صنعتی انقلاب 5.0 کے چیلنجز؛ ایچ ای سی کی ملک بھر کی جامعات کو ڈگری پروگراموں اور نصاب پر نظرثانی کی ہدایت

روزینہ اسماعیل, JULY 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے عالمی صنعتی انقلاب 5.0 کے ابھرتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے ملک بھر کی جامعات کو باقاعدہ ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنے تمام ڈگری پروگراموں اور نصاب کا ازسرِ نو جامع جائزہ لے کر انہیں جدید ترین خطوط پر ڈھالیں۔ ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیہ کے مطابق، اس تزویراتی اقدام کا بنیادی مقصد ملکی اعلیٰ تعلیمی نظام کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق بنانا، طلبہ کو جدید ترین ٹیکنالوجیکل مہارتوں سے آراستہ کرنا اور پاکستان کو گرین، ڈیجیٹل اور ایک جامع علمی معیشت کی جانب منتقلی میں بھرپور معاونت فراہم کرنا ہے۔

اعلامیہ میں ملک بھر کے وائس چانسلرز اور تعلیمی سربراہان پر زور دیا گیا ہے کہ جامعات اپنے نصاب کو مستقبل کی افرادی قوت کی حقیقی ضروریات کے مطابق ترتیب دیں، جبکہ مصنوعی ذہانت ، ڈیجیٹل اسکلز اور دیگر ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز کو تمام مروجہ تعلیمی پروگراموں کا لازمی حصہ بنائیں۔ اس کے ساتھ ہی، صنعتی شعبوں اور جامعات کے مابین روابط کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط کرنے اور طلبہ کے لیے عملی تعلیم کے مواقع بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ مارکیٹ کے مطابق افرادی قوت پیدا کی جا سکے۔ ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ اس تعلیمی اصلاحات کے عمل میں طلبہ کے اندر تنقیدی سوچ، اختراع اور کاروباری صلاحیتوں کے فروغ پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق، اس بڑے پیمانے پر شروع کیے جانے والے قومی تبدیلی کے عمل میں جامعات، قومی نصاب جائزہ کمیٹیاں، ڈگریوں کی منظوری دینے والے مقتدر ادارے، صنعتی شعبے کے نمائندے اور مختلف مضامین کے نامور ماہرین مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں، جبکہ یہ تمام سرگرمیاں ایک خصوصی قومی ٹاسک فورس کی براہِ راست نگرانی اور رہنمائی میں انجام دی جا رہی ہیں۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ جامعات کو نئے اور ابھرتے ہوئے تعلیمی شعبہ جات کی فوری نشاندہی کرنے، موجودہ پروگراموں کو اپ گریڈ کرنے اور ایسے قابلِ فخر فارغ التحصیل نوجوان تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جو صنعتی انقلاب 5.0 کے مواقع سے ملکی معیشت کے لیے بھرپور فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ یہ تزویراتی اقدام پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کو عالمی رجحانات کے مطابق بنانے اور قومی اقتصادی ترقی میں جامعات کے تعمیری کردار کو مزید مؤثر اور فعال بنانے کی جانب ایک اہم ترین پیشرفت ثابت ہوگا۔