

کاشف عباسی , August 29,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان کو لاحق موسمیاتی تبدیلی، شدید موسموں اور قدرتی آفات کے درپیش خطرات کے حوالے سے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اس وقت پاکستان کی پائیدار بقا، زراعت اور قومی معیشت کے لیے ایک سب سے بڑا اور سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو بار بار آنے والے تباہ کن سیلابوں، گلیشیئرز پگھلنے کے واقعات، اور خشکسالی جیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر ایک جامع، مربوط اور طویل المدتی حکمتِ عملی نافذ کرنا ہوگی۔
ہفتے کے روز دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے اپنے صدارتی خطاب کے دوران وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان کی جغرافیائی نازکی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے عالمی اخراج میں پاکستان کا حصہ انتہائی معمولی اور 1 فیصد سے بھی کم ہے، تاہم اس کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں نمایا ں اور پیش پیش ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سنگین اور تباہ کن چیلنج سے نمٹنے کے لیے نہ صرف پاکستان کے اندر تمام متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو قریبی اور باہم مربوط طریقے سے کام کرنا ہوگا، بلکہ اس مقصد کے لیے عالمی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مالی وسائل کی ہنگامی فراہمی بھی بے حد ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے دنیا کے ترقی یافتہ اور باوسائل ممالک پر اپنے اخلاقی و عالمی فرائض کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے ہولناک اثرات کو کم کرنے اور ان سے بچاؤ کے لیے اجتماعی اور عالمی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جن عالمی طاقتوں اور خطوں کے پاس اس قدرتی بحران سے نمٹنے کی مالی صلاحیت، جدید انفراسٹرکچر اور وسائل موجود ہیں، انہیں عالمی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستان جیسے متاثرہ ممالک کا ساتھ دینا چاہیے اور اس حوالے سے اپنا عملی کردار بلاتاخیر ادا کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان عالمی سفارتی محاذ پر “موسمیاتی انصاف” کے حصول کے لیے اپنا مقدمہ انتہائی بھرپور، مضبوط اور دلائل کے ساتھ پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسماتی آفات کے نتیجے میں کھربوں روپے کے معاشی اور جانی نقصانات اٹھانے والے دنیا کے ترقی پذیر ممالک کو عالمی برادری، اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی اداروں کی بھرپور اور بلا مشروط مالی و تکنیکی معاونت درکار ہے تاکہ وہ قدرتی آفات کی شدت اور تباہ کاریوں سے اپنے بنیادی انفراسٹرکچر کا پائیدار تحفظ کر سکیں۔
اپنے خطاب کے دوران ڈاکٹر مصدق ملک نے ملک کے اندر ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی موافقت کو یقینی بنانے کے لیے ہمہ گیر مربوط پالیسیوں کی فوری تشکیل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کے بعد ہونے والے تباہ کن نقصانات میں کمی لانے کے لیے مقامی دیہی و شہری آبادیوں کی استعداد کار کو بڑھانا ہوگا، جبکہ آفت آنے سے قبل ہی پیشگی اطلاع کے جدید نظام اور باقاعدہ پیشگی تیاری و منصوبہ بندی کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا اور یقینی بنانا ناگزیر ہے تاکہ معصوم انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔
وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے اپنے بیان کا اختتام اس عزم اور پیغام کے ساتھ کیا کہ موسمیاتی تبدیلی محض کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ اور انتہائی ہنگامی عالمی چیلنج ہے۔ اس خطرے پر قابو پانے کے لیے جہاں پاکستان کی سطح پر اندرونی طور پر ہنگامی بنیادوں پر اداروں کی اصلاحات اور شجرکاری جیسے اقدامات ضروری ہیں، وہی عالمی سطح پر بین الاقوامی تعاون، مالی وسائل کا تبادلہ اور اقوامِ عالم کی مشترکہ و مخلصانہ کوششوں کو فروغ دینا وقت کی سب سے بڑی اور اہم ضرورت ہے۔