

کاشف عباسی ,june 01,2026
کراچی (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء
صوبائی دارالحکومت کراچی میں منشیات فروشی کے ایک انتہائی خطرناک، اچھوتے اور حیران کن طریقۂ کار کا انکشاف ہوا ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے مبینہ طور پر مہنگی ترین منشیات ‘کوکین’ کو معصوم بچوں کے کھانے والے چپس اور پاپڑ کے پیکٹوں میں چھپا کر شہر کے مختلف حصوں میں سپلائی کیا جا رہا ہے۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق، گروہ کی مبینہ مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے باوجود اس کا یہ نیٹ ورک اب بھی پسِ پردہ مکمل طور پر سرگرم ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں اپنی مکروہ کارروائیاں بلاخوف جاری رکھے ہوئے ہے۔
مرکزی ملزمہ کی گرفتاری اور نیٹ ورک کا تحرک رپورٹس کے مطابق، کراچی پولیس اور سویلین انٹیلی جنس اداروں نے ایک مشترکہ اور کامیاب کارروائی کے دوران سنگین منشیات فروشی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے متعدد مقدمات میں مطلوب اہم ملزمہ انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا۔ تاہم، ملزمہ سے ہونے والی بعد ازاں تفتیش اور تحقیقات میں یہ ہولناک انکشاف ہوا کہ اس خطرناک نیٹ ورک کے دیگر مفرور ارکان اب بھی شہر میں پوری طرح متحرک ہیں اور قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے منشیات کی ترسیل کے نت نئے خفیہ طریقے اختیار کر رہے ہیں۔
پوش علاقوں اور ریسٹورنٹس میں خفیہ سپلائی کا طریقہ حساس تحقیقاتی ذرائع کے مطابق، ان منشیات فروشوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سخت نگرانی اور ناکہ بندیوں سے بچنے کے لیے کوکین کو عام چپس اور پاپڑ کے سیل بند پیکٹوں میں چھپانے کا طریقہ اپنایا ہے۔ یہ سپلائرز ان پیکٹوں کو باآسانی گھروں، شہر کے پوش علاقوں، بڑے بڑے بنگلوں اور بعض معروف ریسٹورنٹس و ہوٹلوں تک پہنچا رہے ہیں تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔
مبینہ آڈیو ریکارڈنگ اور ڈیلیوری کا طریقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران ایک مبینہ آڈیو گفتگو بھی سامنے آئی ہے جس میں ایک سپلائر نے اپنے گاہک کو کوڈ ورڈز میں بتایا کہ ڈیلیوری کے دوران اسے چپس کے متعدد عام پیکٹ بھیجے جائیں گے، جن میں سے کسی ایک مخصوص پیکٹ کے اندر کوکین رکھی گئی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی، قانون کی نظروں سے اوجھل رہنے کے لیے اس نیٹ ورک نے مالی لین دین (پیسوں کی ادائیگی) کے طریقے بھی مکمل طور پر تبدیل کر دیے ہیں۔
ڈیجیٹل والٹس اور عارضی بینک اکاؤنٹس کا استعمال حالیہ تحقیقات کے مطابق، منشیات کی اس خرید و فروخت کے لیے اب نقد رقم کے بجائے عارضی بینک اکاؤنٹس، موبائل ڈیجیٹل والٹس اور صرف ایک بار استعمال ہونے والے آن لائن ادائیگی کے نظام (ون ٹائم پیمنٹ سسٹم) کا سہارا لیا جا رہا ہے، تاکہ بینکنگ چینلز کے ذریعے رقم کی منتقلی اور اس کے اصل مالک کا سراغ لگانا ناممکن بنایا جا سکے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اس منظم نیٹ ورک کے باقی تمام مفرور ارکان، ان کی بین الاقوامی سپلائی چین اور مالی معاونت کرنے والے پوشیدہ ذرائع تک پہنچنے کے لیے تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق، ہماری نوجوان نسل اور بچوں کے مستقبل کو نشانہ بنانے والے ایسے سنگین اور قبیح جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کیا جائے گا تاکہ روشنیوں کے شہر میں منشیات کی ترسیل کے اس خطرناک رجحان کا جڑ سے خاتمہ کیا جا سکے۔