

محمود احمد, September 11,2026
نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کی عالمی تنظیم برکس کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی تجارت کے فروغ کے لیے قومی کرنسیوں کے استعمال کو زیادہ سے زیادہ وسعت دیں اور عالمی مالیاتی دباؤ سے بچنے کے لیے آزاد و موثر بین الاقوامی مالیاتی و ادائیگیاں کا نظام ہنگامی بنیادوں پر تشکیل دیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان برکس کے سالانہ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی پہنچے ہیں۔ برکس بزنس فورم کا اہم اور کثیر الجہتی اجلاس 11 ستمبر کو نئی دہلی میں منعقد ہو رہا ہے، جبکہ مرکزی برکس سربراہی اجلاس 12 اور 13 ستمبر کو منعقد ہوگا۔
برکس بزنس فورم کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ رکن ممالک کے درمیان تجارتی لین دین میں اپنی اپنی قومی کرنسیوں کے استعمال کو مستحکم کرنا دورِ حاضر کا اہم ترین اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ہدف کے حصول کے لیے باہمی ادائیگیوں کے ایسے جدید مالیاتی اور بینکنگ کے ذرائع تشکیل دینا ناگزیر ہیں جو رکن ممالک کے درمیان معاشی و تجارتی تعاون کو کسی بھی بیرونی دباؤ کے بغیر مضبوط بنا سکیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عالمی مالیاتی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی اقتصادی نظام محدود تعداد میں طاقتور کرنسیوں پر حد سے زیادہ انحصار کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ سیاسی دباؤ، تحکم اور یکطرفہ اقتصادی پابندیوں کے مقابلے میں شدید غیر محفوظ اور کمزور ثابت ہوتا ہے۔
مسعود پزشکیان نے اپنی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ برکس ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کو پائیدار اور حقیقی اقتصادی سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے تنظیم کے نیو ڈیولپمنٹ بینک کو مرکزی کردار ادا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ بینک تمام رکن ممالک میں بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) اور توانائی کے اہم منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرے۔
انہوں نے بینکنگ نظام کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کے لیے مخصوص کریڈٹ لائنز کے قیام، مقامی اور قومی کرنسیوں میں فنانسنگ کے فروغ اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مناسب اور قابلِ اعتماد ضمانتی نظام فراہم کرنے کی تجاویز پیش کیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تمام برکس ممالک باہمی تجارت، سرحد پار سے ہونے والی ادائیگیوں کے تحفظ اور عالمی مالیاتی اداروں میں دور رس اصلاحات کے لیے مربوط تعاون بڑھا رہے ہیں۔ اس حوالے سے برکس کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں نے بھی اپنے حالیہ اجلاس میں سرحد پار ادائیگیوں کے نظام کو وقت کے تقاضوں کے مطابق مزید موثر، کم لاگت، شفاف اور محفوظ بنانے کی ضرورت پر کامل اتفاق کیا ہے۔