

منصور احمد,September 17,2026
کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 16 ستمبر 2026ء
بلوچستان کی ژوب سینٹرل جیل سے جعلی عدالتی احکامات (روبکار) کے ذریعے منشیات کے مقدمات میں سزائے یافتہ دو خطرناک قیدیوں کے پراسرار طور پر رہا ہونے کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ جیل حکام کی جانب سے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد دونوں مفرور قیدیوں اور ایک نامعلوم سہولت کار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ غفلت برتنے پر ژوب جیل کے سپرنٹنڈنٹ سمیت تین اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
محکمہ جیل خانہ جات بلوچستان کے اعلیٰ حکام کے مطابق عبدالسلام اور امان اللہ نامی دونوں قیدی منشیات کی خریدو فروخت اور اسمگلنگ کے سنگین مقدمات میں 25، 25 سال قیدِ با مشقت کی سزائیں کاٹ رہے تھے۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ دونوں مجرموں کو 30 مئی کو جعلی عدالتی رہائی نامے کی بنیاد پر جیل سے رہا کیا گیا تھا، جس کی بھنک انتظامیہ کو کافی عرصے بعد لگی۔
جیل انتظامیہ کے مطابق جعلی رہائی کے احکامات مغرب کے وقت ایک نا معلوم شخص نے جیل کے مرکزی گیٹ پر تعینات ڈیوٹی اہلکار کے حوالے کیے۔ دستاویزات کی باضابطہ اور قانونی تصدیق کیے بغیر ہی ان جعلی کاغذات پر فوری عملدرآمد کر دیا گیا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں سنگین مجرم بآسانی جیل سے باہر نکل کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
واقعے کی تفصیلی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ژوب سٹی پولیس اسٹیشن میں دونوں مفرور قیدیوں اور جعلی روبکار لانے والے نامعلوم سہولت کار کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس کی مزید جامع تفتیش کرائمز برانچ کے حوالے کر دی گئی ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرنے اور جعل سازی میں ملوث گروہ کی نشان دہی کے لیے چھاپے مار رہے ہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر محکمہ جیل خانہ جات بلوچستان، ژوب پولیس اور تحقیقاتی اداروں کے باضابطہ اعلانات کے عین مطابق مرتب کی گئی ہے۔
ماخذ: ژوب جیل سیکیورٹی ڈیسک، کوئٹہ کرائمز رپورٹر نیوز اینڈ نیوز۔