

منصور احمد, JULY 21,2026
واشنگٹن ڈی سی (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء
امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگون) نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ رواں ماہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے متعدد فضائی اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں تقریباً 100 امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
پینٹاگون کے مرکزی ترجمان سین پارنیل نے ذرائع ابلاغ کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 7 جولائی 2026ء کے بعد سے شروع ہونے والی ایرانی حملوں کی نئی لہر میں 100 کے قریب امریکی فوجیوں کو مختلف نوعیت کے زخم آئے ہیں۔ تاہم ترجمان نے واضح کیا کہ ان میں سے 96 فیصد اہلکار معمولی زخمی تھے، جو ابتدائی طبی امداد کے بعد دوبارہ اپنے فرائضِ منصبی کی ادائیگی کے لیے ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔
گزشتہ ہفتے کے اختتام پر امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری کردہ تشویشناک رپورٹس کے مطابق اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 2 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ ایک لاپتہ فوجی اہلکار کے مقام سے نامعلوم باقیات ملی ہیں۔ اس کے علاوہ عراق میں ایرانی خودکش ڈرون کے باقی ماندہ دھماکا خیز مواد کو کنٹرولڈ طریقے سے تباہ کرنے کے دوران ایک اور امریکی فوجی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ پینٹاگون نے فی الحال تازہ ترین حملوں کے مکمل نقصانات اور زخمیوں کی حتمی فہرست کو بوجوہ عام نہیں کیا۔
امریکی فوج کے ہلاک اور زخمی اہلکاروں کا مکمل ریکارڈ رکھنے والے ادارے ‘ڈیفنس کیژولٹی اینالیسس سسٹم’ کے مطابق، امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ عسکری تصادم کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 413 سے زائد امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں (جس میں جاری جولائی کے مہینے کے زخمی شامل نہیں ہیں)۔ اعداد و شمار کی الگ رپورٹ کے مطابق زخمیوں کی یہ تعداد 427 تک جا پہنچتی ہے، جبکہ اردن اور عراق میں ہونے والی تازہ ہلاکتوں کو شامل کرنے کے بعد اس تصادم میں اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی کل تعداد 17 ہو گئی ہے۔