نوشکی میں ٹارگٹ کلنگ کا افسوسناک واقعہ: بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے ضلعی صدر عبدالرحمان لانگو فائرنگ سے جاں بحق

منصور احمد,September 06,2026

نوشکی / کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے ایک افسوسناک واقعے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے ضلعی صدر اور معروف سیاسی و سماجی شخصیت عبدالرحمان لانگو نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس و سیکیورٹی حکام کے مطابق، یہ ٹارگٹڈ حملہ اتوار کی شب نوشکی شہر کے جنوب مغرب میں واقع علاقے کلی بٹو میں پیش آیا، جہاں مسلح ملزمان نے عبدالرحمان لانگو کو ان کی رہائش گاہ کے بالکل باہر اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ فائرنگ اتنی شدید تھی کہ وہ موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے، جبکہ حملہ آور رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

نوشکی پولیس کے ایس ایچ او عبدالحئی پرکانی نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ٹارگٹ کلنگ کے اس واقعے کے مختلف پہلوؤں اور ممکنہ محرکات کو سامنے رکھتے ہوئے وسیع پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ عبدالرحمان لانگو کا شمار نوشکی کی بااثر اور متحرک سیاسی و سماجی شخصیات میں ہوتا تھا۔ وہ بلوچستان عوامی پارٹی کے ضلعی صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کرنے کے علاوہ ماضی میں یونین کونسل باغک کے منتخب چیئرمین بھی رہ چکے تھے۔

واقعے کی خبر پھیلتے ہی نوشکی شہر اور گردونواح میں شدید تشویش، غم و غصے اور خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ فی الوقت کسی بھی کالعدم عسکریت پسند تنظیم یا کالعدم گروپ نے اس ہائی پروفائل قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سنسنی خیز واقعہ: کوئٹہ کراچی شاہراہ کے قریب سے 6 نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد

کاشف عباسی , September 06,2026

مستونگ / کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

بلوچستان کے حساس اور مرکزی ضلع مستونگ سے اتوار کے روز 6 نامعلوم افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جس کے بعد علاقے میں شدید سنسنی، خوف اور تحفظات کی لہر دوڑ گئی ہے۔

حکومتی و سرکاری ذرائع نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لاشیں کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کے قریب دو الگ الگ مقامات سے ملی ہیں۔ محکمہ داخلہ حکومتِ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی سے رابطہ کرنے پر انہوں نے لاشوں کی برآمدگی کی تصدیق کی اور بتایا کہ اس سلسلے میں مستونگ پولیس نے باقاعدہ بیان جاری کیا ہے۔

مستونگ پولیس کے باضابطہ اعلامیے کے مطابق، کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ڈی سی ہاؤس کے قریب سے 1 لاش جبکہ دتو موڑ کے مقام سے 5 افراد کی لاشیں ملیں۔ ایس ایچ او سٹی عبدالرؤف بلوچ کی نگرانی میں پولیس کی نگران ٹیم نے لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی اور شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔

تاہم، اس دردناک واقعے کے بعد مقامی رہائشیوں نے شدید تحفظات اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مستونگ کے مقامی رہائشی مالک بلوچ نے بتایا کہ لاشیں علی الصبح سڑک کے کنارے پھینکی گئی تھیں اور کافی دیر تک کھلے آسمان تلے سڑک کنارے پڑی رہیں۔

مقامی ذرائع نے یہ حیران کن انکشاف بھی کیا کہ پولیس اور ریسکیو اہلکار لاشوں کو اٹھا کر کوئٹہ منتقل کرنے کے لیے لے گئے تھے، لیکن پراسرار طور پر کچھ ہی دیر بعد انہیں دوبارہ لا کر مستونگ کی شاہراہ کے کنارے رکھ کر چھوڑ دیا گیا۔ شہریوں کے مطابق بعد ازاں ان لاشوں کو کسی سرکاری یا فلاحی ایمبولینس کے بجائے ایک زمیاد (Zamyad) گاڑی میں لاڈ کر کے نامعلوم جگہ منتقل کیا گیا۔

واقعے کے حقائق جاننے اور لاشوں کی منتقلی کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات پر مستونگ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم انہوں نے نہ تو فون کالز کا جواب دیا اور نہ ہی پیغامات کا کوئی ردِعمل سامنے آیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

کویٹہ میں سیف سٹی اتھارٹی کا اہم اجلاس: وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی کا سیکیورٹی اور ٹیکنالوجی کی بہتری کے لیے پنجاب سے تعاون حاصل کرنے کا اعلان

محمود احمد, August 24,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی صدارت میں بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں امن و امان، جرائم کی روک تھام اور ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ سیف سٹی اتھارٹی امن و امان کے قیام، جرائم کی سرکوبی اور شہریوں کے تحفظ میں انتہائی مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے آئی جی پولیس محمد طاہر خان نے بتایا کہ سیف سٹی کے نگرانی کے جدید نظام کی مدد سے ملک بھر سے چوری کی گئی 138 گاڑیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ 9 مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کے ذریعے دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اتھارٹی نے مختلف جرائم کے مقامات سے متعلق پولیس کو 631 اہم شواہد فراہم کیے جن سے ملزمان کی گرفتاری ممکن ہوئی۔ اس کے علاوہ 15 مددگار ایمرجنسی رسپانس سروس کو سی ٹی ڈی سے منسلک کر دیا گیا ہے تا کہ ہنگامی حالات میں بروقت ایکشن لیا جا سکے۔

وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سیف سٹی اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اعلان کیا کہ بلوچستان میں اس نظام کی استعداد کار بڑھانے کے لیے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے تجربات اور تکنیکی مہارت سے استفادہ کیا جائے گا، جس کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب کو باضابطہ مراسلہ بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سیکیورٹی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے صوبے کے دیگر اضلاع تک وسعت دی جائے تاکہ عوامی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

یومِ شہدائے پولیس: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا خراجِ تحسین، شہدا کو قوم کا عظیم سرمایہ اور ماتھے کا جھومر قرار دے دیا

منصور احمد, August 04,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پولیس کے شہدا کو قوم کا عظیم سرمایہ اور پاکستان کے ماتھے کا جھومر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وطن کے امن، قانون کی بالادستی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والے بہادروں نے وفا، شجاعت اور فرض شناسی کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں۔

یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پولیس کے افسران اور جوانوں کی قربانیاں ہماری قومی تاریخ کا ایک روشن اور درخشندہ باب ہیں، جسے قوم ہمیشہ عزت، احترام اور فخر کے ساتھ یاد رکھے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان پولیس گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی، انتہا پسندی اور جرائم کے خلاف پہلی صف میں برسرِ پیکار ہے اور پولیس کی انہی بے مثال قربانیوں کی بدولت آج صوبے میں امن و امان کی صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے اور ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم خاک میں ملائے جا چکے ہیں۔

میر سرفراز بگٹی نے بالخصوص زیارت کے شہدائے پولیس کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان عظیم سپوتوں نے دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے جرات، استقامت اور حب الوطنی کی ایسی نادر مثال قائم کی ہے جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے زیارت کے شہدا کے اہلِ خانہ کے صبر اور قربانیوں کو زبردست سلام پیش کیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان نے شہدا کے ورثا کی عزت، فلاح و بہبود اور مالی معاونت کو اپنی بنیادی ریاستی ذمہ داری سمجھتے ہوئے متعدد عملی اقدامات کیے ہیں اور یہ سلسلہ مزید موثر انداز میں جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ شہدا کے بچوں کی معیاری تعلیم، صحت اور دیگر تمام ضروریات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت بلوچستان پولیس فورس کی استعدادِ کار میں اضافے، جدید ترین تربیت، اسلحہ، حفاظتی سازوسامان، جدید ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے بھرپور سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ فورس ہر قسم کے سیکیورٹی چیلنجز سے نبٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں امن، قانون کی حکمرانی اور عوامی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور شہدائے پولیس کے مقدس مشن کو ہر قیمت پر انجام تک پہنچایا جائے گا۔