ملک بھر کے جید علماء کرام، مشائخ عظام، ذاکرین، ذرائع ابلاغ (میڈیا) اور نوجوان نسل سے پرزور اپیل کی کہ وہ یومِ عاشور کے حقیقی اور تزویراتی پیغام کو علمی بنیادوں پر اجاگر کریں، معاشرے میں بین المسالک احترام و ہم آہنگی کی فضاء کو برقرار رکھیں اور ہر قسم کی اشتعال انگیزی اور نفرت آمیز بیانیے کا سدِباب کریں۔ انہوں نے قوم کو عہد کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آئیے آج یہ پختہ عزم کریں کہ شہدائے کربلا کی مقتدر قربانی کی روشنی میں حق و انصاف کے ساتھ اپنی وابستگی کو مزید مضبوط کریں گے، معاشرے کے کمزور و محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے اور اپنے کردار و عمل سے ایک مضبوط، متحد اور پرامن قوم کی تعمیر میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ وزیرِ اعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ دنیا بھر میں امن و استحکام اور پوری امتِ مسلمہ کو اتحاد، اتفاق اور خیر و برکت سے نوازے۔

حق و باطل کا تزویراتی معرکہ: یومِ عاشور ہمیں صبر، استقامت، ایثار، حق گوئی اور اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتا ہے، واقعہ کربلا ایک زندہ درسگاہ ہے، صدر مملکت آصف علی زرداری

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے یومِ عاشور کے مقتدر اور تاریخی موقع پر امتِ مسلمہ اور پاکستانی قوم کے نام اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ عاشورہ کا دن اسلامی تاریخ کا ایک عظیم، جرات مندانہ اور انتہائی بامعنی دن ہے، جو ہمیں صبر، استقامت، ایثار، حق گوئی اور اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا ابدی درس دیتا ہے۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری کردہ مقتدر پیغام کے مطابق، صدرِ مملکت نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ دن کئی اہم تاریخی واقعات کی یاد تازہ کرتا ہے، تاہم تاریخِ اسلام میں اس کی سب سے نمایاں اور مقتدر نسبت نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اہل بیتِ اطہار اور ان کے رفقائے وفا کی اس لازوال قربانی سے ہے جو 61 ہجری میں میدانِ کربلا میں پیش آئی۔

صدر آصف علی زرداری نے واقعہ کربلا کے تزویراتی اور نظریاتی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معرکہ کربلا محض کوئی روایتی تاریخی سانحہ نہیں بلکہ انسانیت کے لیے ایک دائمی پیغام اور ایک زندہ درسگاہ ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مقتدر عمل سے امتِ مسلمہ کو یہ ابدی تعلیم دی کہ حق، عدل، دیانت اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے اپنے پورے خاندان سمیت ہر قسم کی قربانی تو دی جا سکتی ہے لیکن باطل، ظلم، جابرانہ ملوکیت اور ناانصافی کے سامنے کبھی سر تسلیم خم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سید الشہداء کی اس بے مثال جدوجہد کا اصل مقصد امت کی اصلاح اور دینِ محمدی ﷺ کی حقیقی و اخلاقی اقدار کا تحفظ کرنا تھا۔

صدرِ مملکت نے قوم پر زور دیا کہ آج ہمیں بطور قوم یہ مقتدر عہد کرنا چاہیے کہ ہم حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اسوۂ حسنہ اور سیرت سے حق پسندی، اخلاقی جرأت، صبر و تحمل، اعلیٰ ترین ایثار اور خدمتِ خلق کے اوصاف کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کا لازمی حصہ بنائیں۔ انہوں نے تمام پاکستانیوں سے پرزور مقتدر اپیل کی کہ وہ عاشورہ کے ان مقدس ایام میں ملک بھر میں امن، رواداری، بین المسالک احترام اور بھائی چارے کی فضاء کو ہر ممکن فروغ دیں، کسی بھی قسم کی افواہوں اور اشتعال انگیز رویوں سے مکمل اجتناب برتیں اور قومی وحدت و یکجہتی کے استحکام کے لیے اپنا مثبت اور فعال کردار ادا کریں۔ اپنے پیغام کے اختتام پر صدرِ مملکت نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں واقعہ کربلا کے حقیقی و تزویراتی پیغام کو سمجھنے، اس سے رہنمائی حاصل کرنے اور اپنی زندگیوں کو حق، عدل، صبر اور تقویٰ کے اصولوں کے مطابق استوار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔