مسجد اقصی کی حیثیت تبدیل کرنے کی اسرائیلی سازش بے نقاب، غیر قانونی بستیوں کی توسیع پر فلسطین کی شدید مذمت

روزینہ اسماعیل.june 18,2026

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

فلسطینی وزارتِ خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں اسرائیلی غیر قانونی بستیوں کی جاری وحشیانہ توسیع کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی خطرناک اور کھلی اشتعال انگیزی قرار دیا ہے، مقبوضہ بیت المقدس سے حاصل ہونے والی بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اپنے ہنگامی گراں قدر بیان میں واضح کیا ہے کہ غاصب اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی صیہونی آبادکاری کے لیے ۵۷۶ رہائشی یونٹس اور الخلیل (ہیبرون) کے وسط میں ایک انتہا پسند مڈل اسکول (مذہبی مدرسے) کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ غیر قانونی منظوری اسرائیل کی ہائر پلاننگ کونسل نے دی ہے جبکہ بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تحت اسرائیلی آبادکار بستیاں سراسر غیر قانونی اور کالعدم تصور کی جاتی ہیں، فلسطینی وزارتِ خارجہ نے عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ معصوم فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والے اسرائیل پر فوری طور پر تمام آبادکاری سرگرمیاں روکنے کے لیے کڑا سفارتی و اقتصادی دباؤ ڈالے اور ان جابرانہ اقدامات کو فی الفور کالعدم قرار دے، دوسری جانب اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماؤں پر سنگین الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکہ کے بعض کٹر صیہونی حلقوں کے تعاون سے مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصی کی تاریخی اور قانونی حیثیت (اسٹیٹس کو) کو مستقل طور پر تبدیل کرنے کی ایک انتہائی گھناؤنی سٹریٹجک سازش پر کام کر رہے ہیں۔

عالمی مبصرین کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل میں بعض بااثر انتہا پسند حلقے مسجد اقصی کے پاک احاطے کو باضابطہ طور پر کثیر المذاہب عبادت گاہ قرار دینے کی خطرناک تجویز پر عمل پیرا ہیں، ناقدین اور مسلم اسکالرز کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی بھی جابرانہ اقدام صدیوں پرانے اس طے شدہ عالمی انتظام کے خلاف سنگین بغاوت ہو گا جس کے تحت مسجد اقصی کا تمام تر انتظام و انصرام برادر اسلامی ملک اردن کی زیر نگرانی قائم اسلامی وقف کونسل کے پاس ہے اور موجودہ بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا صرف دورہ کر سکتے ہیں لیکن انہیں وہاں کسی بھی قسم کی مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہے، رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے بعض انتہا پسند سیاست دان مسجد اقصی میں یہودی عبادات کو وسیع پیمانے پر زبردستی متعارف کرانے کے کھلے حامی بن چکے ہیں اور اسی سلسلے میں اسرائیلی دائیں بازو کے کٹر رہنما موشے فیگلن نے حال ہی میں مسجد اقصی کے احاطے میں گھس کر اشتعال انگیز مذہبی نغمے گائے اور وہاں مسلمانوں کی مسجد کی جگہ نئی صیہونی عبادت گاہ تعمیر کرنے کے حق میں زہریلا بیان دیا ہے جبکہ اسرائیل کے متعصب وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر بھی متعدد بار پولیس فورس کے سائے میں مسجد اقصی پر دھاوا بول چکے ہیں جس کے خلاف فلسطینی عوام اور تمام عرب ممالک مسلسل شدید ترین احتجاج ریکارڈ کراتے رہے ہیں اور حالیہ وائرل ہونے والی لائیو ویڈیوز میں اتمار بن گویر کو مسجد اقصی میں اسرائیلی جھنڈا لہراتے اور مسجد پر اسرائیلی حقِ ملکیت کے غاصبانہ نعرے لگاتے ہوئے صاف دیکھا جا سکتا ہے۔

اگرچہ اس عالمی دباؤ پر اسرائیلی وزیراعظم کے مکار دفتر نے مسجد اقصی کی موجودہ حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کے دعووں کی روایتی تردید کی ہے تاہم فلسطینی قیادت، اردن اور دیگر علاقائی اسلامی ممالک نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، دریں اثنا اسلامی وقف کونسل کے نائب سربراہ ڈاکٹر مصطفی ابو سوئے نے دنیا کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصی کی موجودہ اسلامی حیثیت تبدیل کرنے کی کوئی بھی ناپاک کوشش پورے مشرقِ وسطیٰ اور خطے کے امن کو ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں جھونک سکتی ہے کیونکہ مسجد اقصی کے معاملے میں کوئی بھی صیہونی مداخلت کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کا باعث بنے گی، ادھر انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والی پیش رفت کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے دو معصوم فلسطینی دیہات میں نامعلوم انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں نے رات کی تاریکی میں مساجد کو باقاعدہ آگ لگا دی ہے، مقامی فلسطینی حکام کے مطابق رام اللہ کے قریب واقع گاؤں جِلجِلیہ میں مسجد کے وضو خانے اور دیگر حصوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا جبکہ مسجد کی دیواروں پر عبرانی زبان میں انتہائی اشتعال انگیز اور توہین آمیز نعرے بھی تحریر کیے گئے، عینی شاہدین کے مطابق اس لگی آگ سے اللہ کے گھر کی چھت، دیواریں اور قیمتی فرش بری طرح جھلس کر متاثر ہوئے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج نے روایتی سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ فوجی دستوں کے پہنچنے تک مشتبہ صیہونی افراد فرار ہو چکے تھے، یہ سنگین ترین پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صیہونی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور مسجد اقصی کا تحفظ ایک بار پھر پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔