لاہور کی خصوصی اینٹی ریپ عدالت کا بڑا فیصلہ: 6 سالہ بچی کے ساتھ جنسی استحصال کی کوشش پر ملزم اصغر کو 14 سال قید کی سزا

منصور احمد,September 11,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی خصوصی اینٹی ریپ عدالت نے چھ سالہ معصوم بچی کے ساتھ جنسی استحصال اور ریپ کی کوشش کا جرم ثابت ہونے پر ملزم اصغر کو 14 سال قید با مشقت اور 50 ہزار روپے مالی جرمانے کا باضابطہ حکم سنا دیا ہے۔

یہ اہم اور عبرتناک فیصلہ خصوصی اینٹی ریپ عدالت کے فاضل ایڈیشنل سیشن جج ظفر یاب چدھڑ نے کیس کا مکمل ٹرائل اور دلائل مکمل ہونے کے بعد سنایا۔

اس افسوسناک واقعے کا باضابطہ مقدمہ 24 مارچ 2025ء کو لاہور کے تھانہ ساؤتھ کینٹ میں متاثرہ چھ سالہ بچی کے والد کی مدعیت میں نامزد ملزم اصغر کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ پولیس میں درج کروائی گئی ایف آئی آر میں متاثرہ بچی کے والد نے موقف اختیار کیا تھا کہ 23 مارچ 2025ء کی شام جب وہ اپنے گھر پہنچے تو ان کی چھ سالہ بیٹی نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کا ایک محلے دار اصغر اسے بہلا پھسلا کر اپنے گھر لے گیا اور وہاں اس کے ساتھ ریپ کرنے کی کوشش کی۔ تاہم معصوم بچی کے بروقت شور مچانے پر ملزم گھبرا کر بچی کو اپنے گھر میں ہی چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گیا۔

لاہور پولیس نے اس مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی سخت ترین دفعہ 377 بی شامل کی تھی، جو کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے ہر قسم کے جنسی استحصال اور زبردستی پر عائد کی جاتی ہے۔ یہ قانونی طور پر ایک سنگین اور ناقابلِ ضمانت جرم ہے جس میں قانون کے تحت کم از کم سزا 14 برس اور زیادہ سے زیادہ 20 سال قید مقرر ہے۔

کیس کی نوعیت کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس نے اس مقدمے کا مکمل چالان خصوصی اینٹی ریپ عدالت میں بھیجا، جہاں فاضل عدالت نے ملزم پر 7 جولائی 2025ء کو باضابطہ فردِ جرم عائد کی تھی۔ ٹرائل کے آغاز پر ملزم نے صحتِ جرم سے صاف انکار کیا تھا جس کے بعد عدالت نے باقاعدہ شہادتوں اور گوابان کی طلب کا سلسلہ شروع کیا۔

عدالتی کارروائی کے حوالے سے سینئر پراسیکیوٹر رضوان محمود نے بتایا کہ اس حساس کیس میں استغاثہ کی جانب سے کل 8 گواہان نے عدالت میں پیش ہو کر اپنے بیانات ریکارڈ کروائے اور سائنسی و طبی ثبوت کے طور پر میڈیکل رپورٹ بھی باقاعدہ مثلِ مقدمہ کا حصہ بنائی گئی۔

دورانِ سماعت عدالت عالیہ نے تمام گواہان کے بیانات، فورنسک و میڈیکل رپورٹس، دیگر ٹھوس شواہد اور پراسیکیوشن کی جانب سے دیے گئے حتمی دلائل کی روشنی میں ملزم اصغر کو بلا شبہ قصوروار قرار دیا اور اسے 14 سال قید با مشقت اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا کا فیصلہ سنا دیا۔