

محمود احمد june 19,2026
میامی، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء
جاری فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026 کے دوران کھیل کے میدان سے باہر ایک نیا بڑا سفارتی اور انتظامی تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جہاں ایرانی فٹبال فیڈریشن نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ عالمی کپ کے دوران اپنی ٹیم پر عائد کی جانے والی مبینہ سفری پابندیوں اور ویزا و سفری رکاوٹوں کے خلاف فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی “فیفا” سے باضابطہ رجوع کر رہی ہے، بین الاقوامی اسپورٹس رپورٹس کے مطابق ایرانی فٹبال فیڈریشن نے امریکی انتظامیہ کے رویے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکہ میں عائد ان غیر لچکدار سفری پابندیوں کے باعث ایرانی نیشنل ٹیم کے کوچنگ اسٹاف کے سٹرٹیجک منصوبے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور عالمی کپ جیسے بڑے ایونٹ کی تیاریوں میں جان بوجھ کر غیر ضروری رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔
ایرانی فٹبال فیڈریشن کے مقتدر حکام نے تفصیلات سے مطلع کرتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ میکسیکو میں قائم ایرانی ٹیم کے بین الاقوامی تربیتی کیمپ سے اتوار کے روز ٹیم کو لاس اینجلس (امریکہ) روانگی کی باقاعدہ اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا گیا، جس کی وجہ سے نہ صرف کھلاڑیوں کا سفری شیڈول بری طرح پامال ہوا بلکہ ٹیم کے تمام انتظامی امور اور لاجسٹکس بھی شدید متاثر ہوئے ہیں، ایرانی فیڈریشن نے فیفا کے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کڑا مؤقف اختیار کیا ہے کہ فیفا ورلڈکپ جیسے عظیم اور عالمی یکجہتی کے ایونٹ میں شریک دنیا کی تمام پوزیشن ہولڈر ٹیموں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت مساوی سفری سہولیات، پروٹوکول اور آزادانہ نقل و حرکت فراہم کی جانی چاہیے اور کسی بھی میزبان ملک کو اس میں سیاست چمکانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، اس سنگین معاملے پر ایرانی وفد فیفا سے فوری، ہنگامی اور مؤثر مداخلت کی درخواست کرے گا۔
واضح رہے کہ تاریخ کے اس سب سے بڑے فیفا ورلڈکپ 2026 کی مشترکہ میزبانی امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا مل کر کر رہے ہیں، لیکن امریکہ اور ایران کے مابین دیرینہ سیاسی کھچاؤ اور حال ہی میں طے پانے والے نازک امن معاہدے کے نفاذ کے ابتدائی مراحل کے دوران اس اسپورٹس ویزا تنازع نے فٹبال ورلڈکپ کے پرامن انعقاد اور امریکی انتظامیہ کے اسپورٹس مین اسپرٹ کے دعووں پر ایک بڑا سیکیورٹی و انتظامی سوالیہ نشان لگا دیا ہے جس پر فیفا کا ردعمل آنا ابھی باقی ہے۔