فیفا کے تجارتی ماڈل پر بڑا حملہ: FIFPRO Europe نے FFE منصوبے پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے عالمی فٹ بال کی گورننس میں ہنگامی اصلاحات کا مطالبہ کر دیا

محمود احمد, September 14,2026

زیورخ (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

عالمی فٹ بال کی انتظامی باڈی ‘فیفا’ (FIFA) کے فیصلوں، تجارتی ماڈل اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر یورپ کی بڑی کھلاڑی یونین نے ایک بار پھر سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یورپی فٹ بال کھلاڑیوں کی بااثر نمائندہ تنظیم “ففپرو یورپ” (FIFPRO Europe) نے ایک جامع اور دھماکہ خیز مطالعاتی رپورٹ جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی فٹ بال کے گورننس سسٹمز کی فوری اور بنیادی اور ہنگامی سرجری کی جائے۔

ففپرو یورپ کی رپورٹ کے مطابق فیفا کا اب منسوخ یا ترک کیا جا چکا متنازعہ تجارتی منصوبہ “فارورڈ انٹرپرائز” (Forward Enterprise – FFE) اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی فٹ بال کا انتظامی اور معاشی ڈھانچہ کس حد تک غیر شفاف اور خامیوں سے پر ہے۔ تنظیم نے موقف اختیار کیا ہے کہ اگر اس منصوبے کو روکا نہ جاتا تو یہ کھیل کے تاریخی مقابلوں، تجارتی حقوق اور آمدنی کے وسائل کو نجی سرمایہ کاروں کے پاس گروی رکھنے یا مالیاتی اثاثوں (Financial Assets) میں تبدیل کرنے کی جانب ایک خطرناک قدم ثابت ہو سکتا تھا، جس میں کھلاڑیوں اور دیگر حقیقی اسٹیک ہولڈرز کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔

گورننس اور نجی سرمایہ کاری کا تنازع:

FIFPRO Europe کی جانب سے جاری کردہ اس تفصیلی مطالعے میں خاص طور پر اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ فیفا تجارتی مفادات کو کھیل کے بنیادی مفادات پر ترجیح دے رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی فٹ بال کے مالیاتی اور تجارتی فیصلوں کے لیے ایک ایسا مضبوط، شفاف اور آئینی نظام تشکیل دیا جانا ضروری ہے جس میں صرف بیوروکریٹس یا کاروباری شراکت دار شامل نہ ہوں، بلکہ میدان میں اترنے والے کھلاڑیوں، تمام قومی فٹ بال انجمنوں، یورپی لیگز اور کلبوں کو فیصلہ سازی میں باقاعدہ قانونی آواز میسر ہو۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ FFE منصوبے کے معاملے نے عالمی سطح پر اس اہم سوال کو جنم دیا ہے کہ فیفا کس طرح بند کمروں میں اربوں ڈالر کے مالیاتی منصوبے بناتا ہے اور ان میں ان کھلاڑیوں کی رائے شامل کیوں نہیں کی جاتی جن کی جسمانی محنت اور کارکردگی پر یہ پورا کھیل قائم ہے۔

میچوں کے بوجھ اور کھلاڑیوں کی صحت کا چیلنج:

یہ تنازع ایسے وقت میں ابھر کر سامنے آیا ہے جب عالمی فٹ بال میں میچوں کے شیڈول کی بے تحاشا توسع، نئے بین الاقوامی ٹورنامنٹس کے انعقاد اور تجارتی دباؤ کے باعث کھلاڑیوں پر شدید جسمانی و نفسیاتی بوجھ بڑھ چکا ہے۔ FIFPRO کے مطابق کھلاڑیوں کو ان تمام فیصلوں میں حتمی اور بااثر کردار ملنا چاہیے جو ان کے روزمرہ کام کے حالات، سالانہ میچز کے کیلنڈر، صحت کی دیکھ بھال، کیریئر کے تحفظ اور ان کے پیشہ ورانہ مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔

ففپرو یورپ نے حتمی طور پر فیفا کے انتظامی اور قانونی ڈھانچے میں ہمہ گیر اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ کسی بھی بڑے مالی یا ساخت جاتی منصوبے پر پیش رفت سے قبل تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ شفاف، بروقت اور باہم معنی مشاورت کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ کھیل کا پائیدار مستقبل محفوظ رہ سکے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ رپورٹ زیورخ میں FIFPRO Europe کے مرکزی ایڈیٹوریل ڈیسک کی جانب سے جاری کردہ مطالعاتی رپورٹ، فیفا گورننس ڈاکومنٹیشن، اور عالمی اسپورٹس رپورٹرز کے تجزیاتی مواد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے پالیسی فریم ورک کے مطابق مرتب کی گئی ہے۔

ماخذ: ففپرو یورپ (FIFPRO Europe) پریس ریلیز، فیفا گورننس رپورٹ ڈیسک، رائٹرز اسپورٹس۔

جیانی انفینٹینو کی خلاف مہم: فیفا کی صدر اور ادارے کو کمزور کرنے کی منظم کوششوں کی سخت مذمت

محمود احمد, August 09,2026

زیورخ (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے اپنے صدر جیانی انفینٹینو اور ادارے کی انتظامی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی منظم مہم اور الزامات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، فیفا کا یہ سخت موقف برطانوی اخبار ‘ڈیلی ٹیلی گراف’ کی اس خبر کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یوئیفا کے سابق جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے جیانی انفینٹینو کے دور میں ایک مبینہ دوست کو ادارے سے الگ ہوتے وقت رقم ادا کی گئی تھی۔ فیفا کے ترجمان نے ان تمام دعوؤں کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ محض قیاس آرائیوں اور الزام تراشی کو حقائق کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔

جیانی انفینٹینو کو ان دنوں ‘فیفا فارورڈ انٹرپرائز’ تجاویز کے بعد یوئیفا اور یورپین فٹبال ایسوسی ایشنز کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایک نئی کمپنی قائم کر کے اس کا 21 فیصد حصہ ایک پرائیویٹ انویسٹمنٹ فرم کو فروخت کیا جانا تھا۔ یورپی باڈیز کی مخالفت کے بعد یوئیفا نے جیانی انفینٹینو پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے جبکہ نارویجن فٹبال فیڈریشن کی صدر لیس کلیوینس نے ان سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

دوسری جانب فیفا نے اپنا واضح موقف اپنایا ہے کہ صدر جیانی انفینٹینو تمام 211 رکن ایسوسی ایشنز کے مکمل جمہوری مینڈیٹ سے منتخب ہوئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جو عناصر جمہوری عمل کے ذریعے کامیاب نہیں ہو سکے، وہ اب غلط معلومات اور بے بنیاد الزامات کا سہارا لے رہے ہیں۔

یورپی تنظیموں کی شدید مخالفت کے باوجود جیانی انفینٹینو کو افریقی فٹبال کنفیڈریشن کے تمام 54 ممالک، جنوبی امریکی کنفیڈریشن اور میکسیکن فٹبال فیڈریشن کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ فیفا نے اپنے باضابطہ بیان میں اعادہ کیا ہے کہ ادارہ آئینی و قانونی جانچ پڑتال کا خیرمقدم کرتا ہے لیکن حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے والی کسی بھی مہم کا پوری طاقت سے مقابلہ کیا جائے گا۔

فیفا کے تجارتی حصص پرائیویٹ انویسٹرز کو بیچنے کا متنازع منصوبہ: یورپی ممالک کا آنے والے ورلڈ کپ ٹورنامنٹس کے بائیکاٹ پر اتفاق

محمود احمد, JULY 31,2026

زیورخ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

بین الاقوامی فٹ بال کی گورننگ باڈی (فیفا) کی جانب سے اپنے عالمی کپ اور دیگر اہم ترین ٹورنامنٹس کے تجارتی حصص نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی تجویز کے ردِعمل میں بڑا عالمی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ یورپی ممالک نے اس منصوبے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے آنے والے فیفا عالمی کپ مقابلوں کا مکمل بائیکاٹ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تاریخی اور حتمی فیصلہ یورپی فٹ بال تنظیم کی 55 رکن ایسوسی ایشنز کے ایک ہنگامی آن لائن اجلاس کے دوران کیا گیا۔ واضح رہے کہ آنے والے بڑے مقابلوں میں اگلے سال برازیل میں منعقد ہونے والا خواتین کا عالمی کپ اور 2030ء میں اسپین، پرتگال اور مراکش میں طے شدہ مردوں کا عالمی کپ شامل ہیں، جن پر اب بائیکاٹ کے گہرے بادل منڈلانے لگے ہیں۔

تنازع اس وقت شروع ہوا جب فیفا نے ایک نئی قائم کردہ تجارتی کمپنی میں اپنے اقلیتی حصص بیچنے کے منصوبے کی باضابطہ تصدیق کی۔ اس منصوبے کے تحت فیفا کا مقصد اپنے بڑے مقابلوں بشمول عالمی کپ اور کلب عالمی کپ کے تجارتی امور کو اس نئی کمپنی کے ذریعے چلانا اور 21 فیصد حصص کی فروخت کے ذریعے 4.2 ارب امریکی ڈالر اکٹھا کرنا ہے تاکہ یہ رقم رکن تنظیموں کو دستیاب کی جا سکے۔ اگرچہ فیفا نے واضح کیا کہ گورننگ باڈی کی حیثیت اور اکثریت کے حصص اسی کے پاس رہیں گے، تاہم اس تجویز کو شدید ترین عالمی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یورپی فٹ بال تنظیم نے موقف اپنایا ہے کہ یہ قدم اس سرخ لکیر کو عبور کرنے کے مترادف ہے جسے کھیل کے منتظم اداروں کو کبھی پار نہیں کرنا چاہیے۔

دیگر عالمی تنظیموں نے بھی فیفا کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ شمالی و وسطی امریکہ کی فٹ بال تنظیم نے قانونی اور شفاف طریقہ کار کی عدم موجودگی پر تشویش جتائی ہے جبکہ ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن نے مناسب مشاورت کے بغیر معاملے کے عام ہونے پر مایوسی ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب افریقی فٹ بال کنفیڈریشن نے تجاویز کے مطالعے کی بات کی ہے۔ ان تمام تر اعتراضات کے باوجود فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے منصوبے کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے اسے جمہوری عمل اور تجارتی ترقی کا اگلا قدرتی قدم قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ یورپی ٹیمیں عالمی فٹ بال کی بڑی قوت ہیں، جنہوں نے 23 میں سے 13 عالمی کپ ٹائٹل جیتے ہیں جن میں حالیہ 19 جولائی 2026ء کو فائنل میں ارجنٹائن کو شکست دے کر چیمپئن بننے والی اسپین کی ٹیم بھی شامل ہے، جس کے بعد اس ممکنہ بائیکاٹ نے فیفا پر شدید معاشی و انتظامی دباؤ بڑھا دیا ہے۔