اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت کا انضمام وقت کی اہم ضرورت: بین الصوبائی تعلیمی اداروں کے اجلاس سے چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر کا خطاب

کاشف عباسی , September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا ہے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز خصوصاً مصنوعی ذہانت کا اعلیٰ تعلیم کے نظام میں مؤثر انضمام پاکستانی جامعات اور طلبہ کو مستقبل کے چیلنجز اور عالمی مواقع کے لیے تیار کرنے کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں وفاقی و صوبائی تعلیمی اداروں کے ایک اعلیٰ سطح کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں پنجاب ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر اقرار احمد خان، سندھ ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے محکمۂ اعلیٰ تعلیم کے اعلیٰ نمائندگان کے علاوہ ایچ ای سی کے کوالٹی ایشورنس اور ریسرچ اینڈ انوویشن ڈویژن کے حکام نے شرکت کی۔

چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے زور دیا کہ اعلیٰ تعلیمی شعبے کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے وفاق اور تمام صوبائی کمیشنز کے درمیان باہمی تعاون اور مربوط حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ باقاعدہ مشاورت اور بہتر رابطہ کاری سے ہی ملک بھر میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو یکساں اور بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے جامعات پر زور دیا کہ وہ اپنے اساتذہ اور طلبہ کو مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کریں، جبکہ تحقیق، جدت اور تجارتی و کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد پاکستانی یونیورسٹیوں کو عالمی سائنسی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ رکھنا ہے تاکہ وہ ابھرتی ہوئی علمی اور ڈیجیٹل معیشت میں اپنا موثر کردار ادا کر سکیں۔

اجلاس کے تمام شرکاء نے اعلیٰ تعلیمی پالیسیوں پر وسیع تر اتفاقِ رائے قائم رکھنے، مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور باقاعدہ رابطوں کے سلسلہ کو قائم رکھنے پر مکمل اتفاق کیا۔

ایچ ای سی کے سمارٹ کلاس روم نیٹ ورک کے ذریعے اسلام آباد، راولپنڈی اور دیگر اضلاع کے 330 سے زائد اساتذہ کی آن لائن اور آن سائیٹ تربیت؛ ایم ڈی ‘ناہے’ ڈاکٹر نور آمنہ ملک کا اختتامی تقریب سے خطاب


روزینہ اسماعیل, September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے، نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سرکاری شعبے کی یونیورسٹیوں اور کالجوں کے اساتذہ کے لیے چار روزہ جامع تربیتی پروگرام کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے۔

“اساتذہ کے لیے مصنوعی ذہانت کی آگاہی: مصنوعی ذہانت کے لیے تیار اداروں کی تعمیر” کے عنوان سے منعقدہ اس تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد سرکاری جامعات کے لیکچررز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کو تعلیمی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے مؤثر اور اخلاقی استعمال کے قابل بنانا تھا۔

ایچ ای سی کے جدید ‘سمارٹ کلاس روم نیٹ ورک’ کے تحت منعقدہ اس چار روزہ کورس میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی جامعات سے تعلق رکھنے والے 32 اساتذہ نے ایچ ای سی ہیڈکوارٹر کے سمارٹ کلاس روم میں براہِ راست (آن سائیٹ) شرکت کی، جبکہ ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیوں میں قائم سمارٹ کلاس رومز اور ویڈیو کانفرنس رومز کے ذریعے 300 سے زائد اساتذہ نے آن لائن اس تربیتی سیشن میں حصہ لیا اور ماہرین کے ساتھ سوال و جواب کیے اور فوری تفاعل گفتگو کی۔

اس اختراعی ٹریننگ کے دوران پروفیسروں اور لیکچررز کو نصاب کی جدید تشکیل، دروس کی منصوبہ بندی تدریسی مواد کی تیاری، سائنسی و تعلیمی تحریر، تحقیقی معاونت، طلبہ کی کارکردگی پر ڈیٹا اینالیٹکس، اور امتحانی جائزے جیسے مختلف شعبوں میں AI ٹولز کے عملی اطلاق اور “انسان اور کے باہمی تعامل” کے اصولوں کی تربیت فراہم کی گئی۔

اختتامی تقریب میں نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کی منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اعلیٰ تعلیم، ریسرچ اور علم کی تخلیق کے روایتی طریقوں کو تیزی سے بدل رہی ہے۔

ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے زور دیا کہ جامعات کو اپنے اساتذہ اور طلبہ کو ای آئی سے لیس ماحول کے لیے فوری طور پر تیار کرنا ہو گا، تاہم انہوں نے انبہانہ انداز میں کہا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے دوران تعلیمی معیار، اخلاقی تحفظات، انسانی بصیرت اور ادارہ جاتی ذمہ داری کو ہر صورت برقرار رکھنا ہو گا۔

صنعتی انقلاب 5.0 کے چیلنجز؛ ایچ ای سی کی ملک بھر کی جامعات کو ڈگری پروگراموں اور نصاب پر نظرثانی کی ہدایت

روزینہ اسماعیل, JULY 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے عالمی صنعتی انقلاب 5.0 کے ابھرتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے ملک بھر کی جامعات کو باقاعدہ ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنے تمام ڈگری پروگراموں اور نصاب کا ازسرِ نو جامع جائزہ لے کر انہیں جدید ترین خطوط پر ڈھالیں۔ ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیہ کے مطابق، اس تزویراتی اقدام کا بنیادی مقصد ملکی اعلیٰ تعلیمی نظام کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق بنانا، طلبہ کو جدید ترین ٹیکنالوجیکل مہارتوں سے آراستہ کرنا اور پاکستان کو گرین، ڈیجیٹل اور ایک جامع علمی معیشت کی جانب منتقلی میں بھرپور معاونت فراہم کرنا ہے۔

اعلامیہ میں ملک بھر کے وائس چانسلرز اور تعلیمی سربراہان پر زور دیا گیا ہے کہ جامعات اپنے نصاب کو مستقبل کی افرادی قوت کی حقیقی ضروریات کے مطابق ترتیب دیں، جبکہ مصنوعی ذہانت ، ڈیجیٹل اسکلز اور دیگر ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز کو تمام مروجہ تعلیمی پروگراموں کا لازمی حصہ بنائیں۔ اس کے ساتھ ہی، صنعتی شعبوں اور جامعات کے مابین روابط کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط کرنے اور طلبہ کے لیے عملی تعلیم کے مواقع بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ مارکیٹ کے مطابق افرادی قوت پیدا کی جا سکے۔ ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ اس تعلیمی اصلاحات کے عمل میں طلبہ کے اندر تنقیدی سوچ، اختراع اور کاروباری صلاحیتوں کے فروغ پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق، اس بڑے پیمانے پر شروع کیے جانے والے قومی تبدیلی کے عمل میں جامعات، قومی نصاب جائزہ کمیٹیاں، ڈگریوں کی منظوری دینے والے مقتدر ادارے، صنعتی شعبے کے نمائندے اور مختلف مضامین کے نامور ماہرین مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں، جبکہ یہ تمام سرگرمیاں ایک خصوصی قومی ٹاسک فورس کی براہِ راست نگرانی اور رہنمائی میں انجام دی جا رہی ہیں۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ جامعات کو نئے اور ابھرتے ہوئے تعلیمی شعبہ جات کی فوری نشاندہی کرنے، موجودہ پروگراموں کو اپ گریڈ کرنے اور ایسے قابلِ فخر فارغ التحصیل نوجوان تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جو صنعتی انقلاب 5.0 کے مواقع سے ملکی معیشت کے لیے بھرپور فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ یہ تزویراتی اقدام پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کو عالمی رجحانات کے مطابق بنانے اور قومی اقتصادی ترقی میں جامعات کے تعمیری کردار کو مزید مؤثر اور فعال بنانے کی جانب ایک اہم ترین پیشرفت ثابت ہوگا۔