بھارت کی ہندوتوا حکومت اپنی کشمیر دشمن اور ظالمانہ پالیسیوں کے ذریعے تنازعۂ کشمیر کی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی، جموں و کشمیر کے بارے میں بھارتی ہٹ دھرمی عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، کل جماعتی حریت کانفرنس کا اسلام آباد سے مشترکہ اعلامیہ جاری

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سینئر ترین رہنماؤں نے مودی حکومت کی فاشسٹ پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ بھارت کی متعصب ہندوتوا حکومت اپنے تمام تر ظلم و ستم، سفاکانہ کشمیر دشمن ہتھکنڈوں اور ظالمانہ پالیسیوں کے باوجود عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعۂ کشمیر کی تاریخی و قانونی حقیقت کو کسی صورت تبدیل نہیں کر سکتی، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے مقتدر سینیئر رہنماؤں محمد فاروق رحمانی، حاجی سلطان بٹ اور چودھری شاہین اقبال نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے ایک اہم ترین مشترکہ ترین بیان جاری کرتے ہوئے دیرینہ تنازعۂ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے پر کڑا زور دیا ہے، حریت قیادت کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کے حوالے سے نئی دہلی کی ہٹ دھرمی اور ہٹلر شاہی پر مبنی جابرانہ پالیسی اب صرف جنوبی ایشیا کے خطے کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک ہولناک اور سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

حریت رہنماؤں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ ترین زمینی صورتحال پر گہرے افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ سفاک بھارتی افواج نے وادی میں کشمیری عوام کی حق پر مبنی اور پرامن جدوجہدِ آزادی کو بندوق کے زور پر دبانے کے لیے وحشیانہ ظلم و تشدد، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھروں پر آدھی رات کو چھاپوں، فوجی محاصروں اور تلاشی کی نام نہاد کارروائیوں سمیت جبری گرفتاریوں اور سیاسی انتقام کا کڑا سلسلہ حد سے زیادہ تیز کر دیا ہے، کشمیری قیادت نے جابر بھارتی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے حوالے سے اپنی نوآبادیاتی اور غاصبانہ پالیسی کو فی الفور ترک کرے اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت فراہم کرتے ہوئے اس دیرینہ مسئلے کے پرامن، منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے سفارتی راہ ہموار کرے، انہوں نے عالمی برادری کو مطلع کیا کہ بھارت نے حریت کی صفِ اول کی قیادت سمیت ہزاروں معصوم کشمیری نوجوانوں کو کالے قوانین کے تحت جھوٹے، من گھڑت اور بے بنیاد مقدمات میں ملوث کر کے تہاڑ جیل سمیت دیگر بدنام زمانہ بھارتی عقوبت خانوں اور جیلوں میں غیر قانونی طور پر قید کر رکھا ہے، لیکن ان تمام تر جابرانہ ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیری عوام کے لازوال جذبۂ حریت اور آزادی کی تڑپ کو ذرہ برابر بھی کمزور نہیں کیا جا سکا۔

مشترکہ اعلامیے میں حریت رہنماؤں نے اس فولادی عزم کا اعادہ کیا کہ مقبوضہ وادی کے چپے چپے پر گرنے والا کشمیری شہداء کا پاک خون اور ان کی عظیم قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی اور مظلوم کشمیری عوام اپنی اس منصفانہ جدوجہدِ آزادی کو اس کے منطقی انجام اور مکمل آزادی تک پہنچانے کے لیے ہر محاذ پر پرعزم ہیں، انہوں نے اقوامِ متحدہ ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور بااثر عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے بدترین مظالم، ماورائے عدالت قتل، انسانی حقوق کی سنگین ترین پامالیوں اور کشمیریوں کے سیاسی جبر کا فوری اور کڑا نوٹس لے، اور بھارت پر سفارتی و اقتصادی دباؤ ڈال کر تنازعۂ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے میں اپنا مؤثر اور تاریخی کردار ادا کرے تاکہ خطے کو مستقل تباہی سے بچایا جا سکے۔