عمران خان سے ملاقات کروائیں، پھر بجٹ پاس کروائیں؛ علیمہ خان کا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بڑا مشورہ

کاشف عباسی ,june 02,2026

راولپنڈی / پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 02 جون 2026ء

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے صوبائی بجٹ کی منظوری کے معاملے پر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ایک اہم اور دوٹوک مشورہ دے دیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگر حکومت بجٹ کی پرامن اور باقاعدہ منظوری چاہتی ہے، تو اس کے لیے سب سے پہلے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مقتدر حلقوں اور پارٹی قیادت کی ملاقات کی اجازت دی جائے۔

ملاقاتوں پر پابندی اور پارٹی ورکرز کے تحفظات راولپنڈی میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان گزشتہ کئی ماہ سے جیل میں سخت ترین قید کا سامنا کر رہے ہیں اور اس دوران ان سے ملاقاتوں پر عائد کی جانے والی غیر قانونی پابندیوں کے حوالے سے عوام اور پارٹی کے اندر متعدد سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے تمام مرکزی رہنماؤں اور لاکھوں مخلص کارکنوں کی یہ شدید ترین خواہش ہے کہ عمران خان سے ملاقاتوں کا سلسلہ فوری طور پر بحال کیا جائے۔

حکومتی افواہیں اور خفیہ ڈیل کے دعووں کی حقیقت انہوں نے ایک بار پھر میڈیا کے سامنے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے مختلف سیاسی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں، تاہم حقیقت میں پسِ پردہ کسی بھی قسم کی کوئی سیاسی ڈیل، این آر او یا مفاہمت نہیں ہو رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی حکمرانوں کو عوامی ردعمل اور اپنے خلاف سیاسی دباؤ میں شدید اضافہ محسوس ہوتا ہے تو وہ اس طرح کی قیاس آرائیاں سامنے لے آتے ہیں۔

عمران خان کی صحت پر شدید خدشات اور طبی معائنے کا مطالبہ علیمہ خان نے سابق وزیراعظم کی جیل میں صحت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی صحت اور ان کے باقاعدہ طبی معائنے کے حوالے سے فیملی اور وکلا کو شدید اور سنجیدہ خدشات لاحق ہیں۔ انہوں نے جیل انتظامیہ اور عدالتوں سے پرزور مطالبہ کیا کہ انہیں ملک کے مستند اور ماہر ڈاکٹروں کے ذریعے فوری طور پر مکمل طبی معائنہ کروانے کی قانونی سہولت فراہم کی جائے تاکہ ان کی صحت کے بارے میں پائے جانے والے تمام شکوک و شبہات دور ہو سکیں۔

تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو میدان میں آنے کی پکار انہوں نے پارٹی کی اعلیٰ سطح کی قیادت سے مخلصانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تمام منتخب نمائندے، سینیٹرز، اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی اور تمام سینئر رہنما اس کڑے وقت میں مثالی یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور اپنے کارکنوں کے ساتھ ہراول دستہ بن کر کھڑے ہوں۔ علیمہ خان کے مطابق، اگر پارٹی کی مرکزی سیاسی قیادت خود جیلوں اور سڑکوں پر میدان میں آئے گی، تو اس سے نچلی سطح پر موجود ورکرز کا اعتماد اور حوصلہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو جائے گا۔

جمہوری عمل کا احترام اور سیاسی استحکام کی ضرورت علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عوام کے ڈالے گئے قیمتی ووٹ اور مجموعی جمہوری عمل کا غیر مشروط احترام ملکی بقا کے لیے انتہائی ضروری ہے، اور ملک کے تمام موجودہ سیاسی معاملات کا واحد حل صرف آئین، قانون اور مروجہ جمہوری اصولوں کے مطابق ہی نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر سخت زور دیا کہ پاکستان میں حقیقی سیاسی استحکام اور جمہوری عمل کی مضبوطی کے لیے اب تمام فریقین کو اپنا اپنا ذمہ دارانہ اور آئینی کردار ادا کرنا ہو گا۔

انہوں نے اپنی گفتگو کے آخر میں ایک بار پھر مقتدر حلقوں سے مطالبہ کیا کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد غیر قانونی پابندیوں اور ان کے بنیادی قانونی و طبی حقوق کی پامالی کا فوری طور پر جائزہ لیا جائے، اور جیل میں بند سابق وزیراعظم سے متعلق تمام زیرِ التوا معاملات کو ملکی قانون کے مطابق فی الفور حل کیا جائے۔

عمران خان کئی ماہ سے قیدِ تنہائی میں ہیں، کسی قسم کی کوئی ‘ڈیل’ نہیں ہو رہی: علیمہ خان کا راولپنڈی میں بڑا دعویٰ

کاشف عباسی ,june 02,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جون 2026ء

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے مروجہ سیاسی افواہوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم کو گزشتہ کئی ماہ سے جیل میں سخت قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے حوالے سے میڈیا اور سیاسی حلقوں میں گردش کرنے والی خفیہ ‘ڈیل’ کی تمام خبریں اور دعوے بالکل بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔

حکومتی دباؤ اور ڈیل کی افواہوں کا حقیقت سے موازنہ راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ جب بھی موجودہ حکومت کو عوامی ردعمل اور اپوزیشن کا سیاسی دباؤ بڑھتا ہوا محسوس ہوتا ہے، تو وہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے مختلف افواہیں اور ڈیل سے متعلق جھوٹی خبریں مارکیٹ میں لے آتی ہے، تاہم حقیقت میں پسِ پردہ ایسی کوئی بات نہیں ہو رہی۔

فیملی کی طرف سے کسی سیاسی ریلیف یا رعایت کا مطالبہ نہیں انہوں نے میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو ان سے سوالات کرنے کے بجائے مقتدر اور متعلقہ حکام سے یہ پوچھنا چاہیے کہ عمران خان کو اتنے طویل عرصے سے قیدِ تنہائی میں کیوں بند رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے خاندان کی جانب سے حکومت یا مقتدر حلقوں سے کسی بھی قسم کے سیاسی ریلیف، این آر او یا رعایت کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا، بلکہ فیملی صرف اور صرف ان کے بنیادی قانونی، آئینی اور انسانی حقوق کی فوری فراہمی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

عمران خان پر ذہنی دباؤ اور آنکھوں کے علاج کا ہنگامی مطالبہ علیمہ خان نے انتظامیہ پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو کئی ماہ سے مسلسل شدید ذہنی اور جسمانی دباؤ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ اور متعلقہ اداروں سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مطالبہ کیا کہ عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور ان کے مکمل تفصیلی طبی معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر جیل سے کسی مستند اور بڑے طبی ادارے (ہسپتال) میں منتقل کیا جائے، تاکہ ملک کے ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا باقاعدہ معائنہ اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔

ملاقاتوں کی تردید اور پارٹی قیادت کا دوٹوک موقف انہوں نے بعض مخصوص سیاسی شخصیات کی جانب سے پھیلائی جانے والی افواہوں کی سخت تردید کرتے ہوئے کہا کہ مقتدر حلقوں اور عمران خان کے درمیان حالیہ دنوں میں کسی بھی ملاقات سے متعلق گردش کرنے والی خبریں سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔ ان کے بقول، تحریک انصاف کی مرکزی قیادت بھی ان تمام خبروں کو سرکاری طور پر مسترد کر چکی ہے اور ڈیل سے متعلق کیے جانے والے تمام دعوے عوام کو گمراہ کرنے کی ایک ناکام کوشش ہیں۔

عوامی ووٹ کا احترام اور گلگت بلتستان کا تذکرہ علیمہ خان نے اپنے بیان میں ملکی سیاست پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے ڈالے گئے ووٹ کا غیر مشروط احترام ہی کسی بھی حقیقی جمہوری نظام کی اصل بنیاد ہوتا ہے۔ اگر عوام کو ایک بار یہ احساس دلا دیا جائے کہ ان کے ووٹ کی کوئی قانونی اہمیت یا حیثیت ختم ہو گئی ہے، تو اس کے ملک پر انتہائی ہولناک اور منفی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے ملک کے بالائی خطے گلگت بلتستان کے موجودہ سیاسی ماحول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی شفاف اور آزادانہ سیاسی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے ایک سازگار اور پرامن ماحول فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں سے یکجہتی کی اپیل انہوں نے تحریک انصاف کے تمام منتخب رہنماؤں، اراکینِ اسمبلی اور سینیٹرز سے پرزور اپیل کی کہ وہ اس مشکل وقت میں اپنے لاکھوں مخلص کارکنوں اور بانی عمران خان کے اصولی مؤقف کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہوں اور ملکی سیاست میں اپنا فعال اور انقلابی کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے تمام منتخب نمائندوں اور اعلیٰ قیادت کو ہر حال میں ورکرز کی توقعات پر پورا اترنا ہو گا۔

علیمہ خان نے پریس کانفرنس کے آخر میں اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے بھائی عمران خان کے قانونی، آئینی، طبی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہیں گی اور اس کڑے وقت میں اپنی یہ قانونی و سیاسی جدوجہد آخری حد تک جاری رکھیں گی۔